مشرقی پہناوے ، مشرقی روایات کے امین

موسم تیزی سےبدل رہا ہے اور گرمی کازور ٹوٹ رہا ہے .  سرمئی شامیں اور راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی ہیں  .  موسم کی یہ تبدیلی  ملبوسات میں بھی جھلک رہی ہے  اور مختلف برینڈز  کی کولیکشن  مارکیٹ میں   متعارف ہو رہی ہے .  اس موسم کی کولیکشن میں گہرے  شوخ رنگ استعمال کیے جاتے ہیں  . اگر چہ موسم اور ملبوسات کا  ساتھ ہمیشہ برقرار رہتا ہے تاہم  پریٹ اور پارٹی ویئر ملبوسات کی مانگ کسی بھی موسم میں کم نہیں ہوتی  کیونکہ تقریبات میں جو شان ان ملبوسات کی ہوتی ہے وہ موسمی ملبوسات کی نہیں ہوتی .  پارٹی ملبوسات عموماً پیور سلک ،  شیفون ، جارجیٹ ، جاماوار ، نیٹ اور دیگر میٹیریل میں دستیاب ہوتے ہیں .  جس میں شیفون ایمبرائیڈری کے لیے سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے .  ایمبرائیڈری کا رواج اگرچہ ہمیشہ سے چلا آرہا ہے تاہم  ڈیزائنرز اس کے انداز میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں . ایمبرائیڈری کسی بھی  کولیکشن کو جاذب نظر بناتی ہے .  ہاتھ کے بجائے مشینی کڑھائی کا فیشن عام ہے .  سیلف پرنٹس کافیشن بھی ان ہے  جس کے ساتھ ساتھ فلورل پرنٹس بھی پسند کیے جاتے ہیں .  پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی ترقی میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے .  مختلف برینڈز نے  مغربی طرز  کے پہناووں کے مقابلے میں  مشرقی پہناوے متعارف کروا کر  ماضی اور روایت سے تعلق برقرار رکھا ہے .
یہ بھی پڑھیں:حجاب ، فیشن اور وقار کی علامت

شیئر: