مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ’ایمازون‘ نے پہلی بار ایسے ٹیبلٹس متعارف کرا دیے ہیں جو ’گوگل‘ کے ’اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم‘ پر چلیں گے اور ان میں کمپنی کا جدید اے آئی وائس اسسٹنٹ ’الیکسا پلس‘ بھی شامل ہوگا۔
خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق کمپنی نے یہ اقدام مہنگے اور اعلیٰ معیار کے ڈیوائسز کی مارکیٹ میں قدم بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت کیا ہے۔
امریکی شہر سان فرانسسکو میں جمعرات کو متعارف کرائے گئے ’الیکسا ٹیبلٹس‘ کی ابتدائی قیمت 230 ڈالر سے 500 ڈالر تک ہے، جبکہ سب سے مہنگے ماڈل کی قیمت 550 ڈالر ہے۔ تمام نئے ٹیبلٹس ایلومینیم باڈی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں، جو ’ایمازون‘ کے سابقہ فائر ٹیبلٹس میں استعمال ہونے والی پلاسٹک باڈی سے مختلف ہے۔
مزید پڑھیں
-
ایپل میوزک پاکستان میں فعال، ماہانہ فیس کتنی ہے؟Node ID: 908963
550 ڈالر کا 128 جی بی سٹوریج والا اعلیٰ ماڈل ایپل کے 450 ڈالر کے ’آئی پیڈ‘ اور ’سام سنگ‘ کے 550 ڈالر کے ’گلیکسی ٹیبلٹ‘ کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل ’ایمازون‘ کا مہنگا ترین فائر ایچ ڈی 10 ٹیبلٹ تقریباً 180 ڈالر میں دستیاب تھا، اگرچہ کمپنی اکثر اس پر رعایت دیتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ’ایمازون‘ نے ان ٹیبلٹس کو ’کٹی ہاک‘ کے کوڈ نام سے تیار کیا تھا اور اب فائر او ایس سے اینڈرائیڈ کی جانب منتقل ہوگیا ہے۔ فائر او ایس دراصل اینڈرائیڈ کا تبدیل شدہ ورژن ہے۔ اینڈرائیڈ کے استعمال سے صارفین کو فائر او ایس ایپ سٹور تک محدود نہیں رہنا پڑے گا۔
‘ایمازون’ کے ڈیوائسز کے سربراہ پینوس پانے کے تحت یہ حکمت عملی کمپنی کی سستے ڈیوائسز سے اعلیٰ قیمت والی مصنوعات کی جانب منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔ پہلے ’ایمازون‘ کم قیمت ٹیبلٹس کے ذریعے صارفین کو پرائم ویڈیو، کنڈل، میوزک اور اپنی ای کامرس سروسز سے جوڑنے پر توجہ دیتا تھا، تاہم ان ڈیوائسز میں سکرین کے معیار اور بیٹری ٹائمنگ کے حوالے سے ایپل اور سام سنگ کے مقابلے میں سمجھوتے کیے جاتے تھے۔
نئے ٹیبلٹس میں اے آئی سے لیس ’الیکسا پلس‘ نمایاں فیچر ہے، جو صارفین کے سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ مختلف کام بھی انجام دے سکے گا۔ الیکسا پلس کے استعمال کے لیے پرائم ممبرشپ یا الگ سبسکرپشن درکار ہوگی۔













