”گلوکومیٹر“خون پی کر شناخت کرنے والا موبائل

 علی احمد جعفری پیرسری ۔ کراچی / جدہ
جمعہ کا روز چھٹی والا دن تھا ۔میں فجر کی نماز سے فارغ ہو کر سو گیا۔ قریب دس بجے آنکھ کھل گئی ۔میں اپنے کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ گھر کے داخلی دروازے سے اپنے بےٹے ناصر کو داخل ہوتے دیکھا جسکے ہاتھ میں اےک شاپر تھا۔ ناصر نے ہمیں دےکھتے ہوئے زور سے پوچھا ابو آپ نے ابھی ناشتہ تو نہیں کیا ؟ہم نے جواب دیا نہیں بیٹا ابھی تو تمہاری امی سو رہی ہیں ۔ میں سمجھا جمعہ کا روز ہے، بیٹا گرم گرم آلو کے پراٹھے اور حلوہ پوری لایا ہے۔ حلوہ پوری ہماری کمزوری ہے۔
ناصر نے کہا کہ آپ میز پر تشریف رکھیں، میں احتیاطاً باورچی خانے سے حلوہ پوری اور پراٹھوں کےلئے چند پلیٹیں اور ڈونگے بھی ساتھ لے آیا ۔ناصر نے کہا ابو یہ کاہے کو لائے ہیں ؟میں نے کہا کہ بیٹا حلوہ پوری کےلئے ۔اس نے کہا آپ میرے سامنے تشریف رکھیں۔ابھی سب دودھ کا دودھ اور پانی پانی کا پانی ہو جائیگا اور حلوہ بھی نکل آئیگا ۔ہم اسکا مطلب نہیں سمجھ سکے اور نہ ہی شاپر سے پڑاٹھے و حلوہ پوری کی خوشبو آرہی تھی۔ ہمارا تجسس بڑھتا جا رہا تھا کہ ناصر نے شاپر میں سے دو تین چھوٹے چھوٹے باکس نکالے اور پھر اےک چھوٹے سے لیدر بکس سے اےک موبائل نکالا۔ مجھے اپنے بےٹے کی سعادت مندی اور باپ کی خواہش کا خیال کرنے پر اس قدر خوشی ہوئی کیونکہ ابھی دو روز پہلے ہی میں نے اےسے ہی تذکرہ کیا تھا کہ میرا موبائل کچھ ٹھیک کام نہیں کر رہا ۔ بیٹے کو یہ بات کیسے گوارا ہو سکتی تھی کہ اس کے پاس اچھا موبائل ہو اور باپ کے پاس خراب ۔وےسے ہماری ساری زندگی یہ خواہش رہی کہ ہماری بیگم اسمارٹ نظر آئیں مگر ایسا نہ ہو سکا ۔ 
آخری عمر میں چلیں اسمارٹ بیوی نہ سہی اسمارٹ موبائل توپاس ہے ۔ بہر حال جناب صاحبزادے نے اسکا پمفلٹ نکالا اور اسے پڑھنے لگے۔ ہم نے موبائل کو ہاتھ لگانا چاہا مگر اس نے کہا ابو ٹھہر جائیں مجھے اسکا طریقہ استعمال پڑھنے دیں۔ آپ بلاوجہ الٹا سیدھا بٹن دبا دیں گے ۔وہ کافی دیر تک اسکا مطالعہ کرتا رہا پھر اس نے بیگ میں سے اےک قلم نما چیز نکالی اور اسے غور سے دےکھتا رہا۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ کیا چیز ہے ۔ آپ کو یاد ہو گا جب پہلے ٹچ موبائل آئے تھے اس کے ساتھ اےک چھوٹی سی پنسل نما باریک سی لکڑی ہوتی تھی اور بجائے انگلی کے اسے استعمال کیا جا تا تھا اب زمانہ ترقی کر گیا ہے، ممکن ہے کہ پنسل کی جگہ قلم نے لے لی ہو ۔
اچانک صاحبزادے نے صدا لگائی، ابو آجائےے مید ان میں۔ ابھی آپ کتنے پانی میں ہیں، سب پتہ لگ جائے گا ۔ میں نے کہا بیٹا مجھے موبائل کا طریقہ استعمال سمجھا رہے ہو یامیدان میں گھڑ سواری؟
ہم دونوں آمنے سامنے بےٹھے ہوئے تھے کہ ناصر نے کہا کہ سیدھے ہاتھ کی انگلی آگے کریں ۔ اس نے اےک ڈبے میں سے الکلی کا پیڈ نکالا اور دوسری ڈبیا میں سے اےک چھوٹی سی لکڑی کی اسٹرپ نکالی ۔ اب اس نے الکلی سے ہماری انگلی صاف کی۔ ہم سمجھ گئے کہ آجکل وائرس کا زمانہ ہے، اچھا خاصاکمپیوٹر چل رہا ہوتا ہے، معلوم ہوا کام نہیں کر رہا۔ پتہ لگا کہ اس میں وائرس گھس گیا ہے اور کمپیوٹر کرپٹ ہو گیا ہے ۔ عجیب بات ہے پہلے انسان کرپٹ ہوتا تھا اب کمپیوٹر کرپٹ ہونے لگا ۔ ہم سمجھے کچھ ایسا ہی معاملہ موبائل میں ہونے لگا ہو، اس لئے انگلی کو پہلے جراثیم سے پاک کیا جا رہا ہے۔ اچانک صاحبزادے نے وہ قلم نما چیز کی نوک ہماری انگلی میں چبھا دی اور ہمارے خون کا اےک قطرہ لکڑی کی اسٹرپ پر ٹپکا دیا اور اس اسٹرپ کو موبائل کے اندر داخل کر دیا۔ ہم نے کہا بیٹا کیا یہ موبائل چنگیز خان یا ہلاکو خان کے دیس کا بنا ہوا ہے جو چلنے سے پہلے ہمارا خون پینا چاہتا ہے ؟ پھر اےک دم خیال آیا کہ ایسی بات نہیں ۔ سائنس بہت ترقی کر گئی ہے ۔ ایسا کرنے سے ہمارے موبائل کے اندر ہمارے خون کا گروپ داخل ہو جائےگا اور پھر دوسرا شخص چاہے اسے پاس ورڈ بھی معلوم ہو جائے ،وہ اسے استعمال نہیں کر سکے گا ۔
ابھی ہم اسی شش و پنج سے گزر رہے تھے کہ اخبار میں پڑھی ہوئی اےک خبر اےک دم نظروں میں گھوم گئی۔ خبر اس طرح تھی کہ اےک ہوا ئی سفر کے دوران اےک خاتون نے اپنے شوہر کی جہاز میں پٹائی شروع کر دی اور ہاتھوں و جوتوں کی وہ بارش ہوئی کہ جہاز میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ واقعہ یوں تھا کہ شوہر صاحب بڑے عاشق مزاج تھے ۔ شادی کے بعد بھی انہوں نے اس کاروبار کو جاری رکھا ہوا تھا ۔انکی بیگم بڑی پریشان تھیں کہ انکو رسی کا سرا نہیں مل رہا تھا چونکہ شوہر صاحب کا لیپ ٹاپ اور موبائل جس پر عاشقی اور معشوقی کا کاروبارہوتا تھا ،وہ اس وقت ہی اوپن ہوتا تھا جب انکا تھمب امپریشن اسکرین پر لگے ۔ دوران سفر موصوف کو نیند آگئی ،بیوی کو موقع مل گیا ۔ انہوں نے شوہر صاحب کا انگوٹھا پکڑا اور اسکرین پر لگا دیا۔ بس پھر کیا تھا ،تمام میسجز بیوی نے شکوہ اور جواب شکوہ کی طرح پڑھ لئے بلکہ نام اور نمبر بھی پتہ لگ گئے ۔ یہ لات اور گھونسے اور تھپڑ انہی سارے میسجز کا جواب تھا۔
ہم سائنس کی نئی ایجاد سے بہت خوش تھے کہ ہماری بیگم ہمارا خون جلا تو سکتی ہےں، ہمیں خون کے آنسو رلا سکتی ہیں مگر ہمارا خون نکال نہیں سکی تھیں ۔ ابھی ہم اسی قصے میں الجھے ہوئے تھے کہ صاحبزادے نے موبائل ہمارے سامنے کر دیا اور کہنے لگا یہ دےکھئے ۔میں نے جواب دیا ہاں بیٹا دیکھ لیا بہت اچھا اور خوبصورت ہے ۔بس تم مجھے اسکا طریقہ¿ استعمال بتلا دو ۔ کہنے لگا ابو اسکرین پردیکھیں کیاآرہا ہے میں نے دےکھا اس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا 185۔ہم سمجھ گئے بیٹا اپنے منہ سے اسکی قیمت کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ شرمندگی نہ ہو اس لئے اس نے موبائل کی اسکرین پر 185قیمت لکھ دی ہے ۔ میں نے کہا کہ بیٹا کوئی بات نہیں، ہم اےک غریب ملک سے ضرور تعلق رکھتے ہیں مگر اس قدر گئے گزرے بھی نہیں کہ 185ریال نہ دے سکیں ۔ اس نے ہمارا جواب سنے بغیر کہا ،ابو آپ کا آج سے سب کچھ بند ۔اتنے میں ہماری بیگم اندر داخل ہوئیں۔ صاحبزادے نے موبائل کی اسکرین ماں کی طرف کر دی۔ وہ فوراً بولیں 185تو بہت کم ہے ۔ 370ہونی چاہئے ۔ میں نے کہا بیگم اس قدر ظلم مت کرو ،مانا مہنگائی ہے مگر آپ نے تو آن واحد میں موبائل کی قیمت ڈبل کر دی ۔ اتنا ظلم اچھا نہیں ہے ۔ اس عمر میں تو بیگم شوہرکی خدمت میں جُت جاتی ہیں ابھی یہ قصہ کمرے میں چل ہی رہا تھا کہ شوروغل سن کر ہماری بہو ایلیاءکمرے میں داخل ہوئی اور کہنے لگی آپ لوگ سمجھ کیوں نہیں رہے ۔ پھپھا کو بتلائیں کہ یہ موبائل نہیں ، شوگرچیک کرنے کا آلہ”گلوکومیٹر“ ہے ۔یہ سننا تھا کہ ہم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا ۔ 
 
 
 

شیئر: