Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریلوے کی پٹریوں کے درمیان سولر پینلز، جنوبی کوریا میں بجلی بنانے کا نیا طریقہ

جنوبی کوریا کے ریلوے کوریڈورز میں 8.51 میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)
جنوبی کوریا میں زمین کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے ٹریکس کے درمیان سولر پینلز نصب کرکے بجلی پیدا کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے تحت پانچ ریلوے کوریڈورز میں 8.51 میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کی جا سکتی ہے۔
توانائی سے متعلق ویب سائٹ ’پی وی میگزین‘ کے مطابق بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جنوبی کوریا کے پانچ ریلوے کوریڈورز میں ٹریکس کے درمیان سولر فوٹو وولٹک (پی وی) نظام نصب کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔
محققین نے بوسان کی گایا اور ڈونگ ہائے لائنز، سیول سب وے لائن ون اور ڈیگو میٹرو لائن ون کے زمینی حصوں جبکہ سیول اور بوسان کو ملانے والی گیونگبو لائن کے بعض کھلے حصوں کو تحقیق میں شامل کیا۔
تحقیق کے دوران سرنگوں، بلند پلوں اور ایسے ٹریک حصوں کو خارج کر دیا گیا جہاں سالانہ بنیاد پر زیادہ سایہ پڑنے کے باعث سولر پینلز کی کارکردگی متاثر ہونے کا امکان تھا۔
تحقیق میں مجموعی طور پر 28.4 کلومیٹر ریلوے کوریڈور کو سولر پینلز کی تنصیب کے لیے موزوں قرار دیا گیا جہاں 39 ہزار 760 مربع میٹر رقبے پر سولر سسٹم نصب کیا جا سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس جگہ پر مجموعی طور پر 8.51 میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ سالانہ بجلی کی پیداوار تقریباً 9.95 گیگا واٹ گھنٹے تک پہنچ سکتی ہے۔
اس منصوبے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سولر بجلی ریلوے کے قریب ہی پیدا ہوگی جسے ٹرینوں کے چلنے کے لیے درکار بجلی میں براہ راست استعمال کیا جا سکتا ہے۔
محققین نے سولر بجلی کی پیداوار کو ریلوے کی فی گھنٹہ بجلی کی طلب کے ساتھ ملا کر بھی جائزہ لیا۔
تحقیق کے مطابق بیٹری سٹوریج کے بغیر پیدا ہونے والی سولر بجلی کا 62.3 فیصد حصہ ریلوے کی بجلی کی طلب کے ساتھ براہ راست استعمال ہو سکتا ہے جبکہ باقی 37.7 فیصد بجلی میں سے 19.8 فیصد گرڈ کو فراہم کی جا سکتی ہے اور 17.8 فیصد بجلی استعمال نہ ہونے کی صورت میں ضائع ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں سولر بجلی کی اوسط لاگت 170 امریکی ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ بتائی گئی ہے (فوٹو:پی وی میگزین)

محققین نے اس اضافی بجلی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بیٹری سٹوریج کا بھی جائزہ لیا۔
ان کے مطابق ہر ایک کلو واٹ سولر صلاحیت کے لیے 0.5 کلو واٹ گھنٹے کی بیٹری نصب کرنے سے استعمال نہ ہونے والی اضافی بجلی کا حصہ تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر صرف 8.5 فیصد رہ سکتا ہے۔
تاہم بیٹری سٹوریج کا اضافہ منصوبے کی لاگت بھی بڑھا دے گا۔ تحقیق کے مطابق بیٹری شامل کرنے سے بجلی کی اوسط لاگت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جس میں بیٹری کو چارج اور ڈسچارج کرنے کے دوران ہونے والے توانائی کے نقصانات بھی شامل ہیں۔
محققین نے منصوبے کی مالی حیثیت جانچنے کے لیے 20 سالہ مدت کو سامنے رکھا اور سولر پینلز کی کارکردگی میں ہر سال 0.45 فیصد کمی کو بھی حساب میں شامل کیا۔
تحقیق میں مالی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے 10 ہزار مرتبہ کمپیوٹرائزڈ تجزیہ بھی کیا گیا۔ محققین کے مطابق 40 فیصد سرمائے کی سبسڈی ملنے کی صورت میں 12 سال کے اندر سرمایہ کاری واپس آنے کا امکان 68 فیصد تک ہو سکتا ہے جبکہ سبسڈی کے بغیر یہ امکان تقریباً ایک تہائی رہ جاتا ہے۔
تحقیق میں سولر بجلی کی اوسط لاگت 170 امریکی ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ بتائی گئی ہے جبکہ یہ حساب صارف تک پہنچنے والی بجلی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ گنجان شہری علاقوں میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے نئی زمین حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ریلوے کوریڈورز جیسے پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کو استعمال کرنا ایک ممکنہ متبادل ہے۔
ان کے مطابق ریلوے لائنیں پہلے ہی طویل اور مسلسل زمینی راستوں پر قائم ہیں اور بجلی کی ترسیل کے نظام سے بھی منسلک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے ساتھ سولر بجلی پیدا کرنے کے منصوبے قائم کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

شیئر: