Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حسن الزین، ماحولیاتی تحقیق میں سعودی عرب کی پہچان

حسن الزین کہتے ہیں کہ ’کلائمیٹ ریزلیئنس انسانوں، سسٹم اور مستقبل کی حفاظت کرنے کے بارے میں ہی ہے (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی ماہر ماحولیات حسن الزین تحقیق، تحریر اور ماحولیاتی پالیسیوں کے ذریعے کلائمیٹ ریزیلیئنس اور پائیداری کو سعودی عرب اور دنیا بھر میں فروغ دے رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ییل سکول آف انوائرمنٹ سے گریجوایشن کرنے والے حسن الزین نے حالیہ دنوں میں انوائرمینٹل مینیجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے جس میں انہوں نے کلائمیٹ چینج سائنس اینڈ سلوشنز اینڈ انرجی اینڈ انوائرمنٹ میں سپیشلائیزیشن کی ہے۔
حسن الزین نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنے ملک کو ماحولیاتی پائیداری، ماحول دوست توانائی اور سیارے (زمین) کے تحفظ کو اپنے مستقبل کے معاشی بلیو پرنٹ کے مرکز میں رکھتے ہوئے دیکھنا میرے لیے انتہائی متاثر کن تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک کے مقامی ماحول سے نکل کر ییل یونیورسٹی کے ملٹی ڈسپلنری ماحول میں جانے سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ کس طرح عالمی ماحولیاتی سائنس ہماری قومی امنگوں کے ساتھ ملتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھنے سے مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ سعودی عرب نہ صرف عالمی کلائمیٹ ڈائیلاگ میں شامل ہے بلکہ ہم اس کی قیادت کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سفر نے میرے اس عزم کو مضبوط کیا کہ میں ایسے عملی اور پائیدار فریم ورک تیار کروں جو ہمارے وژن 2030 کے ماحولیاتی اہداف کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک حقیقت بنا سکیں۔‘
الزین اب تک اپنے اکیڈیمک اور پروفیشنل کیریئر میں 50 سے زیادہ تحقیقاتی کام شائع کروا چکے ہیں جن میں کتابیں، سائنسی دستاویزات، کانفرنس پیپر اور تکنیکی مضامین شامل ہیں۔
ان میں ایک کتاب گرین گیمبٹ ہے جو انہوں نے وکٹر آر کالیموگوگو کے ساتھ مل کر لکھی ہے جو ماحولیاتی سائنس، توانائی کے سسٹم اور ماحولیاتی پالیسی کے گرد گھومتی ہے۔

حسن الزین کی کتاب کو گرین ورلڈ ایوارڈ مل چکا ہے (ایس جی آئی)

اس کتاب کو گرین ورلڈ ایوارڈ مل چکا ہے جبکہ پائیداری کے حوالے سے فروغ دینے پر اس کتاب کو تمغے بھی مل چکے ہیں۔
الزین کہتے ہیں کہ ’کلائمیٹ ریزلیئنس انسانوں، سسٹم اور مستقبل کی حفاظت کرنے کے بارے میں ہی ہے۔ اب چیلنج یہ نہیں ہے کہ آیا ماحولیاتی تبدیلی ہو رہی ہے یا نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اور کمیونٹیز اتنی تیزی سے خود کو اس کے مطابق ڈھال سکتے ہیں کہ سماجی و معاشی ترقی، ماحولیاتی بقا اور انسانی فلاح کو برقرار رکھا جا سکے۔‘
الزین سمجھتے ہیں کہ متاثر کن ماحولیاتی حل اس طرح حاصل ہو سکتے ہیں کہ سائنسی علم کو عملی طور پر لاگو کیا جائے۔
سعودی نوجوانوں کے لیے پیغام میں الزین نے کہا کہ ’ملٹی ڈسپلنری سوچ کو اپنائیں، صرف سائنس یا پالیسی تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں کیونکہ پائیدار مستقبل کی تبدیلی کے لیے آپ کو گورننس، انرجی اور انسانی ترقی کو بھی سمجھنا ہوگا۔‘

حسن الزین ییل سکول آف انوائرمنٹ سے گرایجویشن کر چکے ہیں (فوٹو: عرب نیوز)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اصلی کامیابی تب حاصل ہوتی ہے جب آپ اپنی بین الاقوامی کامیابیوں کو واپس وطن لا کر قوم کی ترقی اور فلاح کے لیے استعمال کریں۔‘

شیئر: