Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بدعنوانی کے خاتمے کا مثالی حل” حد حرابہ“ کا نفاذ ہے، علی المرشد

  ریاض..... تعلیم نسواں کےسابق سربراہ اور معروف عالم دین شیخ ڈاکٹر علی المرشد نے واضح کیا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کا مثالی حل” حد حرابہ“ کا نفاذ ہے۔ بدعنوانی کرنےوالے ایک طرح سے معاشرے کے پورے نظام کو تہہ وبالا کردیتے ہیں۔المرشد نے قرآن کریم میں مذکور اس آیت سے استدلال کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ”اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والوں اور زمین میں فساد برپا کرنےوالو ں کی جزا اسکے سوا کچھ نہیں کہ انہیں اچھے سے قتل کیا جائے، یا انہیں سولی پر لٹکا دیا جائے یا انکے ہاتھ اور پیر مختلف شکل میں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلاوطن کردیا جائے۔ یہ دنیا میں انکے لئے رسوائی کا باعث بنے گا اور آخرت میں انکے لئے بڑا عذاب ہے“۔ المرشد نے توجہ دلائی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں حد حرابہ دنیا میں فساد پھیلانے والوں، دہشتگردوں اور ان جیسے لوگوں کی بیخ کنی کیلئے ہی نازل کی ہے۔حرابہ کی سزا ہر اس شخص پر لاگو ہوسکتی ہے جو بھی انتہا پسندی کے راستے پر جارہا ہو۔ لوگوں کو ڈرا، دھمکا رہا ہو ، رہزنی کا مرتکب ہورہا ہو۔ لوگوں کی جان و مال طاقت کے بل پر چھیننے کے درپے ہو۔ یہ سزا مرد اور خواتین دونوں کیلئے ہے۔ المرشد نے مطالبہ کیا کہ ملکی امن کی حفاظت کیلئے اس قسم کے مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں اور اس سلسلے میں ادنیٰ رحم سے کام نہ لیا جائے۔

شیئر: