Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خالدہ ضیا کے انتقال پر تین روزہ سوگ، ’انہوں نے اپنی شناخت خود بنائی تھیں‘

بنگلہ دیش نے منگل کے روز اپنی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ملک کی سیاست کی نمایاں ترین شخصیات میں سے ایک، خالدہ ضیا، کے انتقال پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق خالدہ ضیا نے عملی سیاست میں اس وقت قدم رکھا جب ان کے شوہر ضیاءالرحمن، جو 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیرو تھے، 1977 میں صدر بنے اور وہ بنگلہ دیش کی خاتونِ اول بنیں۔
چار برس بعد، جب ان کے شوہر کو قتل کر دیا گیا، تو انہوں نے ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت سنبھالی۔ 1982 میں حسین محمد ارشاد کی قیادت میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد وہ جمہوریت کے حق میں چلنے والی تحریک میں پیش پیش رہیں۔
جنرل ارشاد کے دورِ حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا۔ 1991 کے عام انتخابات میں بی این پی کی فتح کے بعد وہ پہلی بار اقتدار میں آئیں اور پاکستان کی بے نظیر بھٹو کے بعد کسی مسلم اکثریتی ملک کی دوسری خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔
خالدہ ضیا نے 1996 میں قائم ہونے والی ایک مختصر مدت حکومت کی بھی وزارتِ عظمیٰ سنبھالی اور 2001 میں دوبارہ مکمل پانچ سالہ مدت کے لیے وزیرِ اعظم بنیں۔
وہ منگل کی صبح ڈھاکہ کے ایک ہسپتال میں طویل علالت کے بعد 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے تعزیتی بیان میں کہا کہ وہ جمہوری تحریک کی علامت تھیں۔

شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سیاسیات کی پروفیسر آمنہ محسن نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی تین بار وزیرِ اعظم رہیں اور ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم تھیں۔ صدر ارشاد، جو ایک فوجی سربراہ تھے اور بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئے، کے خلاف ان کا کردار بھی انہیں ملکی سیاست میں ایک اہم شخصیت بناتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ سیاست میں آنے سے پہلے ایک گھریلو خاتون تھیں۔ اس وقت انہوں نے اپنے شوہر کو کھو دیا تھا، لیکن ایسا نہیں کہ انہوں نے سیاست اپنے شوہر صدر ضیاءالرحمن کے سائے میں شروع کی۔ انہوں نے اپنی الگ پہچان بنائی اور اپنی الگ شناخت بنائی۔‘
ایک پوری نسل تک بنگلہ دیش کی سیاست خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے درمیان رقابت سے متاثر رہی، جو چار مرتبہ وزیرِ اعظم رہ چکی ہیں۔
دونوں نے جنگِ آزادی کی وراثت کو آگے بڑھایا، خالدہ ضیا نے اپنے شوہر کے ذریعے، جبکہ شیخ حسینہ نے اپنے والد شیخ مجیب الرحمٰن کے ذریعے، جو ’بابائے قوم‘ کے نام سے معروف ہیں اور 1975 میں قتل ہونے تک ملک کے پہلے صدر رہے۔
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں خالدہ ضیا کو بدعنوانی کے مقدمات میں سزا سنائی گئی اور 2018 میں قید کر دیا گیا۔ 2020 سے انہیں نظر بند رکھا گیا۔
انہیں گزشتہ سال اس وقت رہا کیا گیا جب طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک، جسے ’جولائی کا انقلاب‘ کہا جاتا ہے، کے نتیجے میں شیخ حسینہ اقتدار سے ہٹ گئیں اور انڈیا فرار ہو گئیں۔
رواں سال نومبر میں، شیخ حسینہ کو طلبہ مظاہرین کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کے معاملے میں عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی، اور وہ اب بھی جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
شیخ حسینہ کے برعکس، خالدہ ضیا نے کبھی بنگلہ دیش نہیں چھوڑا۔

بی این پی کی قیادت اب خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے، طارق رحمان، نے سنبھال لی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پروفیسر آمنہ محسن نے کہا کہ ’انہوں نے کبھی ملک اور اپنے عوام کو نہیں چھوڑا، اور وہ کہا کرتی تھیں کہ بنگلہ دیش ہی ان کا واحد پتہ ہے۔ آخرکار یہ بات سچ ثابت ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے لوگ خالدہ ضیا کو سیاست میں ان کے سخت موقف کی وجہ سے سراہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان کا رویہ غیر مصالحتی تھا۔‘
شیخ حسینہ نے بھی خالدہ ضیا کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ عوامی لیگ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر معزول رہنما کہا کہ ان کے انتقال سے ’بنگلہ دیش کی موجودہ سیاست اور بی این پی کی قیادت کو ناقابلِ تلافی نقصان‘ پہنچا ہے۔
بی این پی کی قیادت اب خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے، طارق رحمان، نے سنبھال لی ہے، جو 17 برس سے زائد عرصے کی جلاوطنی کے بعد گزشتہ ہفتے ہی ڈھاکہ واپس آئے ہیں۔
وہ 2008 سے لندن میں مقیم تھے۔ انہیں متعدد مقدمات کا سامنا تھا، جن میں شیخ حسینہ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش بھی شامل تھی۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بنگلہ دیشی عدالتوں نے حال ہی میں انہیں بری کر دیا، جس سے ان کی واپسی قانونی طور پر ممکن ہوئی۔
وہ اس وقت فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
آمنہ محسن نے کہا کہ ’ہمیں برسوں سے معلوم تھا کہ طارق رحمان کسی نہ کسی مرحلے پر یہ مقام سنبھالیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہیں 2024 کے جولائی انقلاب کی روح کو برقرار رکھنا چاہیے، جس میں اظہارِ رائے کی آزادی، جمہوری عمل کے لیے آزاد اور منصفانہ ماحول، اور اس سے بڑھ کر دیگر جمہوری اقدار شامل ہیں۔‘

شیئر: