Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طلاق ثلاثہ بل کی منظوری پر مسلم خواتین کا رد عمل

نئی دہلی۔۔۔۔مودی حکومت کی جانب سے  3طلاق کوقابل سزا جرم  قراردینے کیلئے طلاق ثلاثہ بل اکثریت سے  لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا ۔’’دی مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس ان میرج ایکٹ ‘‘پر بات کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ اور دہلی کے این جی اومیں کام کررہیںعظمیٰ  پروین نے کہا کہ مسلم عورتوں کی بہبود کیلئے حکومت نیا قانون بنا رہی ہے تو اچھی بات ہے ، حکومت کو مسلم خواتین کی مدد کیلئے قانون بنانا چاہئے نہ کہ مشکلات پیدا کرنے والا ۔عورتوں کو معاشرے میں برابری کا حق ملنا چاہئے تاکہ وہ پورے وقار سے جی سکیں۔ ہینڈی کرافٹ ایکسپورٹ کی کاروباری رانا خان نے کہا کہ 3طلاق شرعی معاملہ ہے۔حکومت اس وقت جو قانون بنا رہی ہے اس سے میاں بیوی کے درمیان 3طلاق کے بعد جو صلح کی یا رجوع کرنے کی گنجائش رہتی ہے وہ بھی ختم ہوجائیگی۔حکومت ہمارے دینی اور شرعی معاملے میں مداخلت نہ کرے۔حکومت مسلم عورتوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرے نہ کہ سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے۔یوپی کے اونچا ہار کی رہنے والی فیروز جہاں کہتی ہیں کہ 3طلاق شریعت کے خلاف ہے۔ اس پر پوری طرح پابندی لگنی چاہئے۔اس سلسلے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ علمائے کرام سے مشورہ کرکے کوئی قدم اٹھائے۔رائے بریلی کی ٹیچر صبیحہ پروین انصاری نے کہا کہ 3طلاق سے مسلم عورتوں کی زندگی برباد ہورہی ہے۔ اس پر قانون، شریعت کی روشنی میں بنایا جانا چاہئے۔ نجیب آباد کی عتیق النساء نے کہا کہ 3طلاق پر روک لگانے کیلئے سماجی بیداری مہم چلانی چاہئے ۔ حکومت جو قانون لارہی ہے اس کے مطابق 3طلاق دینے والے کو جیل کی سزا ہوجائے گی جس سے اہل خانہ کے سامنے مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔ سزا سے بہتر ہے کہ شوہر کی جائداد میں حصہ دار بنایا جائے۔

شیئر: