غیرملکی سعوی عرب سے خاص طور پر رمضان کی یادیں لے کر جاتے ہیں: سوڈانی کمیونِٹی
سعودی عرب میں مختلف ممالک کے رہائشی مقیم ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی معاشرے میں باہر سے آنے والے وہ افراد جو طویل عرصے سے یہاں مقیم ہیں، رمضان کے مبارک مہینے میں ان کی موجودگی صرف مشاہدے تک محدود نہیں رہتی بلکہ سماجی زندگی کے ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے۔
رمضان المبارک کا تجربہ دونوں طرح کے افراد کے لیے خواہ وہ رہائشی ہوں یا سعودی شہری ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ وہ ایک ہی جگہ مل بیٹھتے ہیں، ایک سے رواج اور ایک طرح کی اقدار پر عمل پیرا ہوتے ہیں چہ جائے کہ اِن باتوں کو دور سے دیکھتے رہیں یا پھر انھیں اختیار کرنے میں وقت لگائیں۔
ان لوگوں میں آنے والی یہ بڑی تبدیلی، رہائشی علاقوں میں خاص طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کام کی جگہوں، مسجدوں، گروپوں کی صورت میں ایک ہی مقام پر افطاریوں، حتٰی کہ عوامی پارکوں میں بھی اس تبدیلی کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔
یہ مقامات اب مختلف قومیتوں میں تفریق نہیں کرتے کیونکہ رمضان میں اِن جگہوں پر کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی وجہ سے ضرور آتا ہے۔ روزے کے دورانیے میں اور افطار کے وقت، عبادت کے لمحات میں اور کاموں کی ادائیگی کے لیے سب لوگوں کی روز مرہ کی زندگی اِسی طرح چلتی ہے۔
طائف میں سوڈانی کمیونِٹی کے سربراہ المغیرہ علی کہتے ہیں کہ جب لوگ مملکت سے جا رہے ہوتے ہیں تو وہ رمضان کی یادیں خاص طور پر ساتھ لے کر جاتے ہیں کیونکہ یہ یادیں اِس مہینے میں انسانی رشتوں کی بنیاد پر اُستوار ہوئی ہوتی ہیں۔ رمضان کے مہینے میں سب کا زندگی گزارنے کا طریقہ مشترک ہی ہوتا ہے اور اِسے ہر برس دہرایا جاتا ہے اور ہر سال اِس کی تجدیدِ نو کی جاتی ہے۔
علی المغیرہ کے مطابق اِس مشترکہ سماجی تجربے نے سعودی معاشرے کے بارے میں ایک مثبت تصور کو جنم دینے میں مدد کی ہے۔ اِس تصور کی بنیاد اُن کے بقول قریبی تعلق، باہمی میل جول اور بات چیت اور ایک دوسرے کے لیے احترام کا اظہار ہے۔
انھوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان میں ایسے مناظر، کمیونِٹی کی اُس صلاحیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں جس کے تحت وہ ایک جیسی اقدار کے ایک مخصوص نظام میں رہتے ہوئے مختلف طرح کی ثقافت کو گلے لگا لیتی ہے۔ یوں رمضان، یاد کا ایک عارضی موقع نہیں رہتا بلکہ شناخت کی ایک مشترکہ پہچان بن جاتا ہے۔