Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ میں ایئر شو کے دوران دو لڑاکا طیارے آپس میں ٹکرا کر تباہ، پائلٹس نکلنے میں کامیاب

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)
امریکہ میں ایک ایئر شو کے دوران دو جنگی طیارے آپس میں ٹکرا گئے تاہم دونوں میں موجود چار پائلٹ حادثے سے قبل ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق شو آرگنائز کرنے والی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ اتوار کو آئیڈاہو کے علاقے میں موجود ایئر فورس بیس میں ہونے والے ایک ایئر شو کے دوران پیش آیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں حرکت میں آ گئیں اور جہازوں کے گرنے والے ملبے میں لگی آگ کو بجھایا گیا اور اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
آئیڈاہو کی کمپنی سلور ونگز کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر کم سائیکس کا کہنا ہے کہ دونوں طیاروں کے اندر دو، دو پائلٹ موجود تھے تاہم ان کو حادثے سے قبل اندازہ ہو گیا تھا اور جہازوں کے ٹکرانے سے محض چند ہی لمحے قبل نکلنے میں کامیاب ہوئے اور بحفاظت زمین پر اتر گئے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب جہاز آپس میں ٹکرائے اس وقت وہ بیس کی فضائی حدود سے باہر تھے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ گن فائٹر سکائیز ایئر شو کے دوران پیش آیا. واقعے کے بعد بیس کی انتظامیہ کے حکام نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ بیس کو بند کر دیا گیا ہے اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں جبکہ تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں کہ حادثے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شو کے دوران مختلف فضائی کرتب پیش کیے جاتے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس وقت دیکھنے والے حیران رہ گئے جب اچانک دو جہاز ایک دوسرے کی سیدھ میں آ گئے۔
ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے اڈے سے باہر کچھ فاصلے پر گرے جبکہ چار افراد پیراشوٹ کے ذریعے نیچے اتر رہے ہیں۔ یہ بیس بوائزی کے علاقے میں جنوب کی طرف 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جب حادثے کے بارے میں معلومات جاننے کے لیے فائٹر ونگ کے دفتر تعلقات میں رابطہ کیا گیا تو فون اٹھانے والے شخص نے بتایا کہ فوری طور پر کوئی مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ایونٹ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مقبول فضائی شو ہے جس میں مختلف فضائی کرتب دکھائے جاتے ہیں اور پیراشوٹس کے ذریعے جمپ بھی لگائے جاتے ہیں اور اس کو ہوابازی سے متعلق ایک اہم ایونٹ کی حیثیت حاصل کیا جس میں فوجی صلاحیتوں کے مظاہرے بھی شامل ہوتے ہیں۔
اس سے قبل ہونے والے مظاہروں میں امریکی ایئر فورس نمایاں رہی تھی۔
اسی طرح نیشنل ویدر سروس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ حادثے کے وقت ہوا 47 کلومیٹر کی رفتار سے چل رہی تھی جبکہ اس وقت روشنی بھی بہتر حالت میں تھی۔

شیئر: