Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کے غزہ سے انخلا کے منصوبوں کے باعث جنگ بندی مذاکرات روکے گئے، فلسطینی ذرائع

اس سے قبل جمعرات کو جنگ بندی مذاکرات کے پیچدگی کا شکار ہونے کی خبریں سامنے آئی تھیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے بالواسطہ طور پر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان مذاکرات سے متعلق معلومات رکھنے والے دو فلسطینی ذرائع نے سنیچر کو کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سرزمین میں فوج رکھنے کی تجویز کی وجہ سے بات چیت میں تعطل آیا ہے۔
دونوں اطراف کے وفود نے گزشتہ اتوار کو قطر میں بات چیت کا آغاز کیا تھا تاکہ 21 ماہ سے جاری تنازع کو عارضی طور پر روکنے کے لیے اتفاق کیا جا سکے۔
حماس اور اسرائیل دونوں کا کہنا ہے کہ 60 روزہ جنگ بندی معاہدہ ہونے کی صورت میں دس یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔
ایک باخبر فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کا غزہ سے اپنی تمام فوجیں واپس بلانے سے انکار کسی بھی قسم کی پیش رفت میں رکاوٹ کی بڑی وجہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل کے اصرار کے باعث دوحہ میں ہونے والی بات چیت پیچیدہ مشکلات کا شکار ہے۔ جمعے کو (اسرائیل) نے انخلا کا نقشہ پیش کیا جو دراصل حقیقی معنوں میں انخلا کے بجائے اسرائیلی فوج کی دوبارہ تعیناتی کا نقشہ ہے۔‘
جبکہ حماس نے اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی وفد نے مذاکرات میں جو نقشہ پیش کیا اس کے تحت 40 فیصد سے زائد فلسطینی سرزمین پر فوجیں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ’حماس کا وفد اسرائیلی نقشوں کو قبول نہیں کرنے گا۔ کیونکہ ایسا کرنا غزہ کی پٹی پر قبضہ اور اس میں الگ تھلگ زونز بنانا جہاں نقل و حرکت کی آزدی نہ ہو، قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ثالثوں نے دونوں فریقین سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف کی دوحہ آمد تک بات چیت ملتوی کر دیں۔
ایک اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ کو مزید امداد کی رسائی کےحوالے سے ’کچھ پیش رفت‘ ہوئی ہے۔
تاہم ذرائع نے اسرائیلی وفد پر الزام عائد کیا کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، اور ’لوگوں کو قتل کرنے کی اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔‘

 

شیئر: