Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوشل میڈیا کی کمائی پر ودہولڈنگ ٹیکس، بجٹ میں 664 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کیا ہیں؟

پاکستان کے نئے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل اکانومی کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور وہاں سے کمانے والے افراد حکومت کو ٹیکس دینے کے پابند ہوں گے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی بجٹ تجاویز کے مطابق یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے مقبولِ عام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
اس نئے اقدام کا براہِ راست اثر ڈیجیٹل مواد بنانے والے اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر پڑے گا، جن کی آمدنی کو اب مروجہ ٹیکس قوانین کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔
مجوزہ قانون کی سب سے اہم کڑی ٹیکس وصولی کا وہ طریقہ کار ہے جس کے تحت اب سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی براہِ راست حکومت کے ریڈار پر آ جائے گی۔
ڈیجیٹل کانٹینٹ بنانے والوں کی کمائی پر یہ ودہولڈنگ ٹیکس خود سوشل میڈیا کمپنیاں نہیں کاٹیں گی، بلکہ یہ بھاری ذمہ داری ملک کے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر عائد کی جا رہی ہے۔ اب جب بھی کوئی عالمی پلیٹ فارم کسی پاکستانی انفلوئنسر کو ادائیگی کرے گا، تو متعلقہ بینک رقم منتقل کرتے وقت ہی مجوزہ ٹیکس کی کٹوتی کو یقینی بنائے گا۔

664  ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کی فنانس بل پر دی گئی بریفنگ کے مطابق، آنے والے مالی سال کے فنانس بل میں مجموعی طور پر 664 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ براہِ راست نئے ٹیکسوں کا حجم محض 100 سے 150 ارب روپے کے لگ بھگ ہے، جبکہ باقی ماندہ رقم ٹیکس قوانین کے سخت نفاذ اور انفورسمنٹ کے ذریعے پوری کی جائے گی۔
بجٹ میں سروسز سیکٹر کے ٹیکس ڈھانچے میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے، جہاں کورئیر، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور ایئر کارگو جیسی خدمات پر ٹیکس چھ فیصد سے بڑھا کر سات فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ پورٹ اور ٹرمینل سروسز پر عائد 15 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 12 فیصد کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، بجٹ میں آٹو موبائل اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے بھی پالیسی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ایک طرف جہاں بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بزنس کلاس کے ہوائی ٹکٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی ایک بڑی رعایت تجویز کی گئی ہے، تو دوسری طرف بڑی اور لگژری گاڑیوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق درآمدی گاڑیوں پر ایف ای ڈی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ دو ہزار سے تین ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور تین ہزار سی سی سے زائد کی گاڑیوں پر ڈیوٹی مزید بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ملک میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مہنگی اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر قیمت کے لحاظ سے 30 سے 40 فیصد تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم عام طبقے کے زیرِ استعمال الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور برقی بسوں کے لیے پہلے سے موجود تمام مراعات کو برقرار رکھا گیا ہے۔
مال برداری کے شعبے کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے درآمدی برقی ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت بھی دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں ایک نئی آٹو پالیسی پر بھی کام جاری ہے جس کا جائزہ وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی لے رہی ہے، اور یہ تمام تجاویز پارلیمنٹ سے حتمی منظوری کے بعد ہی قانون کا حصہ بنیں گی۔
دوسری جانب، حالیہ دنوں میں سولر پینلز پر نئے ٹیکسز کی افواہوں اور عوامی تشویش کے بعد ایف بی آر حکام نے پریس بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ سولر پینلز کی درآمد یا فروخت پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا۔

شیئر: