حج کے یادگار تحائف میں جدت کی جھلک، سعودی ڈیزائنرز کی نئی کاوش
حج کے یادگار تحائف میں جدت کی جھلک، سعودی ڈیزائنرز کی نئی کاوش
بدھ 3 جون 2026 12:32
حجاج کرام اب کئی اقسام کے سوونیئر سوونیئر کا انتخاب کر سکتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مسلمان حج کرنے کے لیے مکہ آتے ہیں۔ حج اُن کی زندگی کے خاص ترین لمحات میں سے ایک ہوتا ہے۔ مناسک حج کی ادائیگی، عبادت اور جسمانی مشقت کے بعد بہت سے حجاج اپنے اس سفر کی یاد میں کوئی نہ کوئی نشانی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق روایتی طور پر یہ یادگار نشانیاں بہت سادہ ہوا کرتی تھیں یعنی آب زم زم کی بوتل، جائے نماز، تسبیح یا مقدس مقامات کے قریب سے خریدی گئیں مختلف قسم کی اشیا۔
ان چیزوں کی اصل اہمیت ان کے ڈیزائن میں نہیں بلکہ ان سے جڑے ہوئے گہرے روحانی تجربے سے ہوتی ہے۔
آج کے دور میں سعودی کاروباری شخصیات اور فنکار حج کے ان تحائف کو ایک نیا روپ دے رہے ہیں۔ ایسی مصنوعات بنائی جا رہی ہیں جس میں ایمان، ثقافت اور جدید ڈیزائن کا امتزاج شامل ہے۔
حجاج کرام اب کئی اقسام کے سوونیئر (یادگار تحائف) کا انتخاب کر سکتے ہیں جن میں جدید آرٹ ورک، جدید خطاطی، ہاتھ سے بنے ہوئے تحائف اور مقدس مقامات سے متاثر ہو کر بنائی گئی مصنوعات وغیرہ۔
یہ تحائف حجاج کو اپنے سفر کی یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کا ایک نیا طریقہ پیش کر رہے ہیں۔
درب جس کا مطلب راستہ ہے، ایسا سعودی ادارہ ہے جو سعودی تحائف کو بالکل نئے انداز مین پیش کر رہا ہے۔ یہ ادارہ مقامی ڈیزائنرز اور کاریگروں کو اکٹھا کر کے ایسے تحائف تیار کرتا ہے جو ملک کی ثقافت اور ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔
خلود عطار کی بنائی ہوئی اس کمپنی سے آٹھ ہزار سے زائد تخلیق کار جڑ چکے ہیں اور وہ 50 ہزار سے زیادہ تحائف بنا چکے ہیں۔
اس سال مقدس مقامات پر پہلی مرتبہ کام کرنے والے 37 نئے برینڈ شامل ہوئے (فوٹو: عرب نیوز)
یہ پلیٹ فارم درب کاروان کے ذریعے پھیلا ہے جو ایک موبائل کلچرل سپیس ہے جسے پہلی مرتبہ کنگ عبداللہ فائنیشنل ڈسٹرکٹ میں متعارف کروایا گیا تھا جو اب العلا اور جدہ تک پھیل چکا ہے۔ درب کا مقصد خالص سعودی ڈیزائن بنانے ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
عطار کہتی ہیں کہ حج کے تحائف کا ارتقاء اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حجاج مادی چیزوں سے بڑھ کر کچھ چاہتے ہیں۔
عطار نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر حاجی اپنے ساتھ تحفے سے زیادہ کچھ لے کر جانا چاہتا ہے۔ وہ ایمان، امن اور سعودی مہمان نوازی کی خوبصورتی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’عازمین ایسے تحائف چاہتے ہیں جن سے روحانیت محسوس ہو، جو ثقافتی طور پر بھرہور ہوں، گھر آسانی سے لے جایا جا سکیں اور گھر پہنچنے کے بعد سب کو دکھائے جا سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سب سے کامیاب مصنوعات وہ ہیں جن سے کوئی مطلب اخذ ہو۔ صرف مذہبی طور پر نہیں بلکہ ان سے سعودی مہمان نوازی، فن پارے اور یادیں نمایاں ہوں۔‘
کدانہ ڈیویلمپنٹ کو، جو رائل کمیشن آف مکہ سٹی اور مقدس مقامات کا ایگزیکیٹو ادرہ ہے، نے اس سال حج سیزن کے دوران تجارتی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافے کا اعلان کیا ہے۔
رواں برس شامل اداروں میں 66 منفرد برینڈ بڑھ گئے جو پچھلے سال کی نسبت 127 فیصد اضافہ ہے جب صرف 29 برینڈ آئے تھے۔
اس سال مقدس مقامات پر پہلی مرتبہ کام کرنے والے 37 نئے برینڈ شامل ہوئے جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عازمین حج کی خدمات کے لیے مختص سرمایہ کاری کے ماحول پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
اس سال 410 سے زیادہ کمرشل آؤٹ لیٹس لیز پر دیے گئے جن میں کریانہ سٹور، ریستوران، کیفے، بینکنگ اور ہیلتھ کیئر سروسز جبکہ خیراتی سرگرمیاں اور حجام کی دکانیں شامل تھیں۔
اسی سلسلے میں دار شجن نامی ایک سعودی برینڈ اپنی تخلیق سے ثقافتی شناخت کو سامنے لا رہا ہے۔
حجاج اپنے اس سفر کی یاد میں کوئی نہ کوئی نشانی ساتھ لے کر جاتے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
مکہ میں قائم ہونے والی اشجان السلیمانی کی یہ کمپنی ایسے تحائف بناتی ہے جس سے قومی شناخت، ثقافت اور مذہبی اقدار جدید انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔
السلیمانی کہتی ہیں کہ برینڈ اس یقین پر بنایا گیا تھا کہ تخلیق کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔
اُن کا سفر مکہ سے شروع ہوا جو کہ ایک چیلنج تھا کہ مکہ سے متاثر ایسی مصنوعات بنائی جائیں جو مذہبی شناخت کی نمائندگی کریں اور خوبصورت اور مستند سٹائل کے تحائف دینے کے قابل ہوں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہر آئیڈیا میں طاقت ہوتی ہے کہ وہ متاثر کرے۔ اسی یقین کے ساتھ ہم نے دار شجن بنایا جس کا نعرہ ہے کہ ہم آئیڈیا تخلیق کرتے ہیں اور لمحات کو یادوں میں تبدیل کرتے ہیں۔‘
حج اور عمرہ مارکیٹ میں شامل ہونے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے مارکیٹ کی ضروریات کا دھیان سے جائزہ لینا شروع کیا اور حکومتی اداروں اور سروس پروائیڈرز کی خاص طور پر حج اور عمرہ سیزن میں ضروریات کو سمجھنا شروع کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے وی آئی پی تحائف بنانے پر غور کیا اور مکہ کی تھیم پر ایسے تحائف بنائے جو عازمین کو فراہم کی جانے والی مہمان نوازی کی جھلک ظاہر کریں اور لمبے عرصے تک اپنا مثبت چہرہ قائم رکھیں۔‘
السلیمانی کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پروڈکٹ مختلف ممالک اور ثقافتوں کے لوگوں تک پہنچتے ہیں جس سے ہمیں سعودی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بارڈر سے باہر برینڈ کو پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔‘
تجسید کی بانی وفا خالد ایسے برینڈ کو چلاتی ہیں جو ہاتھ سے بنی ہوئی مقامی مصنوعات کی پیشکش کرتا ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم حاجیوں کے لیے چیزیں آسان بنائیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی سیزن یا کیمپین سے پہلے ہم اس چیز کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ حج کے دوران عازمین حج کو کس چیز کی ضرورت پڑے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کئی حاجی اپنے ساتھ سادے ٹوکن لے کر جانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ ٹوکن خاص طور پر فیملی اور ایسے دوستوں کے لیے لے کر جانا چاہتے ہیں جنہیں حج کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
آج کے دور میں سعودی کاروباری شخصیات اور فنکار حج کے ان تحائف کو ایک نیا روپ دے رہے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
وہ کہتی ہیں کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ حج کا اصلی مطلب تمام مناسک ادا کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بعد تحفہ اس برکت اور روحانی تجربے کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔‘