Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں مزید آثار قدیمہ دریافت

ریاض۔۔۔سعودی بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ نے مملکت کے مختلف علاقوں میںمزید آثار قدیمہ دریافت کئے ہیں۔32ٹیمیں آثار قدیمہ کی کھدائی میں مصروف ہیں۔ محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ ان کی سرپرستی کررہا ہے۔فرانس نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی 4ٹیموں نے سعودی ٹیم کے تعاون و اشتراک سے ریاض ریجن کی السلیل کمشنری میں حجری دور کے مقامات کا جائزہ لیا سعودی اطالوی فرانسیسی ٹیموں نے دومۃ الجندل، سعودی فرانسیسی ٹیم نے تبوک ریجن کی البدع کمشنری کے المالحہ مقام، سعودی فرانسیسی ٹیم نے ریاض کے الخرج کمشنری میں الیمامہ ، سعودی ہولینڈ ی ٹیم نے الشرقیہ کے ثاج مقام ،سعودی اور پولینڈ کی ٹیم نے تبو ک کے عینونہ، سعودی آسٹریا ٹیم نے تبوک ریجن کے قریہ ، سعودی برطانوی ٹیم نے جبہ میں حجری دور کے مراکز ، سعودی جاپانی ٹیم نے الجوف اور تبو ک کے صوبوں کے درمیان واقع حجری دور کے مقامات پر تاریخی کھدائیوں کا سلسلہ شرو ع کررکھا ہے۔ان ٹیموں نے حائل سے 100کلومیٹر شمال میں جبہ کا منفرد مرکز ریکارڈ کرایا ہے۔علاوہ ازیں حائل کے جنوب مشرق میں 250کلومیٹر دورالشویمس مقام دریافت کیا ہے۔ ان دونوں کو یونیسکوکے عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔ جبہ شمالی مملکت کے الفود صحرا میں ریت کے ٹیلوں کے درمیان واقع ہے۔ اس کا تعلق جدید حجری دور سے ہے۔ یہ علاقہ منفرد چٹانوں پر مرتسم آرٹ کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہاں چٹانوں میں انسان اور جانور تراش کر بنائے گئے ہیں۔ یہا ں ثمودی دور کے نقوش بھی ہیں۔اہم انکشافات میں تثلیث اور وادی الدواسر کمشنریوںکے درمیان واقع قدیم تمدنی مرکز المقربی ہے۔ اس کا تعلق 9ہزار بر س پرانی تہذیب سے ہے۔ تاریخی شواہد سے پتہ چلا ہے کہ یہاں کا علاقہ آخری بار صحرا میں تبدیل ہونے سے قبل آباد تھا۔ المقر کے باشندے 9ہزار برس قبل گھوڑوں کو سدھاتے تھے۔ اس سے قبل ہونے والے انکشافات سے یہ مان لیا گیا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار گھوڑوں کو سدھانے کا رواج 5500برس قبل وسطی ایشیا میں پایا گیا۔

شیئر: