Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا سمارٹ واچز روایتی بلڈ پریشر مانیٹر کی جگہ لے سکتی ہیں؟

بازو کے اوپری حصے پر باندھا جانے والا روایتی بلڈ پریشر مانیٹر ہوا سے پھولنے والے کف کی مدد سے بلڈ پریشر کی پیمائش کرتا ہے (فوٹو: ایٹنگ ویل)
بلڈ پریشر کی پیمائش سے ڈاکٹروں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ خون شریانوں کی دیواروں پر کتنا دباؤ ڈال رہا ہے۔ بلڈ پریشر اگر مسلسل بلند رہے تو دل کی بیماریوں، فالج اور گردوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے گھر پر بلڈ پریشر کی پیمائش کرتے وقت درست نتائج حاصل کرنا اہم ہے۔
سمارٹ واچز اگرچہ استعمال میں آسان ہیں، لیکن اِن کی ٹیکنالوجی اور بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے کے طریقے طبی آلات سے مختلف ہو سکتے ہیں، جنہیں سمجھنے سے آپ یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کلائی پر نظر آنے والے اعداد و شمار پر بھروسا کرنا چاہیے یا بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے والا روایتی آلہ استعمال کرنا بہتر ہے۔
سمارٹ واچز بلڈ پریشر کی پیمائش کیسے کرتی ہیں؟
بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے والے زیادہ تر روایتی آلات میں ایک پھولنے والا کف استعمال ہوتا ہے، جسے بازو کے اوپری حصے یا کلائی کے گرد باندھا جاتا ہے۔ کف میں جب ہوا بھری جاتی ہے اور پھر اسے نکالا جاتا ہے تو آلہ خون کے بہاؤ میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرتا ہے۔ اِن معلومات کی مدد سے یہ بلڈ پریشر کی دو پیمائشیں کرتا ہے: سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی وہ دباؤ جو دل کے سکڑنے کے وقت پیدا ہوتا ہے، اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر، یعنی وہ دباؤ جو دل کے پھیلنے اور آرام کرنے کے دوران پیدا ہوتا ہے۔
دوسری جانب، سمارٹ واچز میں ماڈل کے لحاظ سے بلڈ پریشر کی پیمائش کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اِن میں سے بہت سی گھڑیاں ایسے آپٹیکل سینسرز استعمال کرتی ہیں جو جلد پر روشنی ڈالتے ہیں اور خون کی مقدار میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتا لگاتے ہیں۔ بعض آلات اِن اشاروں کو نبض کی رفتار میں تبدیلی اور دیگر پیمائشوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ ملا کر مخصوص الگورتھمز کی مدد سے بلڈ پریشر کا اندازہ لگاتے ہیں۔
کیا سمارٹ واچز کی بلڈ پریشر ریڈنگ پر بھروسا کیا جا سکتا ہے؟
ضروری نہیں۔ سمارٹ واچ سے حاصل ہونے والی ریڈنگ کی درستگی کا انحصار اس کی ٹیکنالوجی، ڈیزائن، کیلی بریشن یعنی پیمائش کی درستگی کے لیے اس کی ترتیب، اور اس بات پر ہوتا ہے کہ بلڈ پریشر کی پیمائش کے لیے اس آلے کی مناسب جانچ کی گئی ہے یا نہیں۔ وہ آلہ جو بلڈ پریشر میں اضافے یا کمی کے عمومی رجحانات کا اندازہ لگاتا ہو، ضروری نہیں کہ وہ بلند فشارِ خون کی تشخیص کے لیے بھی درست نتائج فراہم کرے۔

سمارٹ واچز کی ٹیکنالوجی اور بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے کے طریقے روایتی طبی آلات سے مختلف ہو سکتے ہیں (فوٹو: ہیلتھ 365)

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے سال 2025 کے باضابطہ بیان میں ایسے آلات کی قابلِ اعتماد کارکردگی کے حوالے سے خدشات اُجاگر کیے ہیں جو بلڈ پریشر کی پیمائش کے لیے روایتی کف استعمال نہیں کرتے۔ روزمرہ حالات میں اِن آلات کی کارکردگی مختلف ہو سکتی ہے۔ حرکت کرنے، سونے یا جسمانی سرگرمی کے دوران، جسم کی پوزیشن بدلنے اور آخری مرتبہ کیلی بریشن کیے جانے کے بعد گزرنے والے وقت کے ساتھ ان کی پیمائشوں میں فرق آ سکتا ہے۔
لہٰذا سمارٹ واچ پر ظاہر ہونے والی ریڈنگ کو خودبخود ایک قابلِ اعتماد طبی پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے۔
سمارٹ واچ اور روایتی بلڈ پریشر مانیٹر میں بنیادی فرق
پیمائش کا طریقہ: بازو کے اوپری حصے پر باندھا جانے والا روایتی بلڈ پریشر مانیٹر ہوا سے پھولنے والے کف کی مدد سے بلڈ پریشر کی پیمائش کرتا ہے۔ اس کے برعکس، کف کے بغیر کام کرنے والی زیادہ تر سمارٹ واچز سینسرز اور الگورتھمز کے ذریعے بالواسطہ طور پر بلڈ پریشر کا اندازہ لگاتی ہیں۔
درستگی: گھر پر بلڈ پریشر کی نگرانی کے لیے عموماً بازو کے اوپری حصے پر باندھے جانے والے روایتی آلات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سمارٹ واچز کی درستگی کا انحصار اِن کے ماڈل پر ہوتا ہے، جبکہ بہت سی گھڑیوں کے بارے میں ایسے شواہد ناکافی ہیں جو طبی استعمال کے لیے اِن کی افادیت کی تائید کر سکیں۔
استعمال میں آسانی: سمارٹ واچز کو دن بھر پہننا آسان ہوتا ہے اور یہ بار بار بلڈ پریشر کا تخمینہ فراہم کر سکتی ہیں، لیکن روایتی بلڈ پریشر مانیٹر سے پیمائش کرنے کے لیے صارف کو اپنے کام روک کر باقاعدہ ریڈنگ لینی پڑتی ہے۔
طبی استعمال: ایسا روایتی بلڈ پریشر مانیٹر جس کی درستگی کی باقاعدہ توثیق کی گئی ہو، گھر پر بلڈ پریشر کی نگرانی اور نتائج ڈاکٹر کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے موزوں ہے۔ سمارٹ واچ کو اُس وقت تک اِس کا متبادل نہیں بنانا چاہیے جب تک متعلقہ گھڑی کی درستگی کی توثیق نہ ہو چکی ہو اور اسے مطلوبہ طبی استعمال کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل نہ ہو۔
سمارٹ واچ پر بلڈ پریشر کی ریڈنگ کن عوامل سے متاثر ہو سکتی ہے؟
کئی عوامل ایسے ہیں جو پہننے کے قابل آلات سے حاصل ہونے والی پیمائش کی درستگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
غلط پوزیشن: کلائی اور بازو کی پوزیشن سینسرز سے حاصل ہونے والی ریڈنگ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پیمائش کے دوران حرکت کرنے سے بھی نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

بلڈ پریشر اگر مسلسل بلند رہے تو دل کی بیماریوں، فالج اور گردوں کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے (فوٹو: دی ٹیسٹر)

کیلی بریشن کے مسائل: بعض آلات کو روایتی بلڈ پریشر مانیٹر کے مقابلے میں وقتاً فوقتاً کیلی بریٹ کرنا، یعنی اُن کی پیمائش کی درستگی جانچ کر ضرورت کے مطابق ترتیب دینا، ضروری ہوتا ہے۔ یہ عمل اگر مقررہ وقت پر نہ کیا جائے یا درست طریقے سے نہ ہو تو بعد میں حاصل ہونے والی ریڈنگز کم قابلِ اعتماد ہو سکتی ہیں۔
جلد اور سینسر کا رابطہ: گھڑی اگر جلد کے ساتھ اچھی طرح جڑی نہ ہو تو آپٹیکل سینسرز کو ملنے والے اشارے متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے پیمائش کی درستگی کم ہو سکتی ہے۔
جسم میں تبدیلیاں: ورزش، خون کے بہاؤ میں تبدیلی، ادویات اور جسمانی افعال سے متعلق دیگر عوامل بلڈ پریشر کی ریڈنگز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی آلہ ہر طرح کے حالات میں اِن تبدیلیوں کو درست طور پر ریکارڈ نہ کر سکے۔
گھر پر بلڈ پریشر کی درست پیمائش کیسے کریں؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن تجویز کرتی ہے کہ بلڈ پریشر کی پیمائش کے لیے بازو کے اوپری حصے پر باندھے جانے والے کف کے ساتھ ایسا خودکار مانیٹر استعمال کیا جائے جس کی درستگی کی توثیق کی گئی ہو۔ پیمائش کو زیادہ درست بنانے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔
< بلڈ پریشر کی پیمائش کرنے سے کم از کم 30 منٹ پہلے سگریٹ نوشی، ورزش اور کیفین والے مشروبات کے استعمال سے گریز کریں۔
< پیمائش سے پہلے مثانہ خالی کر لیں اور پانچ منٹ تک خاموشی سے بیٹھ کر آرام کریں۔

سمارٹ واچ پر ظاہر ہونے والی ریڈنگ کو خودبخود ایک قابلِ اعتماد طبی پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے (فوٹو: ڈیلی ٹیلیگراف)

<  ایسی حالت میں بیٹھیں کہ کمر کو مناسب سہارا حاصل ہو، دونوں پاؤں فرش پر سیدھے رکھے ہوں اور ٹانگیں ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی نہ ہوں۔
<  کف کو بازو کے اوپری حصے پر براہِ راست جلد کے ساتھ باندھیں اور بازو کو اس طرح سہارا دیں کہ وہ دل کی سطح پر ہو۔
<  کم از کم ایک منٹ کے وقفے سے بلڈ پریشر کی دو ریڈنگز لیں اور دونوں نتائج لکھ لیں۔
< ہر مرتبہ تقریباً ایک ہی وقت پر بلڈ پریشر کی پیمائش کریں اور ضرورت پڑنے پر یہ ریڈنگز اپنے ڈاکٹر کے ساتھ شیئر کریں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
آپ کو اگر شبہ ہے کہ آپ کا بلڈ پریشر بلند ہے، آپ میں پہلے ہی بلند فشارِ خون کی تشخیص ہو چکی ہے یا آپ اسے قابو میں رکھنے کے لیے ادویات استعمال کر رہے ہیں تو صرف سمارٹ واچ کی ریڈنگ پر انحصار نہ کریں۔ اس کی بجائے ایسا موزوں بلڈ پریشر مانیٹر استعمال کریں جس کی درستگی کی توثیق کی گئی ہو، اور اس سے حاصل ہونے والی ریڈنگز کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

روایتی بلڈ پریشر مانیٹر سے پیمائش کرنے کے لیے صارف کو اپنا کام روک کر باقاعدہ ریڈنگ لینی پڑتی ہے (فوٹو: این بی سی نیوز)

تاہم، اگر آپ کی سمارٹ واچ بار بار غیر معمولی طور پر زیادہ یا کم بلڈ پریشر دکھائے تو کسی قابلِ اعتماد بلڈ پریشر مانیٹر سے اس کی تصدیق کریں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر سمارٹ واچ کی ریڈنگز کی بنیاد پر ادویات شروع نہ کریں، انہیں بند نہ کریں اور نہ ہی اِن کی خوراک میں تبدیلی کریں۔
اگر بلڈ پریشر 180/140  ملی میٹر سے زیادہ ہو تو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دوبارہ پیمائش کرنے پر بھی اگر بلڈ پریشر اسی قدر بلند رہے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

شیئر: