Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میٹا‘ نے چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’مانس‘ خرید لی

میٹا کا کہنا ہے کہ ’مانس‘ اپنی شناخت کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرتا رہے گا (فوٹو: میٹا)
مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ’میٹا‘ نے سنگاپور میں قائم مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معروف سٹارٹ اپ ’مانس‘ کو خرید لیا ہے۔
’ٹیک کرنچ‘ کے مطابق یہ کمپنی پچھلے سال اس وقت مشہور ہوئی تھی جب اس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک اے آئی سسٹم مختلف کام خودکار طریقے سے کرتا دکھایا گیا، جیسے نوکری کے امیدواروں کی جانچ، سفر کی منصوبہ بندی اور سٹاک مارکیٹ کا تجزیہ وغیرہ۔
’مانس‘ کا کہنا تھا کہ اس کی ٹیکنالوجی ’اوپن اے آئی‘ کے جدید سرچ ٹولز سے بہتر کام کرتی ہے۔ لانچ کے چند ہی ہفتوں بعد اپریل میں معروف سرمایہ کاری کمپنی ’بینچ مارک‘ نے 75 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے بعد ’مانس‘ کی مالیت 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے پہلے بھی کئی بڑے سرمایہ کار ’مانس‘ میں پیسہ لگا چکے تھے، جن میں ٹین سینٹ، ژن فنڈ اور ایچ ایس جی (سابقہ سیکوئیا چائنہ) شامل ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس کی ممبرشپ سروس سے سالانہ آمدن 100 ملین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہی وہ وقت تھا جب میٹا نے ’مانس‘ کو خریدنے کے لیے بات چیت شروع کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’میٹا‘ اس ڈیل کے لیے تقریباً دو ارب ڈالر ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ خریداری مارک زکربرگ کے لیے اس لیے اہم ہے کیونکہ ’مانس‘ ایک ایسا اے آئی پروڈکٹ ہے جو پہلے ہی کمائی کر رہا ہے جبکہ میٹا خود اے آئی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ’مانس‘ اپنی شناخت کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرتا رہے گا تاہم اس کی اے آئی ٹیکنالوجی کو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ میں شامل کیا جائے گا۔ اس وقت میٹا کا اپنا چیٹ بوٹ ’میٹا اے آئی‘ بھی صارفین کے لیے موجود ہے۔
تاہم اس ڈیل پر کچھ خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ ’مانس‘ کے بانیوں نے سنہ 2022 میں بیجنگ میں اپنی پیرنٹ کمپنی ’بٹرفلائی اہیفکٹس‘ قائم کی تھی جو بعد میں سنگاپور منتقل ہو گئی۔ امریکہ میں بعض سیاست دانوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کہیں امریکی سرمایہ چینی کمپنیوں سے نہ جڑ جائے۔
ان خدشات کے جواب میں ’میٹا‘ نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ’مانس‘ کا کسی بھی چینی سرمایہ کار سے کوئی تعلق نہیں رہے گا اور کمپنی چین میں اپنی تمام سرگرمیاں بند کر دے گی۔

شیئر: