Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

الطاف حسن قریشی کی کچھ یادیں، کچھ باتیں:عامر خاکوانی کا کالم

قریشی صاحب ایک عام صحافی نہیں تھے، وہ ایک جینوئن دانشور اور مفکر تھے (فوٹو: روزنامہ اوصاف)
دو دن سے میری طبعیت ناساز تھی، دل کچھ بے قابو ہوا پڑا ہے۔ اللہ خیر فرمائے۔ لیٹا ہوا تھا کہ موبائل پر میسج آیا۔ ایک دوست نے واٹس ایپ کیا تھا، ’خاکوانی صاحب، الطاف حسن قریشی صاحب نہیں رہے۔‘
میں نے فون اٹھا کر دیکھا، پھر رکھ دیا، پھر اُٹھایا۔ چند لمحوں کے بعد آخر جب ذہن نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ استاد محترم الطاف قریشی صاحب دنیا سے چلے گئے تو بے اختیار منہ سے نکلا انا للہ وانا الیہ راجعون۔
94 برس کی عمر میں یہ عظیم صحافی دنیا سے رخصت ہوا جو اپنی ذات میں ایک فرد نہیں ادارہ تھا، آج کے بہت سے نامور صحافی جس کے شاگرد رہے یا ان کے قلم کے اسیر ہوئے۔
اتوار کی دوپہر خراب صحت کے باوجود جامعہ اشرفیہ لاہور میں ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوا۔ صحافت کے بیشتر ستارے موجود تھے، سینیئر بزرگ ایڈیٹروں سے درمیانی عمر کے صحافیوں، بہت سے پڑھے لکھے نوجوانوں تک۔
وفاقی وزرا میں سے عطا تارڑ اور احسن اقبال بھی شریک ہوئے، دونوں وضع دار خاندانوں کے وارث ہیں۔ الطاف صاحب سے اپنے خاندان کے تعلق کو انہوں نے خوب نبھایا۔ وہاں ہر ایک کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ اردو صحافت کا ایک شاندار عہد تمام ہوا۔
پاکستان کے اردو صحافت کے میدان میں اگر کوئی ایک نام لیا جا سکتا ہے جس نے 60 کی دہائی سے لے کر آج تک ایک رسالے کو نظریاتی، ادبی، اور سنجیدہ صحافت کا گہوارہ بنائے رکھا تو وہ الطاف حسن قریشی کا نام ہے۔

اُردو ڈائجسٹ نے اردو زبان کی صحافت میں ایک نئی صنف کی بنیاد رکھی (فوٹو: اُردو ڈائجسٹ)

یہ کوئی ذاتی محبت کی بات نہیں بلکہ ایک امر واقعہ اور حقیقت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے، میری نسل کے بیشتر صحافی انہی سیڑھیوں پر چل کر اوپر چڑھتے گئے جو جناب الطاف قریشی نے اردو ڈائجسٹ کے صفحات کے ذریعے تعمیر کی تھیں۔ بہت سوں نے ان کے انداز اور اسلوب سے چار لفظ لکھنا سیکھا، پتہ چلا کہ طرزِ نگارش کیا ہوتی ہے اور کس علمی شائستگی سے مدلل تجزیہ کرنا چاہیے۔
الطاف حسن قریشی کی کہانی مشرقی پنجاب کے ضلع حصار سے شروع ہوتی ہے، اب شاید یہ ہریانہ صوبہ کا حصہ ہے۔ تقسیم کے وقت 15 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آئے۔ یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب لاہور خود ابھی پاکستان بننا سیکھ رہا تھا۔ پرانی گلیاں، اجڑے گھر، نئے کرائے دار۔
لاہور اس نوزائیدہ ملک کا ثقافتی دل بننے جا رہا تھا۔ الطاف حسن قریشی، ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اعجاز قریشی، دونوں بعد میں قریشی برادران کے نام سے مشہور ہوئے جنہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔
الطاف حسن قریشی نے پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ قریشی صاحب ایک عام صحافی نہیں تھے، وہ ایک جینوئن دانشور اور مفکر تھے مگر تاحیات وہ طالب علمانہ مزاج کے ساتھ جیے۔ علم کے متلاشی رہے، اردو ڈائجسٹ میں ہم نے بارہا دیکھا کہ کسی نہایت جونیئر سب ایڈیٹر نے بھی کوئی اہم نکتہ بیان کیا تو الطاف صاحب چونک کر اس طرف متوجہ ہوتے، اسے سراہتے اور خوش دلی سے قبول کرتے۔
اردو ڈائجسٹ جس سے میں نے 31 سال پہلے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تھا، دراصل وہ ایک خواب تھا، الطاف صاحب اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کا۔

الطاف صاحب نے بھٹو صاحب پر تنقید کی تو انہیں جیلوں میں پھینکا گیا، صعوبتیں جھیلنا پڑیں اور بار بار رسالے کے ڈیکلئیریشن کینسل ہوئے (فائل فوٹو: پی آئی ڈی)

انہوں نے سوچا کہ پاکستان میں ایک ایسا اردو رسالہ ہو جو امریکن ’ریڈرز ڈائجسٹ‘ کے ماڈل پر چلے، مگر اس کی روح خالصتاً پاکستانی ہو۔ ادب، تاریخ، سفر نامے، تراجم، شکاری قصے، علمی مضامین، نوجوانوں کی تربیت، اصلاح زبان، سب کچھ ایک جلد میں۔ اردو ڈائجسٹ کا اجرا لاہور سے ہوا۔ اور یہ صرف ایک رسالہ نہیں تھا۔
یہ پاکستان کا پہلا ’ڈائجسٹ‘ تھا جس نے اردو زبان میں ایک نئی صحافتی صنف کی بنیاد رکھی۔ باقی سب ڈائجسٹ برسوں بعد کی نشانیاں ہیں۔
ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی منتظم تھے جبکہ الطاف حسن قریشی رسالے کا دماغ۔ الطاف صاحب ایک باکمال ایڈیٹر تھے، بے پناہ محنتی، تخلیقی، پرفیکشنسٹ۔ جاہلی عربی شاعری کے ایک بہت بڑے نام زید بن ابی سلمہ کے بارے میں کسی نے کہا تھا، یہ شاعری کو گھلاتا ہے اور شاعری اسے گھلاتی ہے۔
الطاف قریشی صاحب کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ڈائجسٹ کے معیار کی خاطر خود کو گھلا دیا۔ ہم جیسے نوجوان صحافی جو مختلف ادوار میں ان کے ساتھ کام کرتے رہے، وہ سب گواہ ہوں گے کہ الطاف صاحب اپنے مضمون پر کیسی محنت کرتے تھے، بار بار تبدیلیاں، ترامیم، بہتر سے بہتر کرنے کی جستجو۔ وہ کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ جس کسی نے ان کے ساتھ چند دن بھی کام کر لیا، اس نے بہت سا بیش بہا خزانہ لوٹ لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو ڈائجسٹ کوئی محض ادبی پرچہ نہیں تھا۔ یہ ایک نظریاتی جنگ کا ہتھیار بھی تھا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان میں ایک خاموش جنگ چل رہی تھی۔ ایک طرف لیفٹ کے نظریات کی ترویج، فیض، سبط حسن اور لیفٹ کا پورا حلقہ۔

قریشی برادران نے واضح طور پر اسلامی نظریاتی فکر، مولانا مودودی اور ان کے حلقے کا انتخاب کیا (فائل فوٹو: اے پی پی)

دوسری طرف اسلامی نظریاتی فکر، مولانا مودودی اور ان کا حلقہ۔ قریشی برادران نے واضح طور پر دوسرے کیمپ کا انتخاب کیا۔ اور یہ بات صرف ان کے رسالے کے مضامین میں ہی نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کے فیصلوں میں نمایاں ہے۔
الطاف صاحب کی صحافت کے حوالے سے دو سوال ہمیشہ اٹھائے جاتے رہے ہیں، پہلا جنرل ضیا الحق کے ساتھ ان کا قلمی تعاون اور دوسرا ان کا مشہور مضمون جو مشرقی پاکستان کے حوالے سے شائع ہوا تھا، ’محبت کا زمزم بہہ رہا ہے۔‘
پہلے سوال کا جواب آسان ہے، الطاف صاحب نے جنرل ضیا کا ساتھ دیا، اگرچہ ابتدا میں انہیں مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر بعد میں جہاد افغانستان کی وجہ سے اردو ڈائجسٹ اور الطاف صاحب پوری طرح جنرل ضیا کے ساتھ ہو لیے۔ اس پر تنقید کی جا سکتی ہے مگر ایسا کرنے والے کو پہلے بھٹو دور کا بھی جائزہ لینا پڑے گا جہاں الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر اعجاز قریشی، مجیب الرحمٰن شامی اور ان کے پرچوں اردو ڈائجسٹ، ہفت روزہ زندگی کو بے پناہ حکومتی جبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
الطاف صاحب نے جرأت اور بے باکی سے بھٹو صاحب پر تنقید کی تو انہیں جیلوں میں پھینکا گیا، صعوبتیں جھیلنا پڑیں، بار بار رسالے کے ڈیکلئیریشن کینسل ہوئے، تب مختلف چھوٹے موٹے رسالوں کے ڈیکلیئریشن لے کر انہوں نے اپنا قلمی جہاد جاری رکھا۔
الطاف صاحب نے اس زمانے میں جو لکھا وہ شاہکار حیثیت رکھتا ہے، کاش کبھی وہ اداریے اور مضامین کتابی صورت میں شائع ہو جائیں۔

مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے اخبار میں الطاف صاحب کے انتقال کی خبر پر سرخی جمائی، ’صحافت کا فیلڈ مارشل‘ (فوٹو: دی نیوز)

لاہور کے ایک حلقہ تاجپورہ میں ایک مشہور ضمنی الیکشن ہوا تھا۔ بھٹو حکومت نے سرتوڑ کوشش کی کہ اس الیکشن کو جیتا جائے، اپوزیشن کو کچلنے کی انتہائی کوشش میں تاجپورہ میں ہونے والے ایک جلسے پر گولیاں چلوائی گئیں، سانپ چھوڑے گئے، درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
حکومت نے پابندی لگا دی کہ اس کی خبر کہیں شائع نہ ہو۔ تب کے صحافیوں نے مختلف حربوں، حیلوں کے ذریعے یہ خبر لوگوں تک پہنچائی۔
شامی صاحب نے ایک منفرد طریقہ نکالا اور زندگی کے صفحات کے ساتھ اشتہار کے انداز میں ان لہو رنگ تصاویر کا گمنام پمفلٹ ڈال کر پرچہ تقسیم کیا گیا۔ اردو ڈائجسٹ میں الطاف صاحب نے ایک کمال قسم کا اداریہ لکھا۔ عنوان تھا، ’ایک اور جعلی حکم نامہ۔‘
الفاظ تو ظاہر ہے مجھے یاد نہیں مگر مفہوم کچھ اس طرح کا تھا، الطاف صاحب نے لکھا کہ ابھی چند دن پہلے پنجاب یونیورسٹی سے جعلی ڈگریوں کا ایک سکینڈل سامنے آیا جس میں جعلی ڈگریاں بانٹی جا رہی تھیں، اب لگتا ہے کوئی اور جعل ساز گروہ سرگرم ہے، ہمیں ایک حکم نامہ آیا ہے کہ سانحہ تاجپورہ پنڈ کی خبر نہ چھاپی جائے۔
یہ یقینی طور پر ایک جعلی حکم نامہ ہے، کیونکہ ہماری حکومت تو جمہوری حکومت ہے، وہ سیاست اور جمہوریت پر یقین رکھنے کی دعوے دار ہے۔ وزیراعظم بھٹو ایسا غیر جمہوری حکم نامہ کیسے جاری کر سکتے ہیں؟ وہ اطلاعات پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟ یہ لازمی طور پر کوئی جعلی سرکاری حکم نامہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس کی تحقیقات کرے وغیرہ وغیرہ۔
ڈاکٹر اعجاز قریشی ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اس اداریے کے بارے میں قانونی مشیر سے رائے لی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ ڈیفنس آف پاکستان ایکٹ کے تحت اردو ڈائجسٹ کا ڈیکلریشن کینسل ہوجائے گا، آپ دونوں بھائی گرفتار ہوں گے اور اردو ڈائجسٹ کا پریس بھی سیل ہوجائے گا۔
اس چتاونی، وارننگ کے باوجود قریشی برادران نے وہ اداریہ شائع کیا اور پھر وہی ہوا، یہ تمام سزائیں انہیں ملیں۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بھٹو صاحب کے طوفانی دور کے بعد جنرل ضیا الحق کا دور آیا تو فطری طور پر یہ سب اینٹی بھٹو لوگ اس طرف چلے گئے۔ ہمارے دوست خالد ارشاد صوفی کا ایک خوبصورت فقرہ اس حوالے سے ہے کہ ’جنرل ضیا دراصل بھٹو کا ردعمل تھا۔‘ جس پر ایک اور دوست نے گرہ لگائی، جیسا ہمیں بھٹو ملا، ویسا ہمیں ضیا ملا۔
اب آتے ہیں مشرقی پاکستان سے متعلق الطاف حسن قریشی صاحب کے مضمون کی طرف۔ اردو ڈائجسٹ ساٹھ کے عشرے کا بڑا پرچہ تھا، مشرقی پاکستان میں بھی اس کی خاصی سرکولیشن تھی۔

الطاف حسن قریشی کے ایک مضمون ’جس میں محبت کے زمزم بہنے کی بات کی گئی تھی، یہ فال آف ڈھاکہ سے پانچ سال قبل سنہ 1966 میں شائع ہوا‘ (فوٹو: ہیرلڈ)

الطاف حسن قریشی صاحب نے مشرقی پاکستان کے کئی سفر کئے تھے۔ یہ کوئی سرکاری دورے نہیں تھے، نہ ہی صرف صحافتی۔ یہ ایک شخص کی ذاتی کوشش تھی کہ پاکستان کے دو حصوں میں جو دراڑ بڑھ رہی ہے، اسے سمجھے اور ممکن ہو تو پر کرنے کی کوشش کی جائے۔
الطاف صاحب نے ڈھاکہ، چٹاگانگ، راج شاہی وغیرہ کے دورے کرکے وہاں کے سیاست دانوں، طلبا، صحافیوں، علما، اور عام لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور پھر ان کی روداد اردو ڈائجسٹ میں وہ رقم کرتے رہے۔ ان کے سفر ناموں اور رپورٹس میں مشرقی پاکستان کی نبض دھڑکتی تھی۔ وہ غصہ، وہ شکوہ، وہ نظر انداز کیے جانے کا احساس جس کا اظہار اس وقت کے مغربی پاکستان کے بڑے اخبارات بھی پوری ایمان داری سے نہیں کر پا رہے تھے۔
قریشی صاحب نے یہ سب لکھا۔ ان کا وہ مشہور مضمون جس میں محبت کے زمزم بہنے کی بات کی گئی تھی، یہ سقوط ڈھاکہ کے قریب شائع نہیں ہوا، جیسا کہ عام تصور ہے۔ یہ فال آف ڈھاکہ سے پانچ سال قبل سنہ 1966 میں شائع ہوا۔ طویل مضمون تھا، تین حصوں میں آیا۔ الطاف صاحب کا وہ مضمون پڑھیں تو اس میں بہت سی نہایت عمدہ، قابل قدر تجاویز ملتی ہیں، کاش ان پر عمل ہو گیا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا۔
50 سال بعد، 2023 میں، انہوں نے اپنے ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کیا، ’مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا تارا‘۔
1408 صفحات کی یہ شاندار کتاب ’قلم فاؤنڈیشن‘ نے شائع کی۔ تاریخ کے طلبہ کو یہ لازمی پڑھنی چاہیے۔ جو سانحہ مشرقی پاکستان کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ ازحد مفید ہے۔ اس میں الطاف صاحب کا وہ مشہور مضمون بھی من وعن شامل ہے۔ پڑھ کر خود اندازہ لگا لیں۔یہ کوئی عام کتاب نہیں، یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ گوشہ ہے جو اردو میں شاید پہلی بار اس مکمل تفصیل اور ایمان داری کے ساتھ سامنے آیا۔
پاکستان کی اردو صحافت کو قریشی صاحب نے کیا دیا؟ اس کا جواب اردو ڈائجسٹ کی روایت میں ہے۔ اس نے ایک پوری نسل کو پڑھنا سکھایا اور اس سے بھی اہم، اچھی اردو لکھنا سکھایا۔ 60 اور 70 کی دہائی میں جب پاکستانی نوجوان کے گھر میں شاید ہی ایک رسالہ آتا تھا، تو اردو ڈائجسٹ آتا تھا۔ والد دفتر سے واپس آ کر پہلے اسے کھولتے، پھر ماں چائے بناتی، پھر بچے انتظار میں رہتے کہ کب اپنی باری آئے۔ گاؤں کے چائے خانوں میں، شہر کے بازاروں میں، فوجی چھاؤنیوں کے میسز میں، کالجوں کی لائبریریوں میں ہر جگہ یہ رسالہ موجود ہوا کرتا تھا۔ یہ پاکستانی متوسط طبقے کی ادبی غذا تھا۔
اس رسالے کے صفحات سے کیا کچھ نکلا، یہ سننے کے لائق ہے۔ مقبول جہانگیر کے ترجمہ کردہ شکاری قصے، جنہوں نے ایک پوری نسل کو افریقہ کے جنگلوں کی سیر کرائی۔ آباد شاہپوری کی تحقیق۔

الطاف حسن قریشی نے سوچا کہ پاکستان میں ایک ایسا اردو رسالہ ہو جو امریکن ’ریڈرز ڈائجسٹ‘ کے ماڈل پر چلے (فوٹو: دی اکانومسٹ)

ضیا شاہد کی صحافت، جو بعد میں خود ایک ادارے کے بانی بنے۔ ارشاد احمد عارف، ہارون رشید، رؤف طاہر، اسد اللہ غالب، شریف کیانی، ڈاکٹر امین اللہ وسیر، محسن فارانی، نعیم بلوچ، حسان عارف، سید عاصم محمود، یہ سب وہ نام ہیں جو اردو ڈائجسٹ یا اس کے ہم سفر رسالے ’زندگی‘ کی تربیت گاہ سے گزرے۔
مجیب الرحمن شامی صاحب نے کبھی ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’الطاف صاحب صرف ایک ایڈیٹر نہیں تھے بلکہ وہ ایک سکول تھے۔‘ شامی صاحب نے اپنے اخبار میں الطاف صاحب کے انتقال کی خبر پر سرخی جمائی، صحافت کا فیلڈ مارشل۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اردو صحافت میں یہ اعزاز صرف اور صرف الطاف حسن قریشی ہی کو سجتا ہے۔
ہمارے ہاں اب یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ یوٹیوب کے زمانے میں کسی نوجوان کو سمجھانا مشکل ہے کہ ایک رسالہ پڑھنا کیا ہوتا تھا؟
الطاف صاحب کا تجزیاتی مضمون ’ہم کہاں کھڑے ہیں‘ پڑھنا کیا تھا؟ یہی وہ تربیت ہے جس نے ہمارے زمانے کے بڑے صحافی، دانشور، اور لکھاری پیدا کیے۔ اور اس تربیت کا ایک بنیادی مرکز اردو ڈائجسٹ تھا۔
قریشی صاحب کا ایک اور پہلو ان کی انٹرویوز کرنے کی مہارت تھی۔ ’ملاقاتیں کیا کیا‘ کے نام سے ان کی کتاب میں عالمِ اسلام اور پاکستان کی بڑی شخصیات کے انٹرویوز ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ شخصیات اور پاکستانی مشاہیر۔ ان کا انٹرویو لینے کا انداز بھی ایک خاص فن تھا۔ وہ ایک گفتگو کرنے والے انٹرویور تھے، نہ کہ پولیس کے تفتیشی۔ الطاف صاحب اردو صحافت میں بے تکلف، منفرد انداز کا تفصیلی انٹرویو کرنے کے حوالے سے امامِ اول تھے۔
مرنے کے بعد سب بڑے بنتے ہیں، یہ سچ ہے۔ کچھ لوگ مگر مرنے سے پہلے بھی بڑے ہوتے ہیں۔ الطاف قریشی صاحب ان میں سے ایک تھے۔
ہمارے ہاں ایک عام رجحان ہے کہ بزرگوں کو رخصت کے بعد یاد کیا جاتا ہے، حیات میں نظر انداز، مگر یہ بات قریشی صاحب کے ساتھ نہیں ہوئی۔ ان کی زندگی میں ہی ان کی شخصیت کا اعتراف ہوا۔ تقریبات منعقد ہوئیں، اعزازات ملے، انٹرویوز ہوئے، ان کے کام پر تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ اور یہ بھی ان کی شخصیت کی ایک خوبی ہے۔

یہ عظیم صحافی 94 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوا جو اپنی ذات میں ایک فرد نہیں ادارہ تھا (سکرین گریب)

وہ بہت سے دوسرے نظریاتی صحافیوں کی طرح تنگ نظر نہیں رہے۔ وہ اپنے مخالفین کو بھی عزت دیتے، ان سے ملتے، ان کی بات سنتے۔ ایک شائستہ، تہذیب یافتہ، اور مہذب صاحب علم صحافی، یہ ان کی ہمیشہ پہچان رہی۔
آخری بات: ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی صحافت کا اخلاقی معیار گر چکا ہے، جب چینلز پر گالی گلوچ معمول ہے، جب صحافی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو فن سمجھتے ہیں، جب نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے، ایسے میں الطاف حسن قریشی جیسے انسان کا رخصت ہونا ایک تہذیبی نقصان ہے۔ سوچتا ہوں، ان جیسا اب دوبارہ کب پیدا ہوگا؟ ان جیسا رسالہ کب نکلے گا؟ ان جیسی تربیت گاہ کب بنے گی؟ ان جیسا محنتی، پرفیکشنسٹ ایڈیٹر کب ملے گا، جو نوجوان لکھاری کے مسودے پر گھنٹوں محنت کرے، اس کے ہر جملے کو پرکھے، اور پھر اسے ایسا واپس کرے کہ اگلی بار وہ خود سیکھ جائے؟ یہ سب اب ماضی کی روایت ہے۔ ہم نے فاسٹ فوڈ صحافت کو ترجیح دی ہے، اور سست رفتاری سے سکھانے والے استاد رخصت ہو رہے ہیں۔
استاد محترم الطاف صاحب پر رب کریم اپنی خاص رحمت فرمائے، آمین، ہمیں ان کی یاد سے کچھ سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین۔

 

شیئر: