تیل و گیس کے ذخائر

پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت کرنے کی تگ و دو قیام پاکستان کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی۔ اس زمانے کے لیڈروں نے اس امر کا ادراک اسی وقت کرلیا تھا کہ اگر تیل و قدرتی گیس کے شعبہ میں خودکفیل ہوگئے تو ملک تیزی سے ترقی کریگا۔ اس دوران ملک بھر میں تیل کے کنوﺅں کی کھدائی کا عمل شروع کیا گیا ۔ اگرچہ بھرپور طریقے سے تیل نہیں نکالا جاسکا لیکن بلوچستان میں قدرتی گیس کا اتنا بڑا ذخیرہ دستیاب ہوگیا کہ آج پورا ملک اسکے ثمرات حاصل کررہا ہے۔
پاکستان میں تیل کے کنوﺅں کی کھدائی کا سلسلہ جاری ہے اور زیادہ تر توجہ سندھ پر دی گئی ہے۔ ذخائر کی دریافت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں پاکستان ٹاپ کے5ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ 
گلوبل آئل اینڈ گیس ڈسکوریز ریویو 2017ءکی ایک رپورٹ کے مطابق 2017ءکی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان نے تیل و گیس کے 2بڑے ذخائر دریافت کئے ہیں جبکہ سال کی آخری سہ ماہی میں 4مزید ذخائر دریافت کئے گئے۔
پاکستان نے یہ جو نئے ذخائر دریافت کئے ہیں اسکے نتیجے میں تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں اضافے سے درآمدات میں کمی اور قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی مقامی طلب کو بھی پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
ملک میں گیس اور پٹرول کی طلب روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی جارہی ہیں۔ آبادی میں تیز رفتاری سے اضافہ بھی اسکا سبب ہے۔ گیس سے نہ صرف گاڑیاں چلائی جارہی ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کیلئے بڑے جنریٹرز بھی چلائے جارہے ہیں اسلئے ملک کو تیل اور گیس کے کنوے کھودنے کی رفتار تیز کرنا ہوگی۔ ان کوششوں سے اگر چند کنوﺅں سے بھی خاطر خواہ مقدار میں گیس اور تیل مل جاتا ہے تو نہ صرف ملک ترقی کرلے گا بلکہ یہ سب درآمد کرکے اپنے غیر ملکی قرضوں سے بھی نجات حاصل کرسکے گا۔
اس وقت بڑا مسئلہ قرضوں کی واپسی کا بھی ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں 25فیصدکمی کے نتیجے میں قرضے بھی بڑھ گئے ہیں۔ امید کرنی چاہئے کہ آنے والی نئی حکومت تیل تلاش کرنے کے اس شعبے پر بھی زیادہ توجہ دے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭
 

شیئر: