کویت:خواتین کا عالمی دن، خواتین کے تاثرات

محمد عرفان شفیق ۔  کویت
کویت:کامیاب معاشرے کی ترقی میں خواتین کا کردار ایک کلیدی جزو ہے۔ مثل مشہور ہے کہ کامیاب مرد کے پیچھے ایک کامیاب عورت کا ہا تھ ہوتا ہے۔وطن  عزیز پاکستان کی ترقی میں عظیم خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔عظیم خواتین چاہے فاطمہ جناح کی صورت میں ہوں یا  محترمہ بینظیر کی صورت میں۔ چاہے وہ کھیل کے میدان میں نسیم حمید ہوں یا ثنا ء میر،  بینکنگ کے شعبہ میں ڈاکٹر شمشاد اخترہوں  یا سیما کامل، چاہے وہ مائونٹ ایورسٹ سر کرنے والی نمیرا سلیم ہوں یا پاکستان کی کم سن مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ انجینیئر عرفا کریم رندھاوا، اوسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے ہو ںیا پاکستان کی کم سن نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی، غرضیکہ کوئی شعبہ ایسا نہیں  جسے خواتین کے بغیر مکمل سمجھا جائے۔ یہ صنف نازک مرد حضرات کے شانہ بشانہ ہوائی جہاز اڑانے سے لیکر سرحدوں کے حفاظت کرنے تک کندھے سے کندھا ملا کر چلتی ہے۔ 
پاکستان ویمن فورم کویت اور پاکستان قرأت و نعت کونسل برائے خواتین کویت  میں پاکستانی خواتین کی نمائندہ تنظیمیں ہیں جن  کی خدمات سے کویت میں مقیم پاکستانی خواتین  استفادہ کرتی ہیں۔ پاکستان ویمن فورم کویت کی پیٹرن انچیف اہلیہ سفیر پاکستان مسز زیب النساء  دستگیر ہیں۔  خواتین کے عالمی دن    کی مناسبت سے مذکورہ تنظیموں سے وابستہ عہدیداران  نے اپنے پیغامات میں خواتین کے کردار کو سراہا۔
٭ چراغ در چراغ کی مصنفہ اور پاکستان ویمن فورم کویت کی چیئر پرسن شاہین اشرف علی  کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ امسال خواتین کا عالمی دن اس لحاظ سے بھی بہت خاص ہے کہ سعودی خواتین کو اس سال سے گاڑی چلانے کی اجازت مل گی ہے،  جو ایک اچھی تبدیلی کی ابتدا بھی ہے۔  1856 میں ہزاروں خواتین نے ان مظالم کے خلاف آواز بلند کی جو مردوں نے مغرب کی عورت کو قلیل اجرت کے حوالے سے روا رکھی تھی۔   برسوں مغرب کی عورت اپنے مساوی حقوق کے لیے جنگ کرتی رہی ہے۔40 سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے،  ابھی بھی کچھ ممالک میں خواتین سے غلاموں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ 
ہم مسلمان خواتین اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اسلام نے ہم کو بحیثیت عورت بہت سارے حقوق دیئے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بیٹا ماں کی تعظیم کرتا ہے،  شوہر بیوی کے لیے دن رات کام کرتا ہے اور مغرب کی اکیلی عورت کی بجائے ہماری خواتین کو کنبہ کی مضبوط پناہ گاہ حاصل ہوتی ہے۔  اس بات پر ہم جتنا بھی فخر کریں،   جتنا بھی سر بلند کریں کم ہے کہ ہم کو جو عزت و احترام بطور ماں بیٹی بہن اور شوہر جو محبت اپنی بیوی کو دیتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ ہمارے دین نے عورت کو بہت مضبوطی عطا کی ہے۔
٭ پاکستان ویمن فورم کویت کی صدر نادیہ محمد  اپنا پیغام شعر کی شکل  میں کچھ یوں دیتی ہیں : 
ہنستے ہوئے چہروں کو  غموں سے آزاد نہ سمجھو
ہزاروں غم چھپے ہوتے ہیں ہلکی سی مسکان میں
ایسی ہی ہوتی ہے عورت، چاہے کتنی ہی تکلیف سے گزرے۔اس میں الحمدللہ اتنی ہمت ہوتی ہے کہ وہ خود کو پھر سے سمیٹ کر ایک نئے جوش، نئی تازگی کے ساتھ پھر سے دنیا کی ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ عورت حوصلے کادوسرا نام ہے۔ سلام اُن  تمام خواتین کو جوکسی بھی شعبے سے تعلق رکھتی ہوں۔
٭ پاکستان ویمن  فورم کویت کی ایونٹ منیجر فوزیہ باسط کہتی ہیں کہ خواتین کا عا لمی دن  یہ پیغا م لیکر آتا ہے" وجو د زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"۔  خو ا تین ہمارے معا شر ے کاتقریباً  نصف ہیں،  اسکے با وجو د خو ا تین کے حقو ق ادا نہیں کیے جاتے۔ آ ج کے ا س تر قی یا فتہ دو ر میں بھی خو ا تین کی سما جی ا ہمیت دوسرے درجے کے فر د جیسی ہے ۔
یہ حقیقت ایک عا لمگیر سچائی کی صو رت میں سا منے آچکی ہے کہ وہی معا شرے بہتر طور پر تر قی کر سکتے ہیں جن میں خو اتین کی اہمیت کی سچائی کو تسلیم کیا جا تا ہے۔ آ ج بھی عورت معا شرے کے ہا تھو ں دکھ اٹھاتی ہے،کہیں چولھا پھٹ جا نے سے ،کہیں چہر ے پر تیزاب پھینک کر چہرہ بگاڑ دیا جا تا ہے ،کہیں کم سن بچیو ں کو ونی کی بھینٹ چڑ ھا دیا جا تا ہے جبکہ آ ج کی عورت نے ہر میدان میں کا میا بیوں کے جھنڈ ے گا ڑ ے ہیں۔  
یہ با ت خوش آئند ہے کہ عرصہ تک نظر اندازکیے جا نے کے بعد اب خواتین کوترقی کے دھارے میں لا نے کے لیے سنجیدہ کو ششیں ہو رہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ خوا تین کی ترقی کے حوالے سے ہم اپنے کردار کو محض دعوئوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ ایسا کر نے سے خواتین کی حا لت بہتر ہو گی اورمعا شرتی اور سما جی ترقی میں بہتر اور فعال کردار ادا کر سکیں گی۔
٭ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان قرأت و نعت کونسل برائے خواتین کویت کی صدر مسز روبیلہ غزل نے کہا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور معاشرتی ترقی میں خواتین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔دین اسلام نے عورت کو جس مقام، مرتبے اور عزت سے نوازا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔اسلام حقوق نسواں کا سب سے بڑا علمبردار ہے اس لئے اس نے عورت کیلئے ماں، بہن، بیٹی  اور بیوی کے حقوق کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔
عورت کی عزت صرف اور صرف اسلام کی متعین کردہ حدود میں رہ کر ہی محفوظ ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہے اور جسکا حکم دیا گیا ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کو تعلیم سے محروم کر کے اسکے حقوق کی پامالی اور آزادی کے نام پر اسے شو پیس بنا کر اسکے وقار اور عزت کو مجروح کیا جا ریا ہے۔ میڈیا اور اشتہارات میں عورت کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے وہ اسلامی اقدار کے منافی ہے اور معاشرے میں بے راہ روی کی بنیادی وجہ ہے بہ حیثیت ایک عورت میرا پیغام ہے کہ خواتین کے لیے دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک پڑھی لکھی اور دیندار ماں ہی ایک ایسی نسل تیار کر سکتی ہے جس سے کوئی محمد بن قاسم اور کوئی ٹیپو سلطان بنتا ہے۔
٭  پاکستان قرأت و نعت کونسل برائے خواتین کویت کی سیکریٹری جنرل مسز حنا شکیل کا کہنا تھا کہ دنیا کے چمن میں بہار عورت کے دم قدم سے ہے۔ اسلام نے عورت کو سب سے زیادہ اہمیت اور عزت و احترام دیا ہے۔ عورت اتنی عالی مرتبت ہے کہ اسکی گود میں انبیاء   نے جنم لیا اور اللہ نے اسکے قدموں تلے جنت رکھ دی اور اسکے عزت و مقام کو ایک دن تک محدود نہیں رکھا۔
٭  پاکستان قرأت و نعت کونسل کو یت کی ایگزیکٹو ممبر مسز سکینہ عزیز کاکہنا تھا کہ ہمارے دین میں جتنی عزت عورت کو دی گئی ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں دی ہو۔ہمارے نبی ﷺ کی معاشرتی زندگی کو ہی رکھئے ۔ آپ ﷺ نے عورت کو کیا مقام دیا۔
حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا جب آپﷺ کے گھر تشریف لاتیں تو آپﷺ کھڑے ہو جاتے ، ہاتھوں کو چومتے اور اپنے پاس بٹھا تے۔عورت جس روپ (ماں،بہن،بیٹی،بیوی) میںعزت کے لائق ہے کیا ہم آج وہ مقام اور عزت عورت کو دیتے ہیں جو ہمارے اسلام نے دیا ہے؟ذراسوچئے اور کوشش کیجئے کہ عورت کو عزت وتکریم کا وہی مقام دیں جو دین اسلام نے عطا کیا ہے۔ 
پاکستان قرأت و نعت کونسل کویت کی ایگزیکٹو ممبران نوشین اور شفق عزیز نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامی اقدار اور تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی عورت کی ترقی اور عزت و تکریم ممکن ہے۔
 

شیئر: