محمد رفیع ، مناڈے ، کشور،مکیش اورطلعت محمود افسانوی گلوکار تھے ، عارف قریشی

 رفیع  موسیقی کی تاریخ کا وسیع  باب ہیں ،جمی صدیقی وحیدی ،غزل میں بھی ہندوستانی گلوکاروںکا جواب نہیں،امتیاز مرزا،رفیع صاحب گائیکی کی پی ایچ ڈی ہیں ، مجیب صدیقی
 
رپورٹ و تصویر:امین انصاری۔ جدہ

 

روئے زمین پر فن موسیقی اور گلوکاری کو ہندوستان میں جتنی بلندی اور عروج ملا  شاید ہی کسی اور ملک میں ایسا ہواہو ۔ اس بے مثال نغمگی میں  اپنی آواز ملانے والے ہند میں بھی   بے مثال ہیں  جن میں محمد رفیع ، مناڈے ، کشور،مکیش ، طلعت محمود  جیسے افسانوی شہرت یافتہ گلوکار شامل ہیں۔ان جیسا کوئی اور گلوکار دہائیاں بیتنے کے باوجود سامنے نہیں آسکا ، دوسری طرف خواتین  نے بھی یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی شعبۂ حیات میں مردوں سے پیچھے ہرگز نہیں۔ اگر رفیع اور مکیش جیسے گلوکاروں کو افسانوی شہرت ملی تو  لتا منگیشکر ، آشا بھوسلے  اور  شمشاد بیگم بھی شہرتِ دوام کی منزل پر متمکن ہیں  ۔ ان خیالات کا اظہار جدہ کی معروف شخصیت عارف قریشی نے امتیاز مرزا کے گھر پر منعقدہ مخصوص محفل نغمگی کے موقع پر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان موسیقی اور گلوکاری میں اپنی شہرت کے جھنڈے گاڑتا چلا جارہا ہے ۔ ہر وقت ایک نیا چیلنج سامنے آرہا ہے، اس کے باوجود آج تک محمد رفیع، مکیش یا کشور پیدا نہیں ہوسکا مگر ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی گائیکی کو زندہ رکھنے والے گلوکار دنیائے موسیقی میں آتے رہتے ہیں ۔
صدیقی وحیدی (المعروف جمی بھائی )نے کہا کہ موجودہ دور کی موسیقی اگرچیکہ نسل نو کیلئے تفریح کا سامان ہوتی ہے لیکن وہ دلوں میں اترنے سے قاصر ہے ۔ آج بھی دنیا بھر میں جب  موسیقی و گلوکاری کی محفل سجائی جاتی ہے تو گلوکاری کے بادشاہ محمد رفیع ، مناڈے ، کشور،طلعت محمود  اور مکیش کے گائے ہوئے نغموں کا سہارا لیکر محفل کو کامیاب بنایا جاتا ہے ۔ یہ صدا بہار نغمے تھے ،ہیں اور رہیں گے ۔ جمی صدیقی وحیدی نے کہا کہ رفیع صاحب گلوکاری کے بادشاہ تھے۔ ان کی آواز گلے سے ضرور نکلتی تھی لیکن لگتا تھا دل سے نکل کر دل میں اتر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ایک ایک نغمہ موسیقی کی تاریخ  کا ایک وسیع  باب ہے ۔ 
مجیب صدیقی نے کہاکہ اونچی آواز میں موسیقی کا سہارا لیکر خراب گلوکاری کو بچالیا جاتا ہے لیکن کمال تو یہ ہے کہ سننے میں انتہائی نچلی آواز ہو مگر گانے میں وہ انتہائی مشکل ایسی آواز کے شہنشاہ طلعت محمود تھے جن کے گانے سننے والا بہت آسان سمجھتا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ گائیکی کی اگر ڈگری ہم گلوکاروں کو دیتے ہیں تو موسیقی کے اُفق پر محمد رفیع مرحوم پی ایچ ڈی بلکہ اس سے بھی کہاں آگے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد دیگر گلوکاروں کے نام آتے ہیں ۔کئی دہائی گزرنے  باوجود آج تک ان عظیم گلوکاروں کا بدل ہندوستان یا دنیا کو نہیں مل سکا ۔
میزبان امتیاز مرزا نے کہا کہ ہندوستان میں آج نوجوان موسیقی اور گلوکاری سیکھنے کی طرف جوق درجوق چلے آرہے ہیں ۔ ہم ٹی وی شوز پر دیکھتے ہیںکہ ایک سے بڑھ کر ایک نوجوان اپنی آواز کا جادو جگارہا ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے موسیقی میں اپنا ثانی نہیں چھوڑ رہا ۔ انہوں نے کہا کہ غزل ہمارے ملک کا ثقافتی ورثہ ہے ۔ غزل میں بھی ہندوستان نے بڑے بڑے گلوکاروں کو جنم دیا اور انہوں نے اپنی آواز کا لوہا منوایا ۔
محفل نغمگی میں مرزا یونس نے اپنی آواز کا جادو جگاتے ہوئے مناڈے ، مکیش اور رفیع کے گانے گائے اور داد حاصل کی ۔ امتیاز مرزا نے غزل اور گیت پیش کرکے خود کو سنگروں کی فہرست میں شامل کیا ۔ مجیب صدیقی نے اپنی پُرسوز آواز میں رفیع ، طلعت محمود اور دیگر کئی گلوکاروں کے گانے گاکر خود کو منجھا ہوا گلوکار ثابت کیا تو دوسری جانب جدہ کی انتہائی معروف شخصیت جمی  صدیقی وحیدی نے اپنے خوبصورت لب ولہجہ میں متواتر غزلیں ، ٹائٹل سانگ اور پرانے خوبصورت گیتوں سے محفل میں چار چاند لگادیئے ۔ شرکاء نے خوب داد دی۔ عنقریب ایک محفل نغمگی کی اور نشست کا ارادہ بھی ظاہر کیا ۔
امتیاز مرزا نے  شکریہ کا اہم فریضہ انجام دیتے ہوئے تمام گلوکاروں اور شرکاء کا فردا ًفردا ًشکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس طری کی محفل وقتاً فوقتاً رکھی جائے گی تاکہ ہم اس بہانے جدہ کے بہترین سنگرز کو سن سکیں ۔
 
 
(تصویر4)
 

شیئر: