Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سعودی اخبار کا کالم

سعودی اخبار الریاض میں اتوار کو شائع ہونے والا کالم جو سعودی عرب کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ہے ، جس میں کالم نگار نے اپنے تاثرات درج کئے ہیں جوحقیقت سے قریب تر ہیں
ہمارا سیاسی مستقبل
ڈاکٹر عبداللہ ناصر الفوزان۔ الریاض
شاہ سلمان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ متحدہ ریاست کے ڈھانچے کے تحفظ کیلئے جذبات سے بالا ہوکر کام کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ وطن عزیز کے اتحاد و سالمیت کو قائم رکھنے کے سلسلے میں جذباتیت سے بالا ہوکر کام کرنے کی بڑی اہلیت رکھتے ہیںجسے انکے والد شاہ عبدالعزیز اور ہمارے آباﺅ اجداد نے تن من دھن کی قربانی دیکر قائم کیا تھا۔
خادم حرمین شریفین نے بدعنوانی کے خلا ف جو عظیم الشان مہم شروع کی ہے وہ اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ میری رائے میں اس سے زیادہ اہم وہ سیاسی اصلاحات ہیں جن کا آغاز شاہ سلمان نے کرسی اقتدار پر فائز ہونے کے روز اول سے ہی کردیا تھا۔ آگے چل کر انہوں نے پے درپے فیصلہ کن اقدامات کئے۔ انہوں نے سعودی ریاست کو اقتدار پر ممکنہ تنازع اور اختلاف کی منزل سے نکال کر اطمینان و یقین کی منزل میں داخل کردیا۔
بخدا مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کون برسراقتدار آرہا ہے اورکون کرسی اقتدار چھوڑ رہا ہے۔ میرا نہ اُس سے تعلق ہے نہ اِس سے ۔ میری دلچسپی یہ ہے کہ وطن عزیز پر منڈلانے والا بڑا خطرہ ٹل جائے۔ مجھے اس بات سے بھی بیحد دلچسپی ہے کہ اقتدار صالح اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھوں میں ہو۔ مجھے یقین ہے کہ سب لوگوں کی دلچسپی کا محور بھی یہی ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اب تک جو کچھ ہوچکا ہے مقامی شہری اس سے مطمئن ہیں۔ مستقبل میں سیاسی دھارے کی بابت تسلی باقی ہے۔
طاقتور اور بڑے رہنما وہی ہوتے ہیں جو کسی بھی ریاست کےلئے لمبی مسافت والی سیاسی شاہراہیں ہموار کرتے ہیں۔ شاہ سلمان مر دِریاست ہیں۔ وہ فیصلے کرنے والی باعزم شخصیت ہیں۔ شاہ سلمان کے ولی عہد شہزادہ محمد ذہین، طاقتور اور بہادر رہنما ہیں۔ اس باب میں وہ مستثنیٰ ہیں۔ شاہ سلمان اور انکے ولی عہد نے ثابت کردیا ہے کہ وہ دونوں بڑے رہنما ہیں۔ مستقل کی طویل سیاسی شاہراہ ہموار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ دونوں رہنما چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کی سیاسی شاہراہ امیدوں کی شمعوں سے روشن ہو۔ یہ شاہراہ گڑھوں اور رکاوٹوں سے پاک ہو۔ اس شاہراہ پر چلنے والا دور تک صاف شفاف منظر نامہ دیکھ سکتا ہو۔ اس شاہراہ کے راہی امن و امان او راطمینان و سکون محسوس کریں۔ ہم ہی نہیں ہماری اولاد اور انکی اولاد بھی خود کو سعودی عرب کی شاہراہ سیاست پر محفوظ و مامون تصور کرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: