ایران کے ساتھ معاہدہ ’ہو سکتا ہے‘، تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں: ٹرمپ
ٹرمپ نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔( فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران، تہران کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایسا معاہدہ ہو سکتا ہے۔
صدرر ٹرمپ نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر لکھا تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں۔ فی بیرل تقریبا دس ڈالر کی کمی آئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے ایران کے ساتھ جنگ نہیں ہوگی۔ ایران جلد از جلد کوئی سمجھوتہ چاہتا ہے اور یہ ہو سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
امریکہ صدر کے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے ہیں جب تہران نے واشنگٹن کے ساتھ باالواسطہ مذاکرات کا انکشاف کیا اور سخت شرائط کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی۔
علاوہ ازیں امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے کہا ’وہ اور صدر ٹرمپ کسی معاہدے تک پہنچنے کے حوالے سے پرامید ہیں۔‘
پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے یقینی طور پر پیش رفت کی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہم مزید پیش رفت کر سکتے ہیں۔‘
اس سے قبل ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی تھی کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن میں قطر اور پاکستان مذاکرات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عباس عراقچی نے پیر کے روز سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ ’موجودہ صورتِ حال کی حساسیت اور سنگینی کے پیش نظر مشاورت اور گفتگو کا عمل نہایت تیز ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’قطر اور پاکستان ان مذاکرات میں ثالثی کا فعال کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات بھی موجود ہیں۔‘
پیر کو ہی ایران کے حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے شرائط پوری کیے جانے کی صورت میں دو روز کے اندر آبنائے ہُرمز کو کھولنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ اس بیان سے اہم گزرگاہ کے حوالے سے ممکنہ پیش رفت کا عندیہ ملا ہے جبکہ دونوں ممالک میں سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران نے پہلے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایک ہفتے کے وقت کی تجویز دی تھی تاہم اب اسے دو روز میں مکمل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو روز میں اس منصوبے پر عمل درآمد کا امکان ایران کے سنجیدہ اور مخلصانہ رویے کا ثبوت ہے۔
اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران کے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو مختصر وقت میں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی بحال اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
