بندر اپنے مردہ دوست کی سانس بحال کرانے کیلئے کوشاں

کھر گاؤں، مدھیہ پردیش....  موت کسی کی بھی ہو  بہرحال افسوسناک ہوتی ہے اس میں انسان اور جانور کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ دوستوں اور عزیز و اقارب کی موت پر سوگوار ہونا قدرتی عمل ہے اور یہ عمل انسانوں تک محدود نہیں۔ جس کا ثبوت یہاں ایک حادثے کے بعد لوگوں نے بڑے غم و افسوس کے ساتھ دیکھا۔ تفصیلات کے مطابق یہاں ایک بندر اپنی عادت اور فطرت کے مطابق اچھل کود کررہا تھا کہ اسے بجلی کے کھمبے پر چڑھنے کی سوجھی اور اس کوشش میں اسے کرنٹ لگ گیا جس سے وہ زمین پر گرا  اور فوری طور پر ہلاک ہوگیا۔ لوگوں کا کہناہے کہ بندر کھمبے کی بلندی سے نیچے گرتے ہی مر چکا تھا اور جسم کا اچھا خاصا حصہ جلا ہوا نظرآرہا تھا۔  یہ صورتحال دیکھ کر کچھ لوگ بھی جمع ہوگئے تھے مگر فوری طور پر ایک دوسرا بندر جو کافی سوگوار نظر آرہا تھا زمین پر گری ہوئی لاش کے قریب پہنچا اور اسے ٹٹول کر دیکھنے لگا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ وڈیو پر جاری ہونے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ  اسکی کوشش تھی کہ اس کے دوست کی سانسیں بحال ہوجائیں مگر اسے کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ کھر گائوں کے  لوگوں نے پورے واقعہ کی وڈیو تیار کرکے نیٹ پر جاری کی ہے۔ مرنے والا بندر سیمیائی نسل کا تھا ۔ موقع پر موجود ایک دیہاتی کا کہناتھا کہ زمین پر پڑی لاش میں کوئی حرکت نہیں تھی مگر اس کے دوست بندر کو یقین نہیں آرہا تھا ۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس  نے انسانوں کی طرح  مرے ہوئے بندر کو  سانس پہنچانے کی کوشش کی۔ مگر کامیاب نہ ہوسکا جس کے بعد اس کے چہرے  پر غم و افسوس کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ گاؤں والوں نے کچھ دیر بعد مرے ہوئے بندر کی مقامی رسم و رواج کے مطابق اسکی آخری رسوم ادا کردی گئیں۔
 
مزید پڑھیں:- - - - -ہمارے نام سے کوئی فیس بک یا ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں، مایاوتی

 

 

 

 

 

 

 

 

شیئر: