Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دماغ کیسے کام کرتا ہے؟‘، راز افشا کرنے والے تین سائنس دانوں نے طب کا نوبیل انعام جیت لیا

کارل ڈائیسیروتھ نے نوبیل فاؤنڈیشن سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ میرے لیے ایک ناقابلِ یقین اور غیر متوقع اعزاز ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
طب کے شعبے کا نوبیل انعام امریکی ماہرِ نفسیات و اعصابیات کارل ڈائیسیروتھ اور جرمن سائنس دان پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل کو اعصابی سائنس کے شعبے آپٹوجینیٹکس میں ان کی غیر معمولی تحقیق پر دیا گیا۔
آپٹوجینیٹکس ایک ایسی تکنیک ہے جس میں روشنی کے ذریعے اعصابی سگنلز کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ مخصوص خلیات سیکھنے، خوف، لت اور حرکت جیسے رویوں میں کس طرح کردار ادا کرتے ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نوبیل اسمبلی نے اس تین رکنی ٹیم کو ’اعصابی خلیات کے لیے ایک سالماتی سوئچ دریافت کرنے‘ پر اعزاز سے نوازا۔
کارل ڈائیسیروتھ نے نوبیل فاؤنڈیشن سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ میرے لیے ایک ناقابلِ یقین اور غیر متوقع اعزاز ہے، اور میں اس پر بے حد فخر محسوس کر رہا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ وہ امریکہ کے مغربی ساحل پر رات گئے تک کام کر رہے تھے اور ابھی سونے ہی لگے تھے کہ سٹاک ہوم سے انہیں نوبیل انعام کی اطلاع دینے کے لیے فون آیا۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’اب شاید میں کافی دیر تک سو نہیں سکوں گا۔‘
اس تحقیق کی بدولت سائنس دان اب روشنی کی مدد سے دماغ میں موجود مخصوص اعصابی سرکٹس کو آن یا آف کر سکتے ہیں۔
محققین ان اعصابی سرکٹس کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو مخصوص یادداشتوں، جذبات اور رویوں کو کنٹرول کرتے ہیں، اور جو اعصابی و نفسیاتی بیماریوں سے متعلق ہوتے ہیں۔
طبی میدان میں اس طریقہ کار کا محدود پیمانے پر انسانوں پر بھی استعمال کیا گیا ہے، خاص طور پر اندھے پن کی ایک مخصوص قسم کے علاج کے لیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ طریقہ پارکنسنز اور مرگی جیسی بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پرل مین کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے کہا کہ انہیں یہ انعام ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ طور پر ملنے پر بے حد خوشی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

نوبیل کمیٹی کے سربراہ پر سویننگسن نے کہا کہ ’آپٹوجینیٹکس دماغ کی نقشہ سازی کے ایسے مواقع فراہم کرتی ہے جن کا ہم پہلے صرف تصور ہی کر سکتے تھے۔‘
جیوری کے مطابق اس فیلڈ نے ’دماغ کے بارے میں ہماری سمجھ کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔‘
نوبیل اسمبلی کے سیکریٹری جنرل تھامس پرل مین نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے تینوں سائنس دانوں کو ذاتی طور پر فون کرکے اس اعزاز کی خبر دی۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے سب سے پہلے ڈائیسیروتھ کو فون کیا۔ وہ بہت تھکے ہوئے تھے اور غالباً سو رہے تھے، لیکن فون سن کر فوراً جاگ گئے‘"
پرل مین کے مطابق تینوں سائنس دانوں نے ایک ہی بات کہی کہ انہیں یہ انعام ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ طور پر ملنے پر بے حد خوشی ہے۔
لندن کے امپیریل کالج میں نیورو ٹیکنالوجی کے پروفیسر سائمن شولٹز نے کہا کہ ’یہ ان نوبیل انعامات میں سے ایک ہے جس کی توقع سائنسی دنیا کافی عرصے سے کر رہی تھی۔ روشنی اور جینیات کے امتزاج کے ذریعے خلیات کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نے حیاتیاتی علوم میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔‘

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ جس خلیے میں بھی یہ پروٹین شامل کیا جائے، وہ روشنی کے لیے حساس بن جاتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امپیریل کالج لندن کے مہمان پروفیسر کونسٹنٹین نیکولک کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے انسانوں پر استعمال کی مزید ترقی اہمیت کی حامل ہوگی۔
دریافت نے کیسے جنم لیا؟
دو ہزار کی ابتدائی دہائی میں پیٹر ہیگمین اور جارج ناگل اس بات کا مطالعہ کر رہے تھے کہ ایک واحد خلیاتی سبز الجی روشنی کی جانب تیرنے کی صلاحیت کیوں رکھتی ہے۔
انہوں نے ایک منفرد پروٹین دریافت کیا جسے چینل روڈوپسِن کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹین خلیے کی سطح پر موجود ہوتا ہے۔
جب اس پر نیلی روشنی ڈالی جاتی ہے تو پروٹین میں ایک راستہ کھل جاتا ہے، جس کے ذریعے برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلیے میں داخل ہو کر برقی سگنل پیدا کرتے ہیں۔
سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ جس خلیے میں بھی یہ پروٹین شامل کیا جائے، وہ روشنی کے لیے حساس بن جاتا ہے۔
بعد ازاں کارل ڈائیسیروتھ نے چینل روڈوپسِن کا جین چوہوں کے اعصابی خلیات میں داخل کیا۔ نیلی روشنی ڈالنے پر وہ اعصابی سگنل پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایک ڈپلومہ، سونے کا تمغہ اور 12 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم مشترکہ طور پر دی جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے 2005 میں اپنی یہ انقلابی تحقیق شائع کی، اور دو سال بعد زندہ چوہوں کے دماغ میں روشنی سے کنٹرول ہونے والا یہ اعصابی سوئچ کامیابی سے فعال کر دکھایا۔
ڈائیسیروتھ ایک ماہرِ نفسیات بھی ہیں اور شدید نفسیاتی اور عصبی نشوونما کی خرابیوں، جیسے جذباتی عوارض اور آٹزم اسپیکٹرم سے متعلق مسائل کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کے ساتھ کام کرنا انہیں مسلسل نئی بصیرت فراہم کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کی زندگی میں اصل اہمیت کن چیزوں کی ہوتی ہے۔
انعام کی تفصیلات
اس سال کے نوبیل انعام یافتگان کو 10 دسمبر کو ان کے اعزازات سے نوازا جائے گا۔ انہیں ایک ڈپلومہ، سونے کا تمغہ اور 12 لاکھ امریکی ڈالر کی انعامی رقم مشترکہ طور پر دی جائے گی۔
یہ تقریب نوبیل انعام کے بانی سائنس دان الفریڈ نوبیل کی 1896 میں وفات کی برسی کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے۔

 

شیئر: