جلالی بیوی، شوہر بھی بدل دیتی ہے مگر خود نہیں بدلتی

صحافتی ماہرین کاکہناہے کہ خواتین سے زیادہ خبر سازو خبر دار کوئی نہیں ہو سکتا
صبیحہ خان ۔ ٹورانٹو
”وجود ِزن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“........یہ کسی عام جھام شخصیت نے نہیں کہا بلکہ شاعر مشرق، مصور پاکستان علامہ اقبال کا ہے فرمان۔یہ شعر انہوں نے بھی زمین حقائق کو بھانپ کر ہی کہا تھا۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت کے کئی روپ ہیں، وہ ماں بھی ہوتی ہے ، بیٹی بھی ، بہن بھی ، بہو بھی اور بیوی بھی عورت ہی ہوتی ہے اور اس کا ہر روپ اپنی مثال آپ ہوتا ہے ۔ آج کے جدید دور میں خواتین بہت زیادہ فعال اور جدت پسند ہیں اور دنیا کے ہر شعبے میں اپنا آپ منوا رہی ہیں۔
آج ہم عورتوں کی اقسام پر مختصراً روشنی ڈالیں گے اور وضاحت کریں گے کہ خواتین کی وہ کونسی اقسام ہیں جو آج کل زےادہ” اِن“ ہیں ۔ سب سے پہلے ہم ماہرین کا تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ وہ عورت کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں : 
٭٭ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عورتوں کی طویل عمری کا راز یہ ہے کہ انکی بیویاں نہیں ہوتیں ۔ یہ جسمانی اعتبار سے کمزور ہوسکتی ہیں مگران کی زبان کی توانائی آخر ی دم تک برقرار رہتی ہے ۔ 
٭٭ریاضی دانوں کی رائے ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین حساب میں زےادہ ماہر ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنی عمر کو ہمیشہ 2سے تقسیم کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔ اپنے لباس اور جیولری کو 2سے اور شوہر کی تنخواہ کو 3 سے ضرب دیتی ہیں اور اپنی سہیلیوں کی عمرمیں 5سال جمع کر دیتی ہیں ۔
٭٭کیمیا دانوںکا کہنا ہے کہ خواتین کے اجزائے ترکیبی میں سونے اور چاندی کے زیورات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ خواتین کی طبعی خصوصیات کے ضمن میں کیمیا دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ ہر رنگ میں پائی جاتی ہیں۔ان کی عمر کبھی 18سال سے آگے نہیں بڑھتی۔وضع وضع کے جدید ملبوسات میں گہری دلچسپی ان کا خاصہ ہوتی ہے ۔ وہ اپنے آنسوں کو بطور ہتھیار استعمال کر نے کے فن میں طاق ہوتی ہیں ۔
اسے بھی پڑھئے:وہ تو شادی سے پہلے ہی 10 بچوں کی اماں لگتی تھی
٭٭ صحافت کے ماہرین کاکہناہے کہ خواتین سے زیادہ خبر سازو خبر دار کوئی نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی خاتون اگر ابلاغی ذرائع پر نمودار ہو کر دو الفاظ بھی ادا کر دے تو وہ فوراً ہی ”بریکنگ نیوز“ کے طور پرٹی وی یا دیگر کسی بھی قسم کی اسکرین پرتہلکہ آمیز انداز میں دکھائی اور سنائی دینے لگتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ عورت سے اچھی خبر ساز مشین کوئی نہیں ہو سکتی ۔
٭٭ماہرین ِ جمال ،خواتین کے بارے میں کہتے ہیں کہ خواتین بڑی محنتی واقع ہوتی ہیں ۔ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سو میں سے 12عورتیں قدرتی طور پر ہی حسین ہوتی ہیں جبکہ باقی 88فیصد کا حُسن ان کی اپنی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔
٭٭ ماہر نفسیات شوہروں کو خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرد حضرات مختلف جھوٹ بولتے اور بہانے گھڑتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بیویوں کو بالکل بھی شک نہ ہونے پائے ورنہ پچھتانا پڑ سکتا ہے ۔ بہتر ہے کہ احتیاط کے طور پر سر پر ہیلمٹ پہن لیں کیونکہ بیوی کے ہاتھ میںتوا یا بیلن بھی ہو سکتا ہے جو ان کو دن میں تارے دکھا سکتا ہے ۔ ان سب ماہرین کی رائے کو رد کرتے ہوئے شاعر حضرات کیونکہ خواتین کےلئے دل میں بڑا نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ اس لئے وہ ان کی سچی جھوٹی جیسی بھی ہو، تعریف ضرور کرتے رہتے ہیں۔چلئے دےکھتے ہیں کہ خواتین کے کتنے رنگ اور اقسام ہیں :
**دکھی اور غمگین خواتین : ان کے دکھ کپڑے ، فیشن اور جیولری سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوجاتے ہیں ۔ اگرانکے شوہر انہیں شاپنگ نہ کرائیں تو یہ بہت دکھی ہو جاتی ہیں ۔ اپنی سہیلی یا پڑوسن کی نئی ساڑھی اور جیولری جو ان کی کمزوری ہوتی ہے ، دےکھ کر یہ غم میں ڈوب جاتی ہیں کہ آخر یہ سب ان کے پاس کیوں نہیں ۔ دوسروں کی حرص اور نقالی ان کی عادت ہوتی ہے۔ یہ نہ تو خود خوش رہتی ہیں اور نہ ہی دوسروں کی خوشی ان سے برداشت ہوتی ہے ۔ ان کے شوہروں کا زےادہ تروقت ان کو خوش کرنے اور منانے میں گزرتا ہے اور بالآخر وہ میاں کی جانب سے شاپنگ اور ڈنر کرانے پر مان ہی جاتی ہیں ۔ 
** شوخ چنچل خواتین : یہ بڑی زندہ دل اور حاضر جواب ہوتی ہیں ۔ فیشن میں یہ لڑکیوں کو بھی مات کر دیتی ہیں ۔ اکثر شادیوں میں ناچ گانا جو لڑکیوں کا شعبہ ہوتا ہے، یہ اس پر بھی قابض ہوتی ہیں ۔ یہ خواہ 50سال کی کیوں نہ ہوں، حرکتیں ان کی لڑکیوں والی ہی ہوتی ہیں۔
**حساس اور خوش گمان خواتین : یہ خواتین ذرا مختلف ہوتی ہیں ۔ان کے غم اور دکھ ذرا الگ قسم کے ہوتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی کا پہاڑ بنانے میں یہ اپنا ثانی نہیں رکھتیں ۔ کوئی ان کو آنٹی یا آپا کہہ دے تو سخت برا مانتی ہیںاور حساب کتاب کرنے بیٹھ جاتی ہیں ۔ یقینا آپ سمجھ گئی ہوں گی کہ یہ عمر کی ماری ہوتی ہیں۔
**چالاک اور گھنی خواتین:یہ قسم بھی خاصی خطرناک ہوتی ہے۔ مجال ہے جو آپ کو پتہ چل جائے کہ ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔ یہ اکثر زبانی کلامی کی بجائے اندرونی سازشوں میں ملوث ہوتی ہیں ۔ بظاہر سادہ اور با اخلاق دکھائی دینے کی کوشش کرتی ہیں ۔ اس لئے شوہر اور سسرال والے ان پر شک نہیں کر پاتے ۔ سازشی ڈرامے اور جاسوسی کرنے نیز خاندان میں فساد پھیلانے کےلئے یہ تمام ذرائع استعمال کرتی ہیں ۔بڑی معصومیت سے شادی کے بعد گھر کو اقوام متحدہ بناکر خود جنرل سیکریٹری بن جاتی ہیں اور اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذرےعے نندوں اور دیوروں پر اقتصادی پابندیاں لگوا دیتی ہیں ۔ میاں کی شکل میں ان کے پاس ”ویٹوپاور“ موجود ہوتی ہے چنانچہ وہ جب چاہے اپنے سسرالیوں کے خلاف ”ویٹوپاور“ کا استعمال کر کے ان کی خواہشات و مطالبات پر پانی پھیر سکتی ہیں۔ 
**وہمی شکی خواتین : ان کے کان انتہائی تیز اور آنکھیں عقاب کی مانند ہوتی ہیں ۔ جس طرح لوگ سیاست دانوں پر شک کرتے ہیں اسی طرح ایسی بیویاں اپنے شوہروں پر شک کرتی ہیں ۔ بعض بیویاں تو کسی بھی دوسری عورت پر اپنے شوہر کے حوالے سے اتنا شک کرتی ہیں کہ اسے اپنی سوکن بنا کر ہی چھوڑتی ہیں ۔موجودہ دور میں بیویاں شاید اپنے جوان شوہروں پر اتنا شک نہیں کرتیں جتنا وہ اپنے بڈھے شوہر کے بڑھاپے سے ڈرتی ہیں کہ نجانے کب وہ کسی کم عمر خاتون کو ان کی سوکن بنا نے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دے۔ خواتین اگر شکی مزاج ہونے کے ساتھ وہمی بھی ہوں تو سمجھیں کہ کریلا اور نیم چڑھا ۔
**رعب دار جلالی خواتین :یہ خواتین کی انتہائی خطرناک قسم ہے۔ ایسی اکثر خواتین ڈاکٹر ، وکیل ، استانی ماڈل یا اداکارہ ہوتی ہیں ۔ یہ بیوی اگر ڈاکٹر ہو تو سسرال والوں کا ایسا کامیاب آپریشن کرتی ہے کہ پھر انہیں کوئی بیماری نہیں ہوتی کیونکہ بیمار ہونے کےلئے زندگی شرط ہے ۔ وکیل بیوی اےسے قانونی داﺅ پیچ آزماتی ہے کہ اس کی مختلف دفعات کا شکار ہو کر سب گھر سے دفع ہو جاتے ہیں ۔ رہ جاتا ہے بے چارہ شوہر جسے پہلے ہی عمر قید ہو چکی ہے اور اگر بیوی استانی ہو تو کیا کہئے ،یہ اپنے شوہر سے اتنا ہوم ورک کرواتی ہے کہ بے چارہ دفتری کام کاج کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری کابھی ماہر ہو جاتا ہے ۔ اگر جلالی قسم کی بیوی اداکارہ یا ماڈل ہو یا سوشل ورک کرتی ہو تو ایسی خواتین خود کو نہیں بدلتیں ،باقی سب چیزوں کو بدل ڈالتی ہیں مثلاً گھر ، گاڑی ، جیولری اور بعض اوقات شوہر بھی بدل دیتی ہیںاس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتیں ۔ 
**مغرور، نک چڑھی،غصیلی خواتین : یہ قسم بہت زیادہ پاپولر ہے ۔ اس مزاج کی خواتین خود کودنیا میں کسی سے کم نہیں سمجھتیں۔ نزاکت سے چلتی اور بات کرتی ہیں ۔ نمودونمائش ان کی عادت ہوتی ہے۔ اپنی امارت ظاہر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ۔ ان نک چڑھی اور غصہ ور عورتوں کی وجہ سے خاندانوں میں بڑی رونق رہتی ہے کیونکہ بات بے بات لڑنا جھگڑنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے ۔ وےسے ان خواتین کے شوہر بڑی مسکین شکل کے ہوتے ہیں ۔ ان کے منہ سے جی کے علاوہ دوسرا لفظ نہیں نکلتا۔ اس ٹائپ کی جی دار خواتین ہمیشہ اپنے مےکے کے زعم میں رہتی ہیں اور اپنے ”جگا بدمعاش“ ٹائپ کے بھائیوں کا اپنے شوہروں پر خوب رعب ڈالتی ہیں ۔ 
**معصوم ،سادہ ،بے ضرر خواتین : یہ قسم عورتوں کی بڑی نایاب ہے۔ ان کو آپ گائے سے بھی تشبیہ دے سکتی ہیں ۔ ان خواتین کو بننے سنورنے کا قطعی شوق نہیں ہوتا ۔ وہ اس بات سے بے نیاز رہتی ہیں کہ وہ کیسی لگ رہی ہیں ۔ سارا دن سر جھاڑ منہ پہاڑ ، انکی شکلوں سے بیزار ان کے شوہر ٹی وی پر کترینہ کیف اور ایشوریہ رائے جیسی اداکاراﺅں کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھرتے رہتے ہیں مگر ان خواتین کو قطعی اس بات کی پروا نہیں ہوتی۔ وہ اپنے طرز زندگی کو بدلنے کے لئے بھی تیارنہیں ہوتیں ۔ لوگ اگر ان کو ڈرائیں بھی کہ تمہارے اس حال سے تنگ آکر تمہارا شوہر دوسری شادی کرلے گا، تو بھی ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اس لئے ایسی خواتین کے شوہروں کو مجبوراً دوسری بیوی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے مگر یہاں بھی ان کی سادہ دلی دیکھنے والی ہوتی ہے کہ وہ اپنی سوکن کو بھی یہ کہہ کر گلے لگا لیتی ہیں کہ سوکن بنی میری سہیلی ۔ 
مثالی بیویاں : یہ بڑی پر سکون طبیعت کی مالک ہوتی ہیں ۔ ہر حال میں مطمئن اور خوش رہنا جانتی ہیں۔ شوہروں کو قابو رکھنے کے ہنر سے واقف ہوتی ہےں ۔ ان خواتین کی قناعت پسندی ، سمجھداری ، سادگی ، صبروتحمل اور اپنی چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانے والا عمل ان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھتا ہے ۔ ان بیویوں کے شوہر بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی بیوی کی بے جا خواہشوں اور مطالبوں سے مجبور ہو کر رشوت یا دیگر غلط ذرائع سے دولت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اگر ساری خواتین اسی ٹائپ کی ہو جائیں تو دنیا میں چہار سو، گھر گھر امن کا راج ہو۔
 

شیئر: