آبنائے ہرمز کی بحالی کا دو روزہ منصوبہ پاکستان اور قطر سے شیئر کیا گیا ہے: ایران
آبنائے ہرمز کی بحالی کا دو روزہ منصوبہ پاکستان اور قطر سے شیئر کیا گیا ہے: ایران
پیر 2 نومبر 2026 11:15
نئی پیش رفت سے آبنائے ہرمز کی بحالی کا امکان پیدا ہوا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے دو روزہ منصوبہ قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے جس سے اہم گزرگاہ کی بحالی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
فروری کے آخر میں امریکی و اسرائیل حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جبکہ جواباً واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
جون میں جنگ بندی کا عارضی معاہدہ ناکام ہونے اور دوبارہ وقفے وقفے سے حملے شروع ہونے کے بعد سے ایران نے ستمبر کے وسط میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد امریکہ کی جانب سے جواب موصول ہونے کی تصدیق بھی کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت زیر غور منصوبہ وہی ہے جو ایران نے ابتدا میں پیش کیا تھا اور سات روزہ ایران منصوبے کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس میں ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط پیش کی تھیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قطر اور پاکستان کے دوستوں نے اس معاملے پر کئی بار بات چیت کی اور ایسی تجاویز پیش کیں کہ ایران کے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد آسان ہو جائے اور اسے زیادہ قابل قبول بنایا جا سکے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم اب دو روزہ پلان کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت پہلے روز امریکہ کچھ اقدامات کرے گا جبکہ دوسرے روز آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور بحری آمد و رفت معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی زیادہ تر فوجی طاقت کو تباہ کیا جا چکا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں تیز کی گئیں۔
قطری ثالثوں کا وفد جمعے کو تہران پہنچا تھا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سکیورٹی کونسل کے عہدیدار محسن رضائی کو خط بھی بھیجا تھا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط پڑھ لیا ہے۔
ان کے مطابق ’ابھی تک اس خط کا جواب نہیں دیا گیا تاہم امریکہ کے لہجے میں مکمل تبدیلی آئی ہے جو اچھی علامت ہے۔‘
تاہم ان کی جانب سے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر بندشیں برقرار رکھے گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے اور ان میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی بھی شامل ہے۔
قطر اور پاکستان فریقین کے درمیان ثالثی کرا رہے ہیں تاہم اب تک مذاکرات کسی مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا تھا کہ ایران کی زیادہ تر فوجی طاقت کو تباہ کیا جا چکا ہے تاہم ابھی ایک یا دو اہداف باقی ہیں جن کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔
28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے (فوٹو: روئٹرز)
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ایران پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رہیں۔ یہ بیان دونوں ممالک کی جانب سے انتخابات کے بعد دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی بھی قسم کی دھمکی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا اور جوابی کارروائی کسی مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں ہو گی۔‘