نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر کیخلاف نیب کی اپیل خارج

اسلام آباد:  عدالت عظمیٰ نے نواز شریف، ان کی بیٹی اور داماد کی سزا کالعدم قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب کی جانب سے کی گئی اپیل خارج کردی۔ ذرائع کے مطابق تینوں اہم شخصیات کو ایون فیلڈ رنفرنس میں نیب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر کو معطل کرکے رہائی کا حکم سنایا تھا جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اس حوالے سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے آج کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالتی بینچ نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت منسوخی کے قواعد کے بارے میں بتائیں، ضمانت منسوخی کے پیرامیٹر آپ جانتے ہیں؟ وہ کون سے پیرا میٹر ہیں، جن پر ضمانت خارج ہو سکتی ہے۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ شواہد کے مطابق سزا بھی نہیں بنتی۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے ضمانت دینے کا اپنا اختیار استعمال کیا۔ نیب وکیل نے دلائل کے دوران کہا کہ سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست میں کیس کے میرٹ پر نہیں جایا جاتا، جس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کس بنیاد پر ضمانت منسوخ کریں؟ نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ ہائیکورٹ نے نامساعد حالات کے بغیر ضمانت دے دی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ نیب کے راستے میں کیا مشکل ہے ؟ جبکہ ضمانت کا حکم عبوری ہے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس نے مزید استفسار کیا کہ نواز شریف اس وقت آزاد شخص نہیں، جو شخص آزاد نہیں اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتے ہیں؟نواز شریف نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا اور ٹرائل کورٹ میں مسلسل پیش ہوتے رہے۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیل خارج کردی۔
مزید پڑھیں:- - -  --کن شہروں میں سب سے زیادہ بجلی چور ہیں‘ وزیر توانائی کا انکشاف

شیئر: