صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں آپریشن پر غور، ایران کی ’احمقانہ‘ تجویز کے بعد جنگ بندی خطرے میں
صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں آپریشن پر غور، ایران کی ’احمقانہ‘ تجویز کے بعد جنگ بندی خطرے میں
پیر 11 مئی 2026 20:16
تہران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی ختم کی جائے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی امن تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’احمقانہ‘ قرار دے دیا ہے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے معطل شدہ فوجی مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
پیر کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن تہران پر اس وقت تک دباؤ برقرار رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران آخر کار ’سرنڈر‘ کر دے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر ’پروجیکٹ فریڈم‘ دوبارہ شروع ہوا تو اس کا دائرہ کار صرف تجارتی جہازوں کو راستہ فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں توسیع کی جائے گی۔
یاد رہے کہ یہ آپریشن گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، تاہم سفارتی کوششوں کے لیے اسے 48 گھنٹے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایران کے ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال کو ایک ایسے مریض سے تشبیہ دی جو آخری سانسیں لے رہا ہو۔
ان کا کہنا تھا ’جنگ بندی اس وقت 'لائف سپورٹ' پر ہے، جہاں ڈاکٹر آکر کہتا ہے کہ جناب، آپ کے پیارے کے زندہ بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد ہیں۔‘
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
تہران نے جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایرانی ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، حملے روکے جائیں، ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں۔ تیل کی برآمدات پر لگی رکاوٹیں ختم کی جائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مطالبات کو ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
اتوار کی شام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز کی فوری تردید کے بعد پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ 10 ہفتوں سے جاری یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے جس سے آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے سے تجارت بری طرح متاثر ہوگی۔
امریکہ نے تجویز دی تھی کہ پہلے لڑائی روکی جائے اور اس کے بعد متنازع امور، بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اپنے جوہری ذخائر کو خود ٹھکانے لگانے کی صلاحیت نہیں ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں اس کے لیے امریکی مدد کی ضرورت ہے۔