Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اجودھیا کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی،جسٹس للت نےبنچ سے نام واپس لےلیا

نئی دہلی۔۔۔ سپریم کورٹ میں اجودھیاتنازعہ کیس کی سماعت آج پھرملتوی کردی گئی۔ 5 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں سماعت سے متعلق تاریخ 29جنوری مقرر کردی۔اس درمیان چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت میں تشکیل پانے والی5 رکنی بنچ میں شامل جج جسٹس یو یو للت نے اپنا نام بنچ سے واپس لے لیا ۔ دراصل مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے جسٹس للت کے بنچ میں شامل ہونے پر یہ کہہ کر سوال اٹھایا کہ وہ اجودھیا کیس سے متعلق وکیل کے طور پر پیش ہوچکے ہیں اور وہ 1997میں کلیان سنگھ کیس سے منسلک رہے ۔ اس کے بعد جسٹس للت نے اپنا نام بنچ سے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔جسٹس للت کی جانب سے بنچ سے خود کو علیحدہ کرنے کی خواہش ظاہر کئے جانے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس للت اب اس بنچ میں نہیں رہیں گے لہذا سماعت ملتوی کرنی پڑے گی۔ اب اجودھیا کیس کی سماعت کیلئے نئی بنچ تشکیل دی جائیگی اور ان کی جگہ کسی اور جج کو بنچ میں شامل کیا جائیگا۔ واضح ہو کہ 6جنوری کو چیف جسٹس گگوئی نے اجودھیا تنازع کیس کی سماعت کیلئے 5ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دی تھی جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس این وی رمنا، جسٹس یو یو للت اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ شامل تھے۔
آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران  کیا ہوا؟
سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گگوئی نے بتایا کہ اس کیس میں تمام88افراد کی گواہی ہوگی۔ اس سے متعلق 257دستاویزات پیش کی جائیں گی جو13 ہزار860صفحات پر مشمل ہیں۔ بنچ کو بتایا گیا کہ اصل ریکارڈ بنڈلوں کی شکل میں ہے۔ سی جے آئی نے بتایا کہ بعض دستاویزات ہندی ، عربی، گرومکھی اور اردوزبانوں میں ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان تمام دستاویزات کا ترجمہ مکمل ہوچکا یا نہیں۔ اس سلسلے میں رجسٹری کا ریکارڈ اور تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
مزید پڑھیں:- - - -  -10فیصد ریزرویشن بل دونوں ایوانوں میں منظور،صدر کی مہر کا انتظار

شیئر: