3ہزار سال پرانی ممی کو ’’زندہ‘‘ رکھا جاسکتا ہے، ماہرین

 لندن ....  اہل مصر زمانہ قدیم سے اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور اعلیٰ عہدیداروں نیز قبائلی سرداروں اور حکمرانوں کی نعشوں کو اپنے پاس محفوظ رکھنے کیلئے انہیں حنوط آلودہ کردیتے تھے جس کے بعد وہ ممی بن جاتی تھیں اور پھر ہزاروں سال تک یہ ممیاں خراب نہیں ہوتی تھیں۔ ایسی ہی ایک ممی ان دنوں کینٹ کے چیڈنگٹن کیسل میں زیر نمائش ہے  جسے3ہزار سال پرانا قرار دیا جارہا ہے اورماہرین آثار قدیمہ اور جدید ٹیکنالوجی پر دسترس رکھنے والوں کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے ہمیشہ ہمیشہ ’’زندہ ‘‘ رکھا جاسکتا  ہے اور عین ممکن ہے کہ اس ممی کی ساری تفصیلات معلوم ہوجائیں۔ واضح ہو کہ  اہل مصر میں زمانہ قدیم سے یہ بات سنی جارہی ہے کہ اگر آپ کسی حنوط شدہ نعش یا ممی کا نام بار بار دہراتے رہیں تو اسے ابدی زندگی مل جاتی ہے۔ اب ماہرین نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس ممی کا نام معلوم کرلیا ہے جو 3ہزار سال قبل ہلاک ہونے والے کسی مقتدر شخصیت کی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین اور ماہرین آثار قدیمہ نے ایک نئی اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ممی  کا جائزہ لیا اور اسکے بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ انہوں نے نئی ٹیکنالوجی کی مددسے ممی کی متعدد ڈیجیٹل تصاویر اتاری ہیں اور پھر ان پر درج تحریروں کو غور سے پڑھا توانہیں ساری باتیں معلوم ہوئیں۔ اس ممی کو بھی دوسری بہت ساری ممیوں کی طرح خاص قسم کی  گھاس پیرس میں لپیٹ کر رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہا ہے کہ جس شخص کی یہ ممی ہے اسکا نام ایڈو تھوریرو  ہے جسکا مطلب ’’نگراں آنکھیں‘‘ ہوتا ہے۔ یہ نام حنوط شدہ لاش کے جسم پر لپٹے کفن کے نیچے درج تھا او راسے پڑھنے کیلئے اسکے اوپر جو تہہ چڑھائی گئی تھی اسے ہٹانا ضروری تھا۔ چیڈنگٹن کیسل کے عجائب گھر کی ماریہ  کا کہناہے  کہ ہم اس قدیم روایت کو مانتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی کو ابدی زندگی دینا ہے تو اس کی نعش کے سامنے بار بار اس کا نام پڑھا اور دہرایا جائے۔ تمام تحریریں ہائیرو گلیفکس رسم الخط میں ہیں۔ اس تحقیق  میں حصہ لینے والوں میں ڈاکٹر کیتھرین پیکٹ نے کام کیا جو سینیئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔
 

شیئر: