بحیرہ احمر میں دنیا کے سب سے بڑے نایاب ’لیدر بیک سمندری کچھوے‘ کا مشاہدہ
کچھوا القنفذہ سے 30 کلومیٹر دور بلیو ہولز پروٹیکٹڈ ایریا میں دیکھا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف نے بحیرہ احمر میں نایاب اور معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ’لیدر بیک سمندری کچھوے‘ کا منفرد مشاہدہ ریکارڈ کیا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کچھوا القنفذہ کمشنری سے تقریبا 30 کلومیٹر دور بلیو ہولز پروٹیکٹڈ ایریا میں دیکھا گیا۔
نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف بحیرہ احمر میں اس نوعیت کے مشاہدات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ ’لیدربیک سمندری کچھوا‘ دنیا کا سب سے بڑا سمندری کچھوا مانا جاتا ہے جس کا وزن تقریبا 900 کلو گرام تک ہوتا ہے۔
یہ کچھوا ایک ہزار میٹر سے زائد گہرائی تک غوطہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کچھوے کی کالی چمڑے جیسی جلد اور کمر پر موجود پانچ نمایاں ابھار اس کی خاص شناخت ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ کچھوا خوراک کی تلاش میں ہزاروں کلومیٹرکا سفر کرتا ہے۔ اس کی مرغوب غدا جیلی فش ہے جبکہ قدرتی رہائش جنوبی افریقہ کے قریب بحرہند، سری لنکا اور انڈیا کے جزائرانڈیمان میں ہے۔

بحیرہ احمر میں اس نسل کا ریکارڈ نہیں ہے،امکان ہے کہ یہ کچھوا باب المندب عبور کرکے خوراک کی تلاش میں یہاں تک پہنچا ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر( آئی یو سی این) کے مطابق ’لیدر بیک سمندری کچھوا‘ بحرہند میں معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے جبکہ بحیرہ احمر اور خلیج عربی میں اس کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔
دسمبر 2025 میں اس نایاب کچھوے کا مشاہدہ اردن میں کیا گیا جبکہ دسمبر 2019 میں جیبوتی کے ساحل پر اس کی موجودگی دیکھی گئی تھی۔
