Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ابھیشیک بچن: جنہوں نے ڈسلیکسیا کو شکست دی اور والد کے سائے سے نکلنے میں بھی کامیاب ہوئے

سنہ 2007 میں ایشوریہ رائے سے ابھیشیک کی شادی پورے ملک کے لیے خبر بنی (فائل فوٹو: انڈیا ٹی وی)
آپ کے والد اگر ’اینگری ینگ مین‘ امیتابھ بچن ہوں اور والدہ جیا بہادری جیسی ماہر اداکارہ ہوں اور آپ اداکاری کو اپنے کریئر کے لیے چنیں تو چیلنج کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ مشکل اور بڑا ہو جاتا ہے۔ آپ کو آپ کی قابلیت پر نہیں بلکہ آپ کو آپ کے والد اور والدہ کے معیار پر پرکھا جاتا ہے۔
ابھیشیک بچّن کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ لیکن ابھیشیک بچن کا پالا صرف اپنے والد کی شبیہ سے ہی نہیں تھا بلکہ ان کے سامنے خانوں کی ایک ایسی چوکڑی (شاہ رخ، عامر، سلمان اور سیف علی خان) تھی جس نے ان کے والد کو بھی چیلنج کیا تھا۔
آج اگر ابھیشیک بچن کو ان کی  پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر دیکھیں تو وہ ایک ایسی زندگی کے ساتھ سامنے آتے ہیں جو سیدھی لکیر کے بجائے کسی خوب صورت راگ کی مانند محسوس ہوتی ہے، جو طرح طرح کے نشیب و فراز سے بھرپور، جس میں ٹھہراؤ بھی ہے اور خود کو نئے سرے سے دریافت کرنے کا سفر بھی نظر آتا ہے۔
ان کے لیے انڈین سنیما کے سب سے مشہور گھرانے میں پیدا ہونا ایک نعمت بھی تھا اور عمر بھر کا امتحان بھی۔
وہ پانچ فروری سنہ 1976 کو اس دور میں پیدا ہوئے جب ان کے والد پورے انڈیا کے نوجوانوں کے سر پر سوار تھے اور ان کی ایک کے بعد ایک فلمیں تاریخ رقم کر رہی تھیں۔
آج  پچاس برس بعد اگر ان کی زندگی اور فلمی کریئر پر نظر ڈالیں تو یہ بات خاصی واضح نظر آتی ہے کہ انہوں نے کس استقلال کے ساتھ اپنی شناخت خود تراشی۔
کسی کے لیے بھی امیتابھ بچّن کے بیٹے کے طور پر پرورش پانا کبھی معمولی نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کے خاندانی دوست انہیں اکثر ایک شرمیلے، کم گو لڑکے کو یاد کرتے ہیں جو مرکزِ نگاہ بننے کے بجائے مشاہدہ کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔
اپنے والد کی بلند قامت آن اسکرین شخصیت کے برعکس وہ قدرے سنجیدہ، قدرے جھجک رکھنے والے اور حد درجہ خود آگاہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بچپن کا کچھ حصہ بیرونِ ملک گزارا، جہاں وہ ڈسلیکسیا جیسے مسئلے سے دوچار رہے۔
عامر خان کی فلم ’تارے زمین پر‘ سے پہلے سیکھنے کی مشکلات پر کم ہی بات کی جاتی تھی۔ لیکن ابھیشیک بچن نے جس طرح اس پر قابو پایا اس سے ان کے اندر وہ حوصلہ ہوا جو آگے چل کر ان کی شخصیت کا اہم حصہ بنا۔ برسوں بعد جب انہوں نے کھل کر ڈسلیکسیا کے بارے میں بات کی تو یہ کسی انکشاف سے کم نہیں تھا۔
ابھیشیک نے جب سنہ 2000 میں فلم ’ریفیوجی‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تو توقعات آسمان کو چھو رہی تھیں۔ مگر یہ فلم انہیں یک لخت سٹار بنانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد آنے والے سال غیر یقینی فیصلوں اور مسلسل تقابل سے بھرے رہے۔
نئے ہزاریے کی ابتدائی دہائی ان کے لیے آسان نہیں تھی۔ چند امید افزا کرداروں کے ساتھ ساتھ کئی بھولی بسری فلمیں بھی آئیں اور میڈیا کا بیانیہ اکثر بے رحم رہا۔ اس دوران جو چیز اکثر نظروں سے اوجھل رہی، وہ ان کی ثابت قدمی تھی۔ وہ بار بار واپس آتے رہے، تجربے کرتے رہے اور سیکھتے رہے۔
ان کی زندگی کا اہم موڑ کسی رومانوی ہیرو کے کردار سے نہیں، بلکہ پیچیدہ اور ڈارک کرداروں سے سامنے آیا۔ فلم ’یووا‘ (2004) نے ان کے بارے میں ناظرین کا نظریہ بدل دیا۔ پرتشدد اور خوفناک کردار للّن سنگھ کے روپ میں ابھیشیک نے جھجکتے ہوئے سٹار کڈ کی شبیہ کو توڑ دیا اور شدت اور حقیقت پسندی کو گلے لگا لیا۔

ابھیشیک نے سنہ 2000 میں فلم ’ریفیوجی‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا (فائل فوٹو: فلم پوسٹر)

یہ ایسی اداکاری تھی جس نے سب کو چونکا دیا۔ پھر فلم ’سرکار‘ (2005) آئی، جس میں انہوں نے اپنے حقیقی والد کے ساتھ آن اسکرین بیٹے کا کردار ادا کیا جو کہ ان کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا تھا۔ مگر انہوں نے ضبط اور ٹھہراؤ کا راستہ اختیار کیا، جہاں ان کی خامشی اور نگاہیں ڈائیلاگ سے زیادہ بولتی نظر آئیں۔ یہ کم گو مگر مؤثر اداکاری تھی، جس پر انہیں قومی اعزاز سے نوازا گیا۔
’کبھی الوداع نہ کہنا‘ کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ کہتے ہیں کہ دلیپ کمار کے بعد وہ پہلے اداکار ہیں جنہیں لگاتار تین سال ایک ہی ایوارڈ ملا۔ لیکن یہاں فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں ’یوا‘، ’سرکار‘ اور ’کھبی الوداع نہ کہنا‘ کے لیے بہترین معاون ادارکار  کا انعام ملا جبکہ دلیپ کمار کو بہترین اداکار کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔
اس کے بعد انڈیا کے معروف ارب پتی کے کردار پر مبنی ان کی فلم ’گرو‘ آئی۔ یہ  ایک ایسی فلم جو کسی حد تک پیش گوئی جیسی محسوس ہوئی۔ ایک چھوٹے شہر سے بڑے خوابوں کے ساتھ نکلنے والے گروکانت دیسائی کے کردار میں ابھیشیک نے خواہش، کمزوری اور اخلاقی پیچیدگی کو نہایت توازن کے ساتھ پیش کیا۔ اس کردار کے لیے انہیں اعتماد اور حساسیت دونوں کی ضرورت تھی اور انہوں نے دونوں کو بخوبی نبھایا۔ گرو آج بھی ان کی سب سے یادگار اداکاریوں میں شمار ہوتی ہے، نہ صرف اس کی کامیابی کی وجہ سے بلکہ اس لیے بھی کہ اس میں ان کی اپنی جدوجہد کی جھلک نظر آتی ہے۔
پیشہ ورانہ ارتقا کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی بھی ہمیشہ خبروں کی زد میں رہی۔ سنہ 2007 میں ایشوریہ رائے سے ان کی شادی پورے ملک کے لیے خبر بنی۔

’کبھی الوداع نہ کہنا‘ کے لیے ابھیشیک بچن بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

بہت سے لوگوں نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ یہ رشتہ زیادہ دنوں جاری نہیں رہے گا لیکن ان کا رشتہ چمک دمک کے پیچھے کا ایسا رشتہ رہا جو باہمی احترام اور ہلکے پھلکے مزاح پر قائم رہا۔ قریبی لوگ اکثر ان کی گھریلو زندگی کی سادگی کا ذکر کرتے ہیں۔
البتہ پچھلے دنوں ان میں علیحدگی کی افواہیں سامنے آئی تھیں لیکن پھر سب نارمل ہے۔
ابھیشیک اپنے حسِ مزاح کے لیے جانے جاتے ہیں۔ چاہے سوشل میڈیا پر خود پر ہنس لینا ہو یا انٹرویوز میں تنقید کو مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرنا، انہوں نے مخالفت کو ٹکر دینے کے بجائے اسے بے اثر کرنا سیکھ لیا۔ یہ اعتماد ابتدا میں نہیں آیا؛ یہ برسوں نظرانداز کیے جانے اور کم سمجھے جانے کے بعد حاصل ہوا۔
’دوستانہ‘ اور ’بنٹی اور ببلی‘ جیسی فلموں نے ان کے مزاحیہ انداز اور فطری اداکاری کو نمایاں کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ صرف سنجیدہ کرداروں تک محدود نہیں۔
حالیہ برسوں میں ابھیشیک نے خود کو نئے انداز سے پیش کرنے میں غیر معمولی وقار دکھایا ہے۔ روایتی سٹار بننے کی دوڑ کے بجائے، انہوں نے کہانی کو ترجیح دی۔

’دوستانہ‘ اور ’بنٹی اور ببلی‘ جیسی فلموں نے ابھیشیک کے مزاحیہ انداز اور فطری اداکاری کو نمایاں کیا (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

’من مرضیاں‘، ’لوڈو‘ اور ’بریتھ‘ جیسے منصوبوں نے انہیں ایسے کردار دیے جن میں گہرائی تھی۔ ان کی اداکاری زیادہ خاموش، زیادہ باطنی اور شاید زیادہ اثر انگیز ہو گئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب فن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، بغیر کسی اضافی بوجھ کے اور یہی آزادی ان کے کام میں جھلکتی ہے۔
ابھیشیک کی فلم ’دلی 6‘ بھی ان کی نمایاں فلموں میں شمار ہوتی ہے جو پہلے تو مقبول نہیں ہوئی لیکن وقت کے ساتھ اس میں پیش کی گئی تہہ داری کو سمجھا گیا۔
دھوم سیریز میں ابھیشیک بچن کے کردار کو کافی سراہا گیا ہے۔ وہ اب تک ریلیز ہونے والی تینوں دھوم میں نمایاں پولیس کے کردار میں ہیں۔
اداکاری کے علاوہ، کھیلوں سے ان کی محبت، خصوصاً فٹبال اور کبڈی، ان کی شخصیت کا ایک اور رخ سامنے لاتی ہے۔ بطور ٹیم اونر وہ صرف نام کے لیے نہیں بلکہ حقیقی جذبے کے ساتھ جڑے رہے اور جیت کو ایک سچے مداح کی طرح مناتے نظر آئے۔

ابھیشیک اب تک ریلیز ہونے والی تینوں دھوم میں نمایاں پولیس کے کردار میں ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

یہ ان کی فطرت کی عکاسی کرتا ہے کہ جب وہ کسی چیز سے جڑتے ہیں تو پورے دل سے۔
اب وہ شاہ رخ خان کے ساتھ فلم کنگ میں آ رہے ہیں اور جہاں شاہ رخ خان کے مداحوں کو اس فلم کا انتظار ہے وہیں فلم کریٹک یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہوں گے کہ ابھیشیک بچن شاہ رخ خان کو کتنی ٹکر دیتے ہیں کیونکہ شاہ رخ خان نے ان کے والد امیتابھ بچن کو فلم ’محبتیں‘ میں ٹکر دی تھی۔

شیئر: