کیا یہ گائے کا گوشت تھا؟

ناگپور۔۔۔۔مہاراشٹر کے ناگپور ضلع میں 4دن قبل گئورکشکوں نے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے جس مسلمان کو زدوکوب کیا تھا وہ گائے کا گوشت لیکر جارہا تھا۔ پولیس نے اب اس بات کی تصدیق کردی ہے۔پولیس نے 34سالہ سلیم شاہا کو جو بی جے پی کے کٹول یونٹ کا رکن ہے بری طرح مارنے پیٹے والے 4افراد کو گرفتار کیا تھا جبکہ گوشت فارنسک لیباریٹری تجزیہ کیلئے بھیج دیا تھا۔ناگپور پولیس کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ لیباریٹری کی رپورٹ ’’مثبت ‘‘آئی ہے۔پولیس شاہا کے خلاف مزید کارروائی کریگی۔ناگپور یونٹ کے بی جے پی کے صدر نے رپورٹ پر حیرت کا اظہار کیاہے۔انہوں نے کہا کہ اسے پارٹی سے خارج کردیا جائیگا۔ عوام کو چاہئے وہ ایسے معاملات میں تشدد پر نہ اتریں اور قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ شاہا کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ میرابیٹابی جے پی کی کٹول تحصیل میں اقلیتی مورچہ کا سربراہ ہے جبکہ بی جے پی کے مقامی رہنماؤں نے کہا کہ وہ صرف پارٹی کا رکن ہے۔ بی جے پی اتحادی شیوسینا ، کانگریس پارٹی اور نیشنل کانگریس پارٹی نے گئورکشکوں کی شدید مذمت کی تھی جبکہ بی جے پی نے اس کی شدت کم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اکا دکاہونے والے واقعات میں سے ایک ہے۔

شیئر: