Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کھجور کی شاخ کے قلم، نجدی دوات اور پتھر سے بنے چراغ: مملکت کی تاریخ کے گواہ

سعودی عرب کے علمی ثقافتی و تہذیبی ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے قصیم یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر حمد الصیخان نے مملکت میں رائج رہنے والے قدیم تعلیمی مواد و تدریسی آلات کو ایک جگہ اکھٹا کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر الصیخان کا کہنا تھا کہ ’ان کے ذخیرے میں بعض ایسی اشیا بھی شامل ہیں جو سعودی ریاست کے ابتدائی ادوار سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں سے بعض کی متوقع عمر 300 برس سے بھی زائد ہے۔‘
تعلیمی مواد اور آلات جمع کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’قدیم ورثے کو جمع کرنے کا یہ شوق زمانۂ طالب علمی سے تھا تاہم یونیورسٹی کے زمانے میں ایک نئی سوچ ابھری اور قدیم تعلیمی مواد جمع کرنا شروع کیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ قدیم تعلیمی آلات کی تاریخی و ثقافتی اہمیت ہی اس ریکارڈ کو مرتب کرنے کا بنیادی محرک بنی جس کا سلسلہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔
ڈاکٹر حمد الصیخان نے بتایا کہ ’ان نادر اشیا تک رسائی اور کاتبین کی تاریخ کا سراغ لگانے، ان کے خاندانوں سے رابطوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ اس عمل کے نتیجے میں قلم، دواتیں، چوبی تختیاں، تعلیمی دستاویزات اور کتابت کے دیگر ذرائع سمیت متعدد تاریخی اشیا جمع کیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ نوادارت محض قدیم آلات ہی نہیں بلکہ ایک علمی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں جو ماضی کے تعلیمی اور تحریری طریقوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں اور نئی نسل کو اس جدوجہد سے روشناس کراتے ہیں جو علم و دانش پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لیے کی گئی۔‘

قدیم تعلیمی آلات اور تدریسی مواد آج بھی مملکت کے قومی تعلیمی ورثے کے تحفظ اور تاریخِ تعلیم سے آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
 یہ تہذیبی شواہد سعودی تعلیمی تجربے کی گہرائی، معاشرے میں علم کی اہمیت اور انسانی ترقی و قومی تعمیر میں اس کے بنیادی کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔
خیال رہے عہدِ رفتہ میں تحریر و تدوین کے لیے متعدد مقامی ذرائع استعمال کیے جاتے تھے. سیاہی کی تیاری میں مختلف قدرتی اجزا شامل ہوتے تھے جن میں تنوم درخت، زعفران، عصفر، کوئلہ اور انار کے چھلکے وغیرہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ اثل اور بیری کے درخت کی لکڑی سے تختیاں جبکہ کھجور کی خشک شاخوں اور بانس سے قلم بنائے جاتے تھے۔

تحریری سامان میں دواتوں کی مختلف اقسام رائج تھیں جن میں نجدی دوات، اسطوانی دواتیں، مشرقی طرز کی نقش و نگار سے مزین دواتیں، تانبے اور لوہے کی دواتیں، رنگین شیشے کی دواتیں شامل تھیں۔
کتب کی تیاری اور جلد سازی کے لیے بھی خصوصی آلات استعمال ہوتے تھے۔ ان میں ’المضمدۃ‘ نمایاں تھی جس کے ذریعے کتاب کو مضبوطی سے باندھ کر سلائی، کڑھائی کی جاتی اور چمڑے کی جلد پر نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔ اسی طرح ماضی میں کتب سازی کے لیے ’المشد‘ نامی آلہ جلد پر چمڑے کو کھینج کر اسے مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

ماضی میں طلبا رات کے وقت مطالعے کے لیے پتھر سے بنے چراغ استعمال کیا کرتے تھے، جن میں چربی کا تیل اور بتی رکھی جاتی تھی جسے جلا کر مطلوبہ روشنی میں مطالعہ کیا جاتا۔

شیئر: