نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے سے پھر قانونی جنگ کا خدشہ ،کرکٹ حلقے

لاہو:نجم سیٹھی کے پی سی بی کا نیا چیئر مین بنتے ہی کرکٹ حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کیا ماضی کی طرح پھر قانونی جنگ کا سامنا ہوگا؟ نجم سیٹھی کو ماضی میں ذ کا ءاشرف کے مقابلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا رہا۔مئی 2013 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ذ کاءاشرف کی معطلی کے بعد نجم سیٹھی کوعبوری چیئرمین مقرر کیا گیا تھا پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے انہیں کام سے روک دیا تھا۔اکتوبر 2013 میں نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کرکٹ بورڈ کے مقدمے کے پیش نظر نجم سیٹھی کی سربراہی میں5 رکنی ایڈہاک مینجمنٹ کمیٹی قائم کردی تھی۔جنوری 2014 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا ءاشرف کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا لیکن فروری میں وزیراعظم نواز شریف نے ذکا ءاشرف کو ہٹا کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور نجم سیٹھی کے سپرد کردی ۔اسی طرح مئی 2014 ءمیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا ءاشرف کو ایک بار پھر بحال کر دیا لیکن سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے نجم سیٹھی کی بحالی کا حکم سنا دیا۔عدالتی جنگ کے اس طویل سلسلے کا ڈراپ سین اس طرح ہوا کہ نجم سیٹھی نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے اگلے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا اور اگست 2014 ءمیں شہریار خان پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے تھے۔گزشتہ3 سال کے دوران نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی طاقتور ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئے اور کرکٹ بورڈ کے اہم فیصلوں میں ان کی مرضی شامل رہی۔ سابق لیگ اسپنر عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایسے لوگوں سے بھر دیا گیا ہے جن کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ نجم سیٹھی کی بطور چیئر مین تقرری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی سی بی کرکٹرز کی جاگیر ہے لیکن اس میں تمام اہم عہدوں پر وہ لوگ براجمان ہیں جن کا پروفیشنل کرکٹ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔سابق کرکٹر نے کہا کہ نجم سیٹھی نے ماضی میں پاکستان ، ہند سیریز کے عوض اربوں روپے کی آمدنی کا دعویٰ کیا تھا، کیا وہ رقم پاکستان کو مل گئی۔اب ہندوستانی بورڈ کے خلاف کیس کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے، شکیل شیخ سمیت متعدد افراد بورڈ پر بوجھ بنے ہوئے ہیں جبکہ گورننگ بورڈ سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ہونا چاہیے۔عبدالقادرنے کہا کہ پی سی بی کو ٹھیک کرنا ہے تو 4 میں سے کم از کم 2 عہدے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے پاس ضرور رہنے چاہئیں۔
 

شیئر: