Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بسنت لوٹ آئی ہے، مگر لاہور وہی رہا یا بدل گیا؟ اجمل جامی کا کالم

بسنت آگئی، منائی جا رہی ہے، خیر ہو! 60 کروڑ روپے تک کی پتنگیں تہوار باقاعدہ شروع ہونے سے پہلے ہی فروخت ہو چُکیں۔
لاہور میں داتا دربار کے گرد مرکزی علاقے سے قدرے دُوری پر مقیم ایک پرانے دوست نے اطلاع دی کہ اس نے اپنے 10 مرلے کے مکان کی چھت بسنت کے تینوں روز بُک کر رکھی ہے۔ تفصیلات پوچھیں تو معلوم ہوا کہ موصوف نے لنچ اور شام کے بار بی کیو کی پیش کش کرتے ہوئے فی روز چھت 25 لاکھ پر بُک کر رکھی ہے اور گاہک ہیں کہ مزید کی پیش کش کرتے ہوئے پُرانی بکنگ کینسل کروانے کا اصرار کر رہے ہیں۔
اندرون میں مشہور چھتوں کا ریٹ تو پوچھنے کا فائدہ ہی نہیں۔ بھلے وقتوں میں ایک ہفتے کے اندر اربوں کی پتنگیں فروخت ہوتی تھیں۔ کاروبار چل نکلتا تھا۔ اب بھی توقع کچھ ایسی ہی ہے۔ امریکہ سے آئی ایک فیملی کے قیام و طعام کا بندوبست کرنا تھا۔ وسط دسمبر میں ان کے آنے کی اطلاع ملی۔ معروف ہوٹلز سے رابطہ کیا، ٹکا سا جواب ملا۔ یعنی، سوری سر! بُکنگ فُل ہے۔ نسبتاً پوش علاقوں کے ریسٹ ہاوسز سے رجوع کیا، معلوم ہوا کہ وہاں ہفتوں پہلے ہی سے کمرے بُک ہوچکے۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے قیام و طعام میں جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو یہاں بھی سرے سے ہی ناں تھی۔ ہم اپنا سا منہ لٹکا کر چُپ سے ہو گئے۔
بھلا ہو ایک مہربان کا جس نے اپنے مہمان خانے کے دروازے کھولے اور یوں ہمارے امریکہ پلٹ عزیزوں کو چند روز کے لیے جگہ ملی۔ نو فروری کے بعد انہیں انہی فل بکنگ والے ہوٹلز میں ٹھہرانے کا ارادہ ہے کیونکہ پھر یہاں معمول کی نشریات چل رہی ہوں گی۔  ظاہر ہے برسوں بعد ایک ایکٹیویٹی جنریٹ ہو رہی ہے، رونق تو لگے گی۔
اس شہر میں کھانے پینے کے علاوہ تفریح کے مواقع ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ تھکے ہارے چہرے بہرحال کسی حد تک کِھل رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ڈور اور پتنگ کی خرید و فروخت  کے ہنگام لمبی دیہاڑیاں بھی لگ چُکیں اور بُکنگ کے نام پر اخیر انت بھی مچ چکی۔ اور تو اور اب بے پناہ سولر لگنے سے چھتوں پر جگہ کی کمی متوسط طبقے کے لیے ایک نیا چیلنج ہوگا۔
سنسکرت کا شبد تھا ’وسنت‘ جسے اب بسنت کہا جا تا ہے۔ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد کی آئینِ اکبری میں بھی اس تہوار کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس دور میں بسنت کو درباری ثقافت کے ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ بہار اور دیگر نسبتیں اپنی جگہ اس ایونٹ کا مان بڑھاتی رہی ہیں۔

سنسکرت کا شبد تھا ’وسنت‘ جسے اب بسنت کہا جا تا ہے۔ فوٹو: اے پی پی

مگر ان دنوں سوشل میڈیا پر جہاں رنگ اور پتنگ زیربحث ہیں وہیں جین زی کو درپیش ایک متوقع چیلنج بھی لطائف کی صورت اختیار کر رہے ہیں، جدید دور میں اے آئی گو کہ تقریباً ہر مدعے پر بنیادی معلومات سکھانے کے لیے کافی ثابت ہورہی ہے تاہم مدعا یہ ہے کہ تہوار پچیس برس بعد ہو رہا ہے تو ان برسوں کے بیچ جنم لینے والے بسنت کی روایت، بسنت سے جڑے تہوار یا اس کی مخصوص زبان و بیان کو کیسے سمجھیں گے؟ یہ زیادہ سنگین مسئلہ ہرگز نہیں، سوشل میڈیا کی زینت اور گپ شپ کا البتہ دلچسپ موضوع ضرور بنا رہے گا، مثلاً تاوا، ڈیڑھ تاوا، گُڈا، مچھر، کُپ، لیپو اور پری جیسی پتنگیں اور ان میں باریک فرق کیسے سمجھا جاوے گا؟  مچھر اور پری سے جڑی جگتیں کون سمجھے گا؟ چھت مل جائے گی، پتنگ اور ڈور بھی دستیاب ہوگی، تلامیں کون ڈالے گا؟ تلامیں ایک خاص ترکیب کے ساتھ مہارت کے ساتھ توازن کے ساتھ کون کسے گا؟
گُڈے کا کچپ کیسے نکالنا ہے؟ کچپ ہوتا کیا ہے؟ استادی کہاں لگتی ہے؟ پتنگ باز کی پتنگ تھام کر ہلکورا دے کر اسے کیسے اوپر پھینکنا ہے؟ گڈی اڑ نکلی تو پھر استادی ٹھمکا لگانے کے لیے بھمیری کیسے لگانی ہے؟ پیچ ڈالنے کی سنہری ترکیبیں کب کہاں استعمال کرنی ہیں؟ پتنگ اگر کنی کھا رہی ہو تو اس کی کنی کیسے فٹ کرنی ہے؟ کہیں چیپی لگانا پڑ گئی تو جدید ساز و سامان کی بجائے جگاڑ کیسے لگانی ہے؟ اور تو اور پتنگ لٹنے کے لیے گانٹی کیسے ڈالنی ہے؟ْ گانٹی پتھر کی ڈالنی ہے یا پلاسٹک کے کسی متروک اوزار کی؟ ساتھ ساتھ چھتیں جڑی ہوں تو پتنگ کیسے لوٹی جاتی ہے؟ بو کاٹا کا موقع کب پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ نعرہ کیسے گونجتا ہے؟ امید ہے اہلیان لاہور نئی جنریشن کو چند گھنٹوں میں یہ فارمولے ضرور ازبر کروا دیں گے۔

جلال الدین اکبر کے عہد کی آئین اکبری میں بھی اس تہوار کا تذکرہ ملتا ہے۔ فوٹو: اے پی پی

میرا مسئلہ البتہ جنریشن زی کی زبان اور پتنگ بازی سے جڑی اصطلاحات اور تراکیب کے بیچ پائی جانے والی گہری خلیج ہے۔ اے آئی یا چیٹ جی پی ٹی خود چل کر تو تلامیں ڈالنے سے رہی۔ کنی کھاتی پتنگ کی طبعیت درست کرنے کو یوٹیوب ٹیوٹوریل عملی طور پر بھی ناکافی ثابت ہوں گے کیونکہ جو لطف استادی ٹھمکے میں ہے وہ ان ایپلی کیشن کے استادی میں کہاں؟
میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا اِدھر گھٹا دیا چاہا اُدھر بڑھا دیا

شیئر: