تاریخی مساجد کی بحالی: اسلام کے ابتدائی دور کی ’مسجد جواثا‘ کی تعمیرِ نو کا کام مکمل
مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے میں الھفوف شہر کی قدیم ترین ’مسجد جواثا‘ کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کر لیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق مسجد جواثا کا اسلامی تاریخ میں انتہائی اہم مقام ہے۔ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے بعد یہ مدینے سے باہر دوسری جامع مسجد تھی جس میں پہلی مرتبہ نماز جمعہ ادا کی گئی تھی۔
جزیرہ نما عرب میں اس مسجد کی تاریخی اہمیت ہے۔ الھفوف شہر کے شمال میں 20 کلومیٹر دوری پر جواثا کے علاقے میں اس مسجد کی تعمیر اسلام کے ابتدائی دور میں قبیلہ بنی عبدالقیس نے کرائی جو اس وقت الاحساء کمشنری میں آباد تھا۔
تاریخی کتب کے مطابق اولین دور میں مشرف بہ اسلام ہونے والے قبیلہ بنی عبدالقیس کے سردار کا نام المنذر بن عائد تھا جن کا لقب الاشج تھا۔
جب قبیلے کے سردار کو نبی اکرم ﷺ کے ظہور کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے ایک قاصد کو مکہ مکرمہ روانہ کیا تاکہ تفصیلات حاصل کی جا سکیں، قاصد نے واپس آکر حقیقت سے سردار کو مطلع کیا جس پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ساتھ ہی پورا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔

جواثا کا علاقہ اہم تاریخی مقام کی حیثیت کا حامل ہے، ریتیلے ٹیلوں میں گھرے اس علاقے میں کثرت سے آثار قدیمہ بھی پائے جاتے ہیں۔
مشرقی ریجن میں دریافت ہونے والے آثار قدیمہ میں ابتدائی دور کے انسانی آبادی کے آثار بھی ملے ہیں جن میں پتھر کے دور کے چھوٹے اور درمیانے سائز کے آلات شامل ہیں۔ ان کے بارے میں تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ سات سے آٹھ ہزار سال قبل از مسیح کے ہو سکتے ہیں۔
عہدِ رفتہ میں جواثا کو علاقے میں اہم مقام حاصل تھا یہاں تجارتی قافلوں کی آمد و رفت ہوتی تھی، کھجوروں کے علاوہ زرعی اجناس اور مختلف اقسام کی خوشبویات وغیرہ شامل تھیں۔

مسجد جواثا کو مختلف ادوار میں تعمیر کیا جاتا رہا۔ فلاحی تنظیم ہیریج فاؤنڈیشن کے زیرانتظام اس مسجد میں ترقیاتی امور انجام دیے گئے۔
بعد ازاں رائل کمیشن جبیل اینڈ ینبع کی جانب سے علاقے کی دیگر مساجد کے ساتھ اس مسجد میں بھی ترقیاتی کام کیے گئے۔ تاہم اب اسے ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے تحت ازسر نو تعمیر کیا گیا ہے اور مسجد کی قدیم شناخت کو برقرار رکھا گیا ہے۔
