Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

احد کے قریب مسجد المستراح جہاں پیغمبرِ اسلام نے دعا فرمائی

مسجد المستراح، کوہِ اُحد کی جانب بائیں طرف سے آنے والے مقام کے قریب واقع ہے (فوٹو: ایس پی اے)
المستراح مسجد جسے مسجدِ بنی حارثہ بھی کہتے ہیں، مدینے کی نمایاں تاریخی مساجد میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اس کا تعلق پیغمبرِ اسلام کی سوانحِ عمری سے ہے۔
مدینے کے رہنے والوں سے مروی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ اُحد کے قریب واقع المستراح نامی اس مسجد میں آرام کیا اور دعا بھی فرمائی۔
روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ اس مسجد کا نام پیغمبرِ اسلام کے یہاں استراحت کرنے کی وجہ سے پڑا ہے جب (کوہِ) اُحد کی طرف جاتے ہوئے انھوں نے یہاں آرام کیا تھا اور اس وقت اسلحہ ان کے شانوں پر رکھا ہوا تھا۔
کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ لفظ ’مستراح‘ اصل میں جگہ کے بیان کے لیے ہے نہ کہ مسجد کے اصل نام کی وجہ سے۔
مسجد المستراح، کوہِ اُحد کی جانب بائیں طرف سے آنے والے مقام کے قریب واقع ہے۔ مسجدِ نبوی سے اس کا فاصلہ 2420 میٹر ہے جبکہ شمال کی جانب، مسجد اور اُحد کے پہاڑ کے درمیان کا فاصلہ لگ بھگ 1560 میٹر ہے۔
روایت ہے کہ مسجد المستراح، ان مساجد میں سے ایک ہے جہاں حضرت محد صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تھی۔

یوں یہ مسجد آج تک پیغمبرِ اسلام کے حیات کے مختلف مرحلوں کی تاریخی گواہ ہے جن کا ذکر ان کی سوانِح میں ملتا ہے۔
 اس کے علاوہ مسجد المستراح  فنِ تعمیر کا ایک ایسا امتیازی نشان ہے جو اُن کوششوں کی وجہ سے فوری توجہ حاصل کرتا ہے جو مدینے کے تاریخی مقامات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

شیئر: