Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جب آوے کا آوا بگڑ جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے

عنبرین فیض احمد۔ ینبع
    الیکشن کے زمانے میں سوچا یہی جاتا ہے کہ ووٹ کسے دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ان حالات میں تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین لیاجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کس پر بھروسہ کریں ، کس پر اعتبار۔ سیاستدانوں کی اکثریت اپنا اعتبار کھو چکی ہے ۔ انتخابات سے پہلے گھر گھر ، گلی، محلے میں جاکر مسائل حل کرنے کے وعدے اور دعوے کرنیوالے امیدوار الیکشن جیت کر اس طرح غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ غریب عوام کو جمہوریت کے نام پر خوبصورت اور دلفریب دھوکہ دیا جاتا ہے ۔ چکنی چپڑی باتیں کرکے ووٹ حاصل کیا جاتا ہے پھر منتخب ہونے کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے ۔
    عوام کو جب بنیادی سہولتیں ہی حاصل نہیں ہونگی ، انہیں بجلی نہیں ملے گی، روزگار میسر نہیں ہوگا، مہنگائی کے تحفے ملتے رہیں گے ، بدامنی عروج پر ہوگی، دہشت گردی کے باعث عوام کا سکون غارت ہوچکا ہوگا، ایسے میں ظاہر ہے ہر کسی کو مستقبل تاریک ہی دکھائی دے گا۔ دور دور تک مایوسی کے سائے منڈلانے لگیں گے۔ غربت میں اضافہ اور لاقانونیت جیسے مسائل دیکھ کر ہی عوام اپنے ہی منتخب کردہ نمائندوں کو پانچ سال تک برا بھلا کہتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔ پھر انتخابات کے موقع پر قوم پانچ برسوں میں اپنا حشر بھول کر الیکشن سے ایک نئی امید ، نئی آس لگاکر پھر لائنوں میں لگ جاتی ہے ۔ وہ پھر انہی آزمائے ہو ئے سیاستدانوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
     سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سیاسی پارٹیوں میں سے کسی کو بھی عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں۔ کوئی بھی پارٹی انہیں حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ہر ایک کو اقتدار کی کرسی ہی عزیز ہے۔ شکست کھانے والے دھاندلی کا واویلا کرتے ہیں۔ ملک میں انقلاب کے نعرے بلند ہورہے ہیں ، ایک دوسرے پر تنقید کے تیر برسائے جارہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں منتخب ہونے والے وفاقی اور صوبائی نمائندوں کی کارکردگی کے پیش نظر بلدیاتی انتخابات میں عوام کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
    دھنک کے صفحے پر جو تصویر شائع کی گئی ہے وہ کراچی کی مصروف و معروف شاہراہ جہانگیر روڈ کی ہے جو کچرا کنڈی بنی دکھائی دیتی ہے۔ جابجا گندا پانی کھڑا نظر آرہا ہے۔ اگر سیاسی امیدوار ان سڑکوں پر پیدل چلیں تو انہیں عوامی مسائل کا اندازہ ہو کہ عوام ان راستوں پر کتنی مشکلات جھیل رہے ہیں۔ بس غریب عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے طرح طرح کے نعرے لگائے جاتے ہیں ۔کبھی روٹی، کپڑا اورمکان دینے کا وعدہ کیا جاتاہے تو بھی مفت تعلیم و صحت سہولتوں کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ یوں عوام کو بیوقوف بنایاجاتا ہے اور اپنا مقصد حاصل کرلیاجاتا ہے پھر وہ پلٹ کر عوام کو نہیں پوچھتے کہ ان کا کیا حا ل ہے ۔ووٹ مانگتے وقت روٹی ، کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والوں نے عوام سے روٹی ہی چھین لی۔ سیاسی قائدین نے ہر دم عوام کو یہ باور کرایا کہ مسائل حل کرنے کیلئے وقت درکار ہے بس اقتدار مل جائے ، پھر وہ کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔ ان کے وعدے اور دعوے عوام کا منہ ہی چڑاتے رہتے ہیں۔ عوام کی خون پسینے کی کمائی سے عوام کے مسائل کی بجائے اپنے مسئلے حل کرتے ہیں، پہلے لکھ پتی، پھر کروڑ پتی اور پھرارب پتی بنتے چلے جاتے ہیں ، وہ اندرون و بیرون ملک اپنے محلات قائم کرلیتے ہیںاور اپنی زندگی کو عیش و نشاط سے معمور کر لیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس پیسے پر وہ عیش کر رہے ہیں، اسی پیسے سے ملک کے غریب عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینا ان کی ذمہ داری تھی ۔اس پیسے پر جن کا حق تھا وہ کسمپرسی کی حالت میں زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے وطن عریز کو زراعت کے حوالے سے مالا مال فرمایا ہے۔ یہاں گندم، چاول اور دیگر اناج وافر مقدار میں موجود ہے ۔ کپاس کی فراوانی ہے ، ساتھ ہی ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر کافی وسیع ہے۔ اس کے باوجود حالت یہ ہے کہ ملک کے لاکھوں افراد ایسے ہیں جنہیں عیدجیسے تہواروں پر بھی نیا کپڑا پہننا نصیب نہیں ہوتا۔ ایسے میں بھلا ان عوام کومکان کون دے گا؟لاکھوں ا فراد جھونپڑیوں اور ندی نالوں کے اطراف گندگی کے ڈھیروں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دھوکہ باز سیاستدانوں کو مسترد کردیں جنہوں سبز باغ دکھا کر صرف اور صرف عوام کو بے وقوف بنایا ہے۔ کرپٹ سیاستدانوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے عوام ہی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ جب تک ملک میں ایماندار، مخلص اور صحیح قیادت نہیں آئے گی تب تک حالت زار نہیں بدلے گی ۔ جب تک عوام میں شعور بیدار نہیں ہوگا،اس وقت تک نہ ان کی قسمت بدلے گی اور نہ ہی خوشحالی آئے گی بلکہ وہ یونہی مشقت و مسائل کی چکی میں پستے رہیں گے۔
    ہمارے وطن میں ایسے مفاد پرست بھی موجود ہیں جو اپنی سیاسی دکانیںچمکانے کے لئے لوگوں کو رنگ و نسل، زبان اور قومیتوں کی بنیادوں پر تقسیم کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ عوام کو اس امر کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا کہ ان کے درمیان ایسے ایماندار اور مخلص لوگ بھی موجود ہیں جولٹیرے نہیں بلکہ کاروبار حکومت زیادہ بہتر انداز سے چلا سکتے ہیں۔
 

شیئر: