Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب: قصور میں 4 سال کی بچی کے ساتھ ’زیادتی‘، ملزم گرفتار

صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو بچی کے بہترین علاج کی ہدایت کی۔ (فوٹو: اے پی پی)
پنجاب کے ضلع قصور میں چار سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق قصور کے علاقے تھانہ مصطفیٰ آباد کی حدود میں چار سالہ لاورث بچی ملی جو زخمی حالت میں پائی گئی۔
بچی کو شدید زخمی حالت میں مصطفیٰ آباد کے قریب پھینکا گیا تھا جسے فوری طور پر قصور کے بابا بلھے شاہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔
تھانہ مصطفیٰ آباد میں ایس ایچ او حافظ تصدق حسین کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ کے مطابق ایک شخص نے اطلاع دی کہ محلہ نواں تھہ مصطفیٰ آباد میں ایک لاوارث بچی پڑی ہے جس کے کپڑے خون آلود اور جسم زخمی ہے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر بچی کو قصور کے بابا بلھے شاہ ہسپتال منتقل کیا جہاں ابتدائی طبی امداد دی گئی تاہم تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے لاہور کے جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد ورثا کی تلاش کے لیے اشتہار جاری کیے گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق بچی کو ممکنہ طور پر جنسی تشدد و زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔
تھانہ مصطفیٰ آباد میں تعینات سب انسپکٹر اشفاق احمد نے اردو نیوز کو بتایا ’ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور بچی کے ورثا بھی معلوم ہو گئے ہیں۔ اس وقت میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری میں موجود ہوں۔‘
صوبائی وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ کو بچی کے بہترین علاج کی ہدایت کی اور ڈی پی او قصور سے رپورٹ طلب کی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ ایسے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے گی۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ معصوم بچی کے ساتھ ظلم کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ بچی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں سکھیرا نے خود ہسپتال کا دورہ کیا اور بچی کی عیادت کی اور ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیڈی پولیس اہلکار بچی کے ساتھ تعینات ہیں تاکہ اس کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔
قصور پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ڈی پی او قصور کی ہدایت پر ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملزمان کو ٹریس کیا جا رہا ہے۔‘
 تاہم اب پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مکمل طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
زخمی حالت میں بچی ملنے کے بعد قصور پولیس اور متعلقہ حکام نے عوام سے اپیل کی تھی کہ جو بھی معلومات بچی یا ملزمان کے بارے میں فراہم کر سکے وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔ اس حوالے سے پولیس نے ایک اشتہار بھی جاری کیا تھا جبکہ مقامی مساجد میں اعلانات بھی کیے گئے تھے۔

شیئر: