Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملک کی موجودہ صورتحال

*** خلیل احمد نینی تال والا***
آج سے تقریباً 35سال قبل انشورنس کمپنی کے ایک چیف ایگزیکٹو سے ملنے کا اتفاق ہوا اور کافی گپ شپ ہونے لگی۔ ایک دن میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ اس بڑے عہدے تک کیسے پہنچے ۔اُس نے بتایا کہ میں اسکول کے زمانے ہی سے بہت ڈھیٹ قسم کا طالب علم تھا۔ جو بات میرے دماغ میں سما جاتی تھی میں جب تک اُس کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا دیتا مستقل لگا رہتا تھا ۔یہاں تک کہ کالج کے ڈگری بھی مل گئی ۔بہت جگہ نوکری کی ٹرائی کی مگر نہیں ملی ۔ایک دن اخبار میں انشورنس کمپنی کا اشتہار پڑھا نہ چاہتے ہوئے بھی درخواست دے ڈالی ۔سوچا کہ اگر نوکری مل گئی تو صحیح بعد میں اچھی نوکری ملنے پر چھوڑ دونگا۔چند دن بعد انٹرویو کا خط ملا۔ کمپنی بہت بڑی تھی ۔کافی لمبی قطار میں نوجوان اپنے باری کیلئے انتظار کررہے تھے ۔کافی دیر بعد میرا نمبر آیا ۔3 افراد انٹرویو لے رہے تھے تو رہے سہے اُوسان بھی خطا ہوگئے ۔کس کس کو مطمئن کرپائو ں گا ۔دل میں سوچ لیا کہ یہ نوکری تو اب لینی ہی ہے ۔انٹرویو شروع ہوا ۔پہلا سوال یہ تھا کہ عام افراد انشورنس کروانے سے کتراتے ہیں توآپ کیسے ان کو انشورنس کروانے پر آمادہ کرینگے ۔میں نے جواب دیا کہ میں انشورنس کے فوائد گنوائوں گا ۔مثلا ً آپ کو بچت کے ساتھ ساتھ آپ کی رقم معہ منافع آپ کو واپس ملے گی ۔اگر وہ نہ مانے تو میں اور دلیلیں دونگا۔دوسرا سوال کیا: اگر آپ کو وہ غصہ سے دفتر یا گھر سے نکل جانے کو کہے تو آپ کیا کہیں گے ،تو میںنے کہا کہ میں پھر بھی اپنے دلیلیں اور فوائد کا سلسلہ بڑھادونگا اور اگر وہ اُٹھ کر آپ کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی گھریادفتر سے نکال دے تو میں پھر بھی اپنا مؤقف بتانے کی بھر پور کوشش کرونگا ۔میر ا جوا ب سنتے ہی وہ تینوں اُٹھ کھڑے ہوئے، ہاتھ بڑھایا اور نوکری پکی کرنے کی مبارک باد پیش کی ۔پھر میں نے اتنی محنت کی کہ ترقی کرتے کرتے چیف بن گیا ۔میںنے سوال کیا کہ آپ کے ساتھ اس دوران کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوا کہ آپ ناکام بھی ہوئے ۔وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ صرف ایک مرتبہ ناکام ہوتے ہوتے رہ گیا ۔مجھے ایک کلائنٹ نے ایک مرتبہ گھر سے اُٹھاکر باہر پھینکا۔ دوسری مرتبہ دفتر کے سڑھیوں سے اور تیسری مرتبہ چلتی گاڑی سے مگر چوتھی مرتبہ تنگ آکر انشورنس کرواڈالی۔
یہ قصہ سنانے کامقصد یہ تھا کہ ہمارے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی کی یادیں تازہ کررہا ہوں ۔اُن کو پہلے غلام اسحاق خان نے 2مربتہ کرپشن پر سبکدوش کیا پھر جنرل پرویز مشرف نے سبکدوش کردیا، پھر وہ دوبارہ 2013میں اقتدار میںآئے تو عمران خان نے دھرنے دینے شروع کردیئے ۔اُن سے بمشکل نکلے تھے کہ درمیان میںپانامہ کا کیس آگیا اور سپر یم کورٹ نے اُن کو برطرف کردیا ۔اب عمران خان کی حکومت آئی تو اپوزیشن آل پاکستان پارٹی کانفرنس بلانا چارہی تھی ۔مولانا فضل الرحمن بڑے زوروشور سے زرداری اور نواز شریف کو منانے میں لگے ہوئے تھے مگر دونوں پارٹیوں نے فی الحال موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بھی احتجاج کرنے سے انکار کردیا اور اس طرح اے پی سی ملتوی کردی گئی ۔ابھی شور جاری تھا کہ سپر یم کورٹ نے آسیہ کیس کا فیصلہ سنا دیا اور اُس کو بری کردیا ۔پھر کیا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی جماعتوں نے پورے ملک میں جلسے و دھرنے دینے شروع کردیئے ہیں۔آسیہ مسیح کیس میں اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم 3 رُکنی بنچ نے ذیلی عدالت اور بعد ازاں ہائی کورٹ کی توثیق کردہ سزا ئے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل سنتے ہوئے آسیہ مسیح کو توہین رسالت کیس میں بری کردیا اور ان کی رہائی کا حکم دیدیا ہے ۔اس فیصلے پر وہ طبقہ جس کو لبرل ،روشن خیال یا جدید انسانی حقوق کا علمبردار کہاجاتا ہے ، خوشی کا مظاہر ہ کررہا ہے ۔ مسلمان ہر ظلم برداشت کرتے رہیں گے لیکن اگر نہیں برداشت کریں گے تو اپنے آقا مولا کے شان میں گستاخی کی صورت برداشت نہیں کریں گے ۔کیوں بار بار آزماتے ہو ؟کیوں بار بار خواب غفلت میں سوئے ان شیروں کو جگاتے ہو؟کب تک یہ کھیل کھیلو گے ؟کب تک آزمائو ں گے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سمجھوتہ ناممکن ۔عدلیہ اور حکومت صدا نہیں رہے گی ۔موت آنی ہے اور آکر رہے گی۔وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہئے تھا کہ وہ ٹی وی پر آکر کوئی اعلان نہ کرتے۔ انہوں نے بھی تقریباً2مہینے دھرنا دیا مگر اُس وقت کے وزیراعظم نے ٹی وی پر آکر کوئی بیان نہیں دیا ۔عمران خان کو چاہئے کہ وہ ایسے بیانات سے گریز کریں۔ہر حکومت میں جلسے اور دھرنے ہوتے رہتے ہیں ۔
ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کیلئے حکومت جو کوششیں کررہی ہے ۔اُن میں ایک مثبت پیشرفت تو سعودی عرب کے جانب سے 6ارب ڈالر کے پیکیج کے ذریعے ہو چکی ہے اور دیگر دوست ممالک کی طرف سے بھی مثبت اشارے ہیں البتہ اس حوالے سے پاکستان کے قدیم دوست ملک چین کا کردار سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔سی پیک کے ذریعے پاکستان خطے کا معاشی طور پر ایک اہم ملک بننے جارہا ہے ۔ملکی معیشت کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان چینی حکوت کو اعتماد میں لینے کیلئے چین روانہ ہوچکے ہیں ۔جہاں وہ چین کے صدر سے ملاقات کرینگے اور اُس کے بعد پیپلز کانگریس کے چیئر مین سے بھی ملاقات کرینگے ۔اُسکے علاوہ عمران خان کی چین کے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات طے ہے ۔اور چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں بھی شرکت کرینگے اور چین کے صدر امپورٹ ایکسپو میں شریک رہنمائوں کے اعزاز میں ضیافت دینگے ۔عمران خان شنگھائی میں ویت نام کے وزیراعظم سے بھی ملاقات کرینگے اور پاکستانی بزنس فورم سے بھی خطاب کرینگے ۔وزیراعظم کی مصروفیات یہ ظاہر کررہی ہیں کہ ان کی کاوشوں کی نتائچ جلد سامنے آجائیں گے اور وطن عزیز موجودہ اقتصادی بحران سے کافی حد تک باہر آجائیگا اور اگر ایسا ہوگیا تو حکومت کی تمام تر توجہ عوام کی فلاح وبہبود اور اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کی جانب مبذول ہوجائے گی ۔

شیئر: