Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نجی شعبوں میں سعودی اکاﺅنٹنٹس کا تناسب 5 فیصدسے زائد نہیں ، سروے رپورٹ

جدہ ..... اکاﺅنٹس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے میں سعودی اکاﺅنٹنٹ 5 فیصد سے زیادہ نہیں ۔ متعلقہ ادارے اس شعبے میں سعودائزیشن کے لئے خصوصی توجہ دیں ۔ المدینہ اخبار کی جانب سے جاری سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکاﺅنٹس کا شعبہ انتہائی اہم ہے جبکہ مملکت میں اس اہم شعبے میں زیادہ تر غیر ملکی کام کررہے ہیں ۔ وزارت محنت کی جانب سے اکاﺅنٹس کی سعودائزیشن کےلئے جامع اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے بیشتر سعودی اکاﺅنٹینٹس ابھی تک بے روزگار ہیں ۔طائف یونیورسٹی کے شعبہ اکاﺅنٹس کے پروفیسر سالم باعجاجہ کا کہنا تھا کہ متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ اس جانب خصوصی توجہ دیں تاکہ اکاﺅنٹنگ میں سعودیوں کو روزگار مہیا کیا جاسکے ۔ نئے فارغ التحصیل ہونے والوں کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کر کے انہیں نجی شعبے میں عملی تربیت کے ساتھ روزگار بھی مہیا کیاجائے تاکہ وہ فیلڈ کا تجربہ بھی حاصل کر سکیں ۔ ایک اور سروے میں اکاﺅنٹس کے حوالے سے اعداد وشمار بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نجی شعبے میں اس وقت ایک لاکھ 60 ہزار اکاﺅنٹینٹ رجسٹرڈ ہیں جن میں سے سعودیوں کی تعداد 30 فیصد سے زیادہ نہیں ۔ کامرس کے ایک فارغ التحصیل طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک بے روزگار ہے کئی جگہ درخواست دی ہے مگر عملی تجربہ نہ ہونے سے روزگار نہیں ملا ۔ اس حوالے سے ایک اور امیدوار کا کہنا تھا کہ جب تک ہم فیلڈ میں کام نہیں کریں گے تجربہ کس طرح حاصل کیا جاسکتا ۔ نجی شعبے میں ڈگری سے ساتھ تجربے کو اہمیت دی جاتی ہے ۔ محمد المالکی کا کہنا تھا کہ بعض کمپنیوں میں انتہائی اعلی تنخواہوں پر غیر ملکیوں کو ملازم رکھا گیا ہے جبکہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تجربہ لاﺅ ۔ ہمارا سوال ہے کہ جب تک کام نہیں دو گے تجربہ کہا ں سے حاصل کریں ۔ المالکی کا کہنا تھا کہ جس تنخواہ پر ایک غیر ملکی اکاﺅنٹنٹ کام کررہا ہے اس پر 3 سعودیوں کو روزگار مل سکتا ہے ۔کامرس کے ایک اور فارغ التحصیل طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے بے روزگار ہے اگرچہ اکاﺅنٹنگ کر چکا ہے مگر عملی تجربہ نہ ہونے پر ہمیں روزگار نہیں مل رہا ۔ وزارت محنت اس جانب خصوصی توجہ دے اور اس شعبے میں سعودائزیشن کرے تاکہ ہمیں روزگار مل سکے ۔ واضح رہے گزشتہ دنوں سعودی اکاﺅنٹ کمیٹی کے سیکرٹری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بے روزگار سعودی اکاﺅنٹیٹنس کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے اور اس جانب متعلقہ ادارے توجہ دیں ۔

شیئر: