جنگی صورت حال، پانچ روز میں پاکستان کی 578 پروازیں منسوخ، مسافر پریشان
جنگی صورت حال، پانچ روز میں پاکستان کی 578 پروازیں منسوخ، مسافر پریشان
جمعہ 6 مارچ 2026 9:42
زین علی -اردو نیوز، کراچی
منسوخ ہونے والی زیادہ تر پروازیں خلیجی ممالک کے لیے شیڈول تھیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایران اسرائیل جنگ اور مشرق وسطیٰ میں پیدا والی صورت حال کے باعث پاکستان سمیت مختلف ممالک میں فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔
خطے میں جاری صورت حال کے باعث پانچویں روز بھی مشرق وسطیٰ کے کم از کم آٹھ ممالک کی فضائی حدود مکمل یا جزوی طور پر بند رہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف شہروں سے جمعے کو بھی 160 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
فضائی آپریشن میں اس خلل نے ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ ایئرلائنز اور ایئرپورٹ حکام بھی صورت حال معمول پر لانے کے لیے متبادل انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے، جس کی وجہ سے پاکستان سے خلیجی ممالک جانے والی متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں سے 150 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جس کے بعد گزشتہ پانچ روز کے دوران منسوخ ہونے والی پروازوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 578 تک پہنچ گئی ہے۔
سب سے زیادہ اثر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دیکھا گیا جہاں دبئی، ابوظہبی، دوحہ، شارجہ، کویت اور بحرین جانے والی تقریباً 40 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اسی طرح اسلام آباد سے 38، لاہور سے 28، پشاور سے 24، ملتان سے 18، سیالکوٹ سے 8 اور فیصل آباد سے چھ پروازیں منسوخ کی گئیں۔
ان پروازوں میں بڑی تعداد ان مسافروں کی تھی جو خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے ہیں یا وہاں سے پاکستان آنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔
ایمریٹس کی ایک ریلیف پرواز ان مسافروں کو لے کر کراچی پہنچی جو کئی روز سے دبئی میں پھنسے ہوئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسی طرح لاہور سے کویت، دبئی، دوحہ، ابوظہبی اور بحرین کی 30 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ پشاور، فیصل آباد، ملتان اور کوئٹہ سے بھی خلیجی ممالک جانے والی کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
دوسری جانب فضائی آپریشن میں تعطل کے باعث ہزاروں مسافر دنیا کے مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے ہیں۔
پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافر خاص طور پر دبئی، دوحہ اور ابوظہبی جیسے بڑے ٹرانزٹ مراکز پر کئی گھنٹوں بلکہ بعض صورتوں میں کئی دنوں سے انتظار کر رہے ہیں۔ متعدد مسافروں کو اپنے سفر کی نئی بکنگ کروانا پڑ رہی ہے جبکہ کچھ کو ہوٹلوں میں قیام کرنا پڑا ہے۔
عالمی ایئرلائنز نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر بعض فضائی راستوں کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے جبکہ کئی پروازیں متبادل طویل راستوں سے چلائی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پروازوں کے دورانیے میں اضافہ اور ایندھن کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسی دوران دبئی سے ایمریٹس ایئرلائن کی ایک ریلیف پرواز پانچ روز بعد کراچی پہنچی۔ ایمریٹس کی پرواز ای کے 602 کے ذریعے دبئی میں پھنسے مسافروں کو کراچی لایا گیا۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق اس پرواز میں 300 سے زائد مسافر سوار تھے جو کئی روز سے دبئی میں انتظار کر رہے تھے۔
فضائی سروس متاثر ہونے کے باعث ہزاروں مسافر کئی ممالک میں پھنس گئے ہیں (فوٹو: اے پی)
حکام کے مطابق ایمریٹس ایئرلائن متحدہ عرب امارات میں پھنسے مسافروں کو مرحلہ وار ریلیف پروازوں کے ذریعے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی فضائی ٹریفک، تجارت اور توانائی کی سپلائی چین پر بھی اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک دنیا کے اہم فضائی ٹرانزٹ مراکز ہیں اور یہاں کی فضائی حدود بند ہونے سے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان سفر کرنے والی پروازیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
ادھر مسافروں اور ایئرلائنز دونوں کو امید ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بعد فضائی آپریشن جلد معمول پر آ جائے گا۔
تاہم فی الحال غیر یقینی کی صورت حال برقرار ہے اور ایئرپورٹ حکام مسافروں کو ہدایت کر رہے ہیں کہ وہ اپنی پروازوں کے بارے میں روانگی سے پہلے متعلقہ ایئرلائن سے تصدیق ضرور کروائیں۔