امریکہ اور ایران معاہدہ کے قریب، آئندہ چند روز میں دستخط متوقع: امریکی عہدیدار
امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے کی شرائط صدر ٹرمپ کے بنیادی مقاصد پورے کرتی ہیں۔ (فوٹو: روئٹرز)
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تین ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور معاہدے پر آئندہ چند روز میں دستخط ہو سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو تیل کی بین الاقوامی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں نرمی کی راہ ہموار ہوگی۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال نہیں کیے جائیں گے بلکہ یہ عمل اس بات سے مشروط ہوگا کہ تہران معاہدے میں طے شدہ شرائط پر مکمل عمل درآمد کرے۔
ان کے مطابق اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو اسے معاشی فوائد حاصل ہوں گے، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں میں نرمی شامل ہے، تاہم معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو کوئی فوری معاشی فائدہ نہیں ملے گا۔
عہدیدار نے کہا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر یورپ میں آئندہ چند روز کے دوران دستخط ہو سکتے ہیں، تاہم مقام کے بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
معاہدے کے بعد 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا جس میں تکنیکی اور عملی تفصیلات طے کی جائیں گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے جی سیون کے اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس جا رہے ہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے کی شرائط صدر ٹرمپ کے بنیادی مقاصد پورے کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کیا جائے گا، جبکہ اس کے پاس موجود اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کو تلف یا ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔
معاہدے میں ایک جامع نگرانی اور معائنہ نظام بھی شامل ہوگا تاکہ اس پر طویل المدتی عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اندازوں کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 900 پاؤنڈ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم موجود ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے مجوزہ معاہدے کے بارے میں مختلف مؤقف اختیار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے میں تہران نے امریکہ کو زیادہ رعایتیں نہیں دی ہیں۔
امریکی عہدیدار نے ایرانی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات زیادہ تر ایران کی اندرونی سیاسی ضروریات کو مدنظر رکھ کر دیے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے جوہری مواد کی منتقلی، افزودہ یورینیم کے انتظام اور جوہری تنصیبات کو غیر فعال بنانے جیسے معاملات انتہائی پیچیدہ ہیں اور ان کی تکنیکی تفصیلات بعد کے مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔
عہدیدار کے مطابق فریقین جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے، جوہری تنصیبات کی بندش اور معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری تکنیکی انتظامات پر اتفاق کے قریب ہیں۔
