Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایمیزون کی نئی اے آئی ڈیوائسز، جو آپ کی دن بھر کی باتیں یاد رکھیں گی

نئی ڈیوائسز میں ’بی فرنٹیئر‘ نامی ایک ویئر ایبل بینڈ اور ’بی ایکلیپس‘ نامی کریڈٹ کارڈ کے سائز کا ریکارڈر شامل ہے (فائل فوٹو: ایمازون)
امریکہ کی مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی دو نئی ڈیوائسز متعارف کرا دی ہیں، جو صارفین کی گفتگو ریکارڈ کرنے، اسے تحریر میں تبدیل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کمپنی کے مطابق نئی ڈیوائسز میں ’بی فرنٹیئر‘ نامی ایک ویئرایبل بینڈ اور ’بی ایکلیپس‘ نامی کریڈٹ کارڈ کے سائز کا ریکارڈر شامل ہے، جسے سمارٹ فون کے پچھلے حصے پر مقناطیس کی مدد سے لگایا جا سکتا ہے۔
’سی این بی سی‘ کے مطابق بی فرنٹیئر، کمپنی کی پہلے سے موجود ڈیوائس کا جدید ورژن ہے جسے کلائی پر پہنا جا سکتا ہے یا کپڑوں کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی بیٹری سات دن تک چل سکتی ہے، جبکہ اس کی قیمت 75 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے پہلے آنے والے ماڈل کی قیمت 50 ڈالر تھی۔
دوسری جانب ’بی ایکلیپس‘ کی قیمت 100 ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ڈیوائس جلد دستیاب ہوگی، جبکہ ’بی فرنٹیئر‘ کی فروخت شروع کر دی گئی ہے۔

خصوصیات

ایمیزون نے جولائی 2025 میں سان فرانسسکو میں قائم سٹارٹ اپ ’بی‘ کو خرید لیا تھا، جو مصنوعی ذہانت سے لیس ایسے بریسلیٹس بنانے کے لیے مشہور ہے جو گفتگو ریکارڈ کرنے، اسے تحریری شکل دینے اور اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی نے اس معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں۔
ایمیزون کے مطابق ’بی فرنٹیئر میں دو مائیکروفونز نصب ہیں، جن میں شور کم کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اس کی مدد سے رش والے ریستورانوں اور کھلے دفاتر جیسے مقامات پر بھی اہم گفتگو کو شناخت کرنا آسان ہوگا۔‘
بی ڈیوائسز کی خاص بات یہ ہے کہ فعال ہونے کی صورت میں یہ مسلسل آواز ریکارڈ کرتی ہیں۔ اس کے ذریعے صارفین اپنی گفتگو کے خلاصے حاصل کر سکتے ہیں اور گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی بات چیت سے متعلق معلومات دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔
یہ ڈیوائسز گفتگو میں بار بار سامنے آنے والے موضوعات اور رجحانات کی نشان دہی بھی کر سکتی ہیں، جس کی بنیاد پر صارفین کو ذاتی نوعیت کے اہداف اور اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

پرائیویسی سے متعلق سوالات

ایمیزون کا کہنا ہے کہ بی ڈیوائسز اس انداز میں تیار کی گئی ہیں کہ کمپنی سمیت کسی کو بھی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ ہو۔ کمپنی کے مطابق صارفین اپنی گفتگو کے تحریری ریکارڈ اور خلاصے کسی بھی وقت حذف کر سکتے ہیں، جبکہ آڈیو محفوظ نہیں کی جاتی۔

ڈیوائسز پر نصب ایل ای ڈی لائٹ صارف کو بتاتی ہے کہ ریکارڈنگ جاری ہے (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

کمپنی کے مطابق ڈیوائسز پر نصب ایل ای ڈی لائٹ صارف کو بتاتی ہے کہ ریکارڈنگ جاری ہے۔
تاہم، مسلسل گفتگو ریکارڈ کرنے والی مصنوعی ذہانت کی ڈیوائسز کے استعمال سے رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی جنم لیتے ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں گفتگو میں شریک دوسرے افراد کو ریکارڈنگ کے بارے میں علم نہ ہو۔
بی کی پرو سبسکرپشن کی قیمت 12 ڈالر ماہانہ ہے، جس کے تحت صارفین غیر محدود گفتگو کے خلاصے، روزانہ کی یادداشتیں اور ایمیزون کے آن لائن سٹور، الیکسا پلس اور دیگر ایپس کے ساتھ انضمام جیسی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی ڈیوائسز کی مارکیٹ میں مقابلہ

ایمیزون کی نئی ڈیوائسز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو روزمرہ استعمال کی مصنوعات میں شامل کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔
میٹا کے مصنوعی ذہانت سے لیس سمارٹ گلاسز، پلاؤڈ کے کارڈ نما نوٹ لینے والے آلے اور فرینڈ (Friend) کے اے آئی نیکلیس سمیت متعدد مصنوعات اس مارکیٹ میں موجود ہیں۔
میٹا کے سمارٹ گلاسز میں کیمرہ بھی نصب ہے، تاہم ان کے استعمال سے رازداری اور شہری حقوق کے حوالے سے صارفین، سماجی تنظیموں اور قانون سازوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ایمیزون کا کہنا ہے کہ ’اس کی نئی ڈیوائسز صارفین کو گفتگو یاد رکھنے اور اہم معلومات دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔‘ تاہم، ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ صارفین مسلسل ریکارڈنگ کی سہولت کو کس حد تک قابلِ اعتماد اور محفوظ سمجھتے ہیں۔

شیئر: