ریاض۔۔۔متعدد ایرانی شہریوں نے واضح کیا ہے کہ مکہ مکرمہ پر حوثیوں نے میزائل ایران کے بزرگ رہنما خامنہ ای کے حکم پر ہی داغا تھا۔ انہوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی فضائیہ مکہ کو ہدف بنانے والے میزائل کو کافی دور فضا میں تباہ کرنے پر تعریف اور شکریہ کی مستحق ہے ۔ایرانیوں نے الریاض اخبار سے گفتگو کرتے ہو ئے یہ بھی کہا کہ ایران میں ملاؤں کا نظام خیانت اور غداری والا نظام ہے۔ ایران کی حریت پسند پارٹی ’’سربستی کردستان‘‘کے سربراہ عارف باوہ جانی نے کہا کہ ایرانی نظام کے خلاف مشترکہ موقف ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہ مکہ مکرمہ ایران کا بنیادی ہدف ہے۔ بار بار خبر کرچکے ہیں کہ ایرانی ملاؤں کا نظام مشرق وسطی اور تمام عرب ممالک میں مشکلات اور فتنے برپا کرنے کے درپے ہیں۔ ان کا نصب العین مقامات مقدسہ پر قبضہ کرنا ہے اس لئے ان کے پیروکار انہی کے حکم پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا اس ریاست کے کرتا دھرتا ریاست کو جمہوریہ اسلامی ایران کہتے ہیں جبکہ اس ریاست کا مقصد مکہ مکرمہ کربلا اور النجف تک میں امن و امان کو تہ بالا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ایرانی ملا ، مساجد ،اسلامی عجائب گھروں کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں اور اقتدار میں زیادہ سے زیادہ عرصے تک رہنے کیلئے جنگوں کی آگ بھڑکائے ہوئے ہیں۔ آذر بائیجان کے ڈاکٹر ضیاء الدین صدر اشرافی نے کہا کہ سعودی مکہ مکرمہ کی بڑی خدمت کررہا ہے اور ایران مقدس اسلامی مقامات کا نظم و ضبط نہیں کرسکتا۔ڈاکٹر ضیاء فرانس میں مقیم ہیں۔ڈاکٹر محمد ابراہیم کیان نے جو خراسان نے مبلغ ہیں کہا کہ مکہ مکرمہ کو اپنے آقاؤں کے حکم پر حوثیوں کی جانب سے ہدف بنانا ظاہر کرتا ہے کہ ان کے عقائد اور نظریات کیا ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے 1986ء میں حجاج کے سائبان تلے مکہ مکرمہ پر ناجائز قبضے کی کوشش کی تھی۔








