Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چرچ پر فائرنگ کا واقعہ، اردن نے حمود کو ’ثقافتی شہر‘ قرار دے دیا

23 اکتوبر کو حمود کے علاقے میں چرچ پر فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے (فوٹو: عرب نیوز)
اردن نے پچھلے مہینے فائرنگ کے مہلک واقعے کا نشانہ بننے والے صوبہ کرک کے گاؤں حمود کو 2027 کے لیے ’ثقافتی شہر‘ قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد قومی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ وزیر ثقافت مصطفیٰ رواشدہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ حمود کے ثقافتی و تعلیمی ورثے کی بنیاد پر مختلف مںصوبوں میں خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
پچھلے مہینے مسیحی برادری پر ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے میں کم سے کم 9 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
وزیر ثقافت مصطفیٰ رواشدہ نے گاؤں کے دورے کے موقع پر کہا کہ یہ اعزاز قومی تاریخ میں حمود کی اہمیت اور تعلیم و ثقافت کے شعبوں میں اس کے رہائشیوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے سے رواداری، شہریت اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں ثقافت کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ ثقافت حمود گاؤں میں ایک لائبریری اور کلچرل سٹریٹ کی تشکیل کے علاوہ ادب کے میدان کے لیے ’حمود ایوارڈ‘ بھی جاری کرے گی جبکہ گاؤں میں ایک یادگار بھی تعمیر کی جائے گی۔
مصطفیٰ الرواشدہ نے یہ بھی کہا کہ شاہ عبداللہ دوم کی قیادت میں قومی وژن کے تحت وزارت قومی شناخت کے تحفظ، علم تک رسائی بڑھانے اور اعتدال پسندی و باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر گاؤں کے رہائشیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حمود ہیریٹیج ریوائیول ایسوسی ایشن کے صدر فارس ہلسہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز گاؤں کی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، باہمی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے عزم کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

شیئر: