Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی ایران کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے سخت وارننگ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جہاں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ بھی متحرک ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک نئی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جلد از جلد امن معاہدے کی طرف بڑھنا ہوگا یا پھر ’اس کے پاس کچھ باقی نہیں بچے گا۔‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے باعث بننے والی صورت حال میں الجھا ہوا ہے اور مذاکرات میں تعطل کو دور کرنے اور جنگ کے خاتمے کی کوشش میں ہے، ایک ایسی جنگ جس نے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور انہیں جلد قدم اٹھانا ہوگا ورنہ وہاں ان کے پاس کچھ باقی نہیں رہے گا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ’وقت بہت قیمتی ہے۔‘
ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو چکی ہے جہاں سے عالمی طور پر ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا تھا جبکہ اسی کی وجہ سے پڑوسی ممالک اسرائیل اور لبنان بھی ایک مہلک جنگ میں اتر گئے ہیں۔
ایران کی مذہبی حکومت جو کہ حزب اللہ کی سرپرست ہے، نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی وسیع امن معاہدے سے پہلے لبنان میں دیرپا جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کی شرائط پر معاہدے سے انکار پر امریکی صدر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔
اسرائیل کے ایک فوجی عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ حزب اللہ نے اسرائیل پر 200 کے قریب راکٹوں اور دوسرے گولہ بارود سے حملے کیے ہیں حالانکہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک کے جنوبی علاقوں پر اسرائیل نے نئے حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کی جانب سے حملوں کے نتیجے میں 2 ہزار 900  سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں وہ 400 افراد بھی شامل ہیں جو 17 اپریل کو جنگ ہونے کے باوجود ہونے والوں میں حملوں میں جان سے گئے۔
واشنگٹن اور تہران نے آٹھ اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور اس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ بعد میں تعطل کا شکار ہوا تاہم وقفے وقفے سے  اس کے بعد شروع ہونے والا مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے جبکہ وقفے وقفے سے حملے بھی ہو رہے ہیں۔
اتوار کو ایران کے سرکاری میڈیا پر بتایا گیا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے مجوزہ ایجنڈے کے حوالے سے ایران کے جواب میں امریکہ کوئی ٹھوس رعایت دینے میں ناکام رہا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے پانچ نکات پر مشتمل ایک فہرست پیش کی جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھنے اور اپنی اعلٰی درجے کی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے۔
نیوز ایجنسی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کا ’25 فیصد حصہ بھی‘ جاری کرنے یا جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔
اسی دوران مہر نیوز ایجنسی پر سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’امریکہ بغیر کسی ٹھوس رعایت کے وہ مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل کرنے میں ناکام رہا اور یہی بات مذاکرات کی راہ میں تعطل کا باعث ہے۔‘

شیئر: