خیبر پختونخوا کے گرلز کالجوں میں ویلکم اور فیئرویل پارٹی پر پابندی
خیبر پختونخوا کے گرلز کالجوں میں ویلکم اور فیئرویل پارٹی پر پابندی
بدھ 4 فروری 2026 15:35
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
حکام کے مطابق ’طالبات کو ایونٹ منعقد کرنے کے لیے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے اجازت لینا ہوگی‘ (فائل فوٹو: ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ)
خیبر پختونخوا ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے تحت خواتین کے تعلیمی اداروں میں تقریبات کے انعقاد کو نئے ایس او پیز سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کالج کے احاطے میں ویلکم، فیئرویل پارٹی یا پھر کلچرل شو بغیر اجازت منعقد کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور ڈائریکٹویٹ آف ہائر ایجوکیشن سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
خواتین کے کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ یا اس قسم کی کسی بھی پرفارمنس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
نئے قواعد و ضوابط کے تحت طالبات کے لیے تقریب میں شرکت کے لیے یونیفارم پہننا لازمی ہوگا جبکہ تقریبات کی ویڈیوز یا تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کیا جائے گا۔
محکمۂ اعلٰی تعلیم نے ہدایت جاری کی ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر تمام تقریبات معاشرتی اقدار اور ثقافت کے مطابق منعقد کی جائیں گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والے کالج کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق خواتین کے کالجوں میں ہر کلاس کی طالبات مختلف ناموں سے ایونٹس منعقد کرتی ہیں، تاہم اب انہیں ایونٹ منعقد کرنے کے لیے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے اجازت لینا ہوگی۔
حکام کے مطابق طالبات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں جس سے نہ صرف اِن طالبات کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ ڈیپارٹمنٹ کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
حکام نے اپنے بیان میں اس حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ طالبات کا موقف
طالبات نے ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن کے نئے ایس او پیز پر تشویش کا اظہار کیا ہے (فائل فوٹو: یونیورسٹی آف پشاور)
پشاور کی طالبات نے نئے ایس او پیز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالج کے اندر ایونٹس کا انعقاد اُن کی تفریح کے لیے کیا جاتا ہے اور موسیقی یا ثقافتی تقریبات پر پابندی لگانے کے بجائے اُن کے لیے الگ سے قواعد و ضوابط بنائے جائیں۔
کالج کی طالبات کے مطابق فیئرویل یا ویلکم پارٹیز گذشتہ کئی برسوں سے منعقد ہوتی آرہی ہیں جو کہ تعلیمی اداروں کی روایات کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب کچھ طالبات نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کو سراہتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی اور ایونٹس کے نام پر آئے روز طالبات کا قیمتی وقت ضائع کیا جاتا ہے۔
طالبات کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال میں کچھ ایونٹس کے لیے اجازت ملنی چاہیے جبکہ غیر ضروری ایونٹس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ طالبات کی ماڈلنگ کا تنازع
جامعہ پشاور کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے رواں برس 15 جنوری کو ایک ویلکم پارٹی منعقد کی گئی جس میں طالبات کی ماڈلنگ سے ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور اُن کی ویڈیوز کو غلط انداز میں سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔
طالبات کی ریمپ واک پر نہ صرف منتظمین کو شوکاز نوٹس جاری ہوا بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کے خلاف انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔