بہتر بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم بھی بڑھائیں
بہتر بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم بھی بڑھائیں
جمعہ 4 ستمبر 2026 6:26
ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ پوٹاشیم میں اضافہ اور کم سوڈیم والی خوراک دونوں کو اپنانا ہے۔ (فوٹو: گیٹی امیجز)
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے عام طور پر نمک یعنی سوڈیم کم کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق کے مطابق خوراک میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا زیادہ بہتر اشارہ ہو سکتا ہے۔
دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے سوڈیم کم کرنے کے ساتھ پوٹاشیم بڑھانا چاہیے۔
زیادہ تر امریکی روزانہ تقریباً 3,400 ملی گرام سوڈیم استعمال کرتے ہیں، جو تجویز کردہ 2,300 ملی گرام سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ اس کا تقریباً 70 فیصد حصہ ریستورانوں اور پراسیس شدہ غذاؤں سے آتا ہے۔ دوسری جانب 98 فیصد سے زیادہ امریکی بالغ افراد روزانہ پوٹاشیم کی تجویز کردہ مقدار بھی پوری نہیں کرتے۔
پوٹاشیم بلڈ پریشر کے لیے کیوں اہم ہے؟
حالیہ تحقیق کے مطابق زیادہ سوڈیم کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے، جبکہ پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرنے، اضافی سوڈیم خارج کرنے اور خون کی شریانوں کو پُرسکون رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہر غذائیت جین ہرنانڈیز کے مطابق 2025 کی ایک تحقیق کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد اگر روزانہ تقریباً 2,000 ملی گرام اضافی پوٹاشیم لیں تو سسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 5 mmHg اور ڈائسٹولک تقریباً 3 mmHg کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف پوٹاشیم بڑھانا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن بلڈ پریشر کم کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ پوٹاشیم میں اضافہ اور کم سوڈیم والی خوراک دونوں کو اپنانا ہے۔ تاہم صرف غذائی تبدیلیوں کو مکمل علاج نہیں سمجھنا چاہیے؛ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور دیگر اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اثر کتنی جلد ظاہر ہوتا ہے؟
پوٹاشیم بڑھانے کا اثر فوری طور پر ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ بعض افراد میں ایک ہفتے کے اندر تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ بعض کو زیادہ وقت لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادویات، عمر اور جینیاتی عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
شروع میں سوڈیم کم کرنے سے جسم میں اضافی سیال کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے بلڈ پریشر میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے بعد پوٹاشیم خون کی شریانوں کو پُرسکون کرنے میں مدد دیتا ہے اور ایک سے دو ہفتوں کے دوران مزید بہتری آ سکتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے نگرانی ضروری ہے۔
روزانہ کتنا سوڈیم اور پوٹاشیم؟
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 2,300 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم نہیں لینا چاہیے، جبکہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں سمیت بیشتر بالغ افراد کے لیے تقریباً 1,500 ملی گرام کا ہدف زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔ (فوٹو: بی ایچ ایف)
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف اوپر سے ڈالا جانے والا نمک نہیں بلکہ ریستورانوں کے کھانے، ڈبہ بند اور منجمد غذاؤں، پیک بریڈ اور سنیکس میں موجود چھپا ہوا سوڈیم بھی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے روزانہ 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم حاصل کرنے کا ہدف تجویز کرتی ہے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں
ماہرین کے مطابق پھل، سبزیاں اور دالیں پوٹاشیم کے اچھے ذرائع ہیں۔ کیلے کے علاوہ درج ذیل غذائیں بھی پوٹاشیم سے بھرپور ہیں:
چھلکے سمیت درمیانے سائز کا بیک کیا ہوا آلو: 919 ملی گرام
تازہ بیک کیا ہوا سالمن: 763 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پالک: 591 ملی گرام
ایک کپ خربوزہ: 417 ملی گرام
8 اونس دودھ: 388 ملی گرام
آدھا کپ پکی ہوئی پنٹو بینز: 373 ملی گرام
ماہرین قدرتی غذاؤں کے ذریعے پوٹاشیم حاصل کرنے کو سپلیمنٹس پر ترجیح دیتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
گردوں کے دائمی مرض، دل کی کمزوری یا خون میں پہلے ہی زیادہ پوٹاشیم رکھنے والے افراد کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر پوٹاشیم کی مقدار نہیں بڑھانی چاہیے۔